پیاس سے بلکتا چولستان


بدقسمتی سے ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہماری آنکھیں ہمیشہ کسی سانحے کے بعد ہی کھلتی ہیں اس سے پہلے ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے وقت کے تھپیڑوں کو سہتے رہتے ہیں۔ اس کی تازہ مثال اس ہلاکت خیز گرمی میں چولستان میں پانی کی کمی کا بحران ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پانی کی کمی نے قحط سالی کی شکل اختیار کر لی ہے جس سے متعدد مویشی ہلاک ہو چکے ہیں اور لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جیسے ہی ان جانوروں کی ہلاکت کی دلدوز تصاویر سوشل میڈیا پر آئیں تو سب کو جاگ آ گئی پنجاب حکومت نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا، پانی کے ٹینکرز وغیرہ بھیجے جانے لگے اور کچھ ہلچل نظر آنے لگی۔

چولستان جس کو مقامی لوگ روہی بھی کہتے ہیں یہاں پانی کی کمی کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ لیکن اس سال غیر متوقع گرمی کی لہر نے اس کی سنگینی میں اضافہ کر دیا ہے اور اس پر ستم یہ ہوا ہے کہ بارش بھی نہیں ہوئی۔ جس سے ہیٹ ویو نے جہاں انسانوں کو متاثر کیا ہے وہاں جانور بھی اس کا شکار ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ چولستان کی معیشت کا دار و مدار جانوروں پہ ہے۔ لوگ مال مویشی پال کر ہی اپنی گزر بسر کرتے ہیں اگر ان کے مویشی ہی مر جائیں گے تو وہ اپنا گزارہ کیسے کریں گے۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا یہ مسئلہ نیا نہیں ہے جب بھی چولستان کے مسائل پر بات کی جائے پانی کی کمی اہم ترین مسئلہ رہا ہے۔ یہاں پانی کا دار و مدار محض بارش پر ہے۔ بارش سے محبت روہی کے لوگوں کی جینز میں شامل ہے۔ اگر بارش برس جائے تو لوگ بچوں کہ طرح خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس بات کا شعور رکھتے ہیں کہ پانی کس قدر انمول نعمت ہے۔ بارش ہو جائے تو روہی کے رنگ نکھر جاتے ہیں اور روہی ”رنگ رنگیلڑی“ بن جاتی ہے۔ اگر بارش نہ ہو تو آپ کو یہاں محض ریت اڑتی نظر آتی ہے اور نقل مکانی کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ پھر بقول شاعر،

ہم جہاں رہتے ہیں وہ دشت وہ گھر۔
دشت لگتے ہیں نہ گھر لگتے ہیں۔

بارش ہو جائے تو پانی کچے تالابوں میں سٹور کیا جاتا ہے جنہیں مقامی زبان میں ”ٹوبھے“ کہا جاتا ہے۔ یہ صدیوں پرانا نظام ہے جس کو اپ ڈیٹ کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی نہ ہی کوئی متبادل ذرائع پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کاوش کسی حکومت نے کی ہے۔ اگر بارش ہو جائے تو انسان اور جانور ایک ہی ”ٹوبھے“ سے اپنی پیاس بجھاتے نظر آتے ہیں۔ اس وقت بارش نہ ہونے سے زیادہ ”ٹوبھے“ سوکھ چکے ہیں۔

یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ یہاں کسی حکومت نے کبھی کوئی واٹر پوائنٹ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی حالانکہ یہاں کی آبادی کو پانی کی ضرورت پنجاب کے کسی بھی علاقہ سے زیادہ ہے۔ اگر اندرون روہی یہ ممکن نہیں تو کم از کم روہی سے ملحقہ دیہات میں تو یہ سہولت دی جا سکتی ہے جہاں سے آبادی اور روہی کے لوگ یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی کو ”ٹوبھوں“ کے بجائے وسیع ڈیمز کی شکل میں محفوظ کرنے کے ممکنات کا جائزہ لیا جائے تاکہ برسات کے موسم میں پانی ڈیمز میں سٹور ہو اور ضائع نہ ہو۔

روہی کی آبادی کی ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہاں فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں۔

روہی کی مقامی نباتات کی ڈی فارسٹیشن بے رحمی سے جاری ہے اس کو فوری روکنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ روہی کا وسیع رقبہ قبضہ مافیا کے استعمال میں ہے جس کو واگزار کروا کر درخت لگائے جانے چاہئیں تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ وقت کی اشد ضرورت ہے کہ چولستان کے لوگوں کی بہتری کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کرے اور ان کو بھی پاکستان کا اول درجے کا شہری سمجھے تاکہ روہی کی روشن روایات کی یہ تہذیب ہمیشہ رواں دواں اور پھلتی پھولتی رہے۔

Facebook Comments HS