نئے مصنف کے نام ایک خط


پیارے مصنف:۔

مجھے کل ہی معلوم ہوا ہے کہ تم ہماری برادری میں نئے نئے وارد ہوئے ہو۔ تمہارا لکھا ہو مضمون جمیل نے لا کر دکھایا، پڑھ کر خوشی ہوئی لیکن چند گزارشات میں کرنا چاہتا ہوں جیسے کہ تمہیں معلوم ہے ہمارے ملک میں مشورہ اور نصیحت بالکل مفت ملتی ہے۔ اس لیے ہر کوئی مشورہ اور نصیحت دیتا ہوا نظر آتا ہے اور شاید مشورہ مفت ہے اس لیے اس پر عمل بھی کوئی نہیں کرتا اور مجھے قویٰ امید ہے کہ میرا مشورہ بھی رائیگاں جائے گا لیکن میں اپنے قومی جذبے کے تحت اس کا استعمال ضرور کروں گا۔ تمھارا مضمون پڑھ کر ایسا محسوس ہوا کہ تم نے جلد بازی میں مضمون لکھا اور کوئی بات کہاں سے لی اور کوئی کہاں سے پھر ان کو بغیر سوچے سمجھے اور ربط کے لکھ دیا۔ جس کو پڑھ کر یہ محاورہ درست لگتا ہے ”کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑہ بان متی نے کنبہ جوڑا“

پیارے مصنف، آج کل ہمارے ملک کے بہترین تنقید نگار نئے نقاد کے نام خط لکھ رہے ہیں اور نوجوان نقاد کی تربیت کر رہے ہیں۔ ویسے تو ہمارے ہاں ہر شخص ہی تنقید نگار ہے اور ہر وقت دوسروں پر تنقید کرتا نظر آتا ہے لیکن تنقید بطور خالص مضمون کے ہمارے ہاں بڑا کمزور ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کچھ مغربی مفکرین کے مرہون منت ہے۔ ہم نے آج تک تنقید کے میدان میں اپنی فکری بحث کا آغاز نہیں کیا لیکن انہوں نے اچھی کاوش کی ہے کہ نوجوان نسل میں تنقید کی فہم اور پڑھنے کی چاہ بڑھائی ہے۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی تم سمجھو گے کہ جو شخص مجھے ربط اور تربیت کا سبق دے رہا ہے اس کی اپنی تحریر بے ربط ہے۔

مصنف بننے سے پہلے میرے نزدیک چند باتوں پر غور کر لینا چاہیے پہلی بات یہ ہے کہ آپ لکھنا کیوں چاہتے ہیں؟ قلم اٹھانے سے پہلے یہ سوال آپ ضرور اپنے آپ سے کریں۔ اگر آپ کے اندر سے آواز آئے کہ آپ اس کی وجہ سے امیر، مشہور ہو جائیں گے تو میرا مفت مشورہ ہے کہ قلم کو ہاتھ نہ لگائیں کیونکہ مصنف بننے کے یہ عوامل ٹھیک نہیں ہیں اگر آپ کے پاس کچھ نئی کہانیاں سنانے کو ہیں یا پھر آپ حساس دل کے ہیں اور آپ اپنے ارد گرد ظلم ہوتا دیکھ کر رنجیدہ اور دکھی ہو جاتے ہیں تو آپ کا قلم جادو دکھا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر لکھنے کے لیے وجہ آپ کے اندر سے آئے نہ کہ آپ کسی کو دیکھ کر اپنا منہ لال کر لیں۔

ایک اور بات قلم اٹھانے سے پہلے یاد رکھیں کہ قلم سے روزی روٹی کمانا بہت مشکل ہے خاص طور پر پاکستان میں کیوں کہ یہاں آپ کو کتابوں پر اکثر معاوضہ نہیں ملتا بلکہ کتابیں آپ کو اپنے خرچہ سے چھاپنی پڑتی ہیں اور مفت تقسیم کرنی پڑتی ہیں۔ اگر آپ اخبار میں کالم وغیرہ لکھنے کا سوچ رہے ہیں تو بھائی یاد رکھیں چند مشہور کالم نگاروں کے، باقی سب مفت میں کالم لکھتے ہیں۔ منٹو سے بڑا مصنف اردو ادب میں نہیں آیا لیکن آپ ان کی زندگی پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے ان کو کتنے مقامی مسائل کا سامنا تھا ان کو ایک کہانی کے 25 روپے ملتے تھے جو کہ آج کے لحاظ سے بہت زیادہ ہیں لیکن وہ منٹو بھی تھے پھر بھی پریشان رہے۔

اگر ہم اردو کے بہترین قلم کاروں کو دیکھیں جیسے امجد اسلام امجد، اصغر ندیم سید، انور مسعود وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی نوکری بھی کرتے رہے اور لکھتے بھی رہے اس طرح بنیادی طور پر وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے قلم کی کمائی پر اکتفاء نہیں کرتے۔ اگر کچھ اور لوگ تھے جو قلم سے کمائی کرتے تھے وہ بنیادی طور پر صحافت کے پیشے سے منسلک تھے یعنی وہ بھی نوکری کرتے تھے۔ اگر آپ قلم سے کمائی کرنا چاہتے ہیں تو صحافت کو پیشہ بنائیں لیکن یاد رکھیں وہاں بھی مقابلہ بڑا سخت ہے۔

پیارے مصنف تم سوچ رہے ہو گے کہ بابا پاگل ہو گیا ہے اور وہ باتیں اٹھا کر بیٹھ گیا ہے جس نے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ قلم سے ناتا توڑ لیں۔ میرے بیٹے میرا ہر گز مقصد یہ نہیں کہ نئے لکھنے والے مایوس ہو جائیں بلکہ میں چاہتا ہوں نئے لکھنے والوں کو پوری صورتحال کا ادراک ہو۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو سوچا تھا کہ میں اس کے ذریعے امیر اور مشہور ہو جاؤں گا اور جب میری پہلی کتاب کی اشاعت ہوئی تھی تو مجھے لگا تھا ”ہم سا ہو تو سامنے آئے“ لیکن میرے بیٹے کچھ بھی نہیں ہوا۔

آج بھی ایک ویب سائٹ پر لکھ رہا ہوں اور خوش ہوں کہ میری آواز دنیا تک پہنچ رہی ہے۔ اب چلتے ہیں کہ نئے مصنف کو کیا کرنا چاہیے اگر وہ اپنی تحریر کو پر اثر، خوبصورت اور دیرپا بنانا چاہتے ہیں تو میرے نزدیک مصنف کو اپنا زیادہ وقت مطالعہ پر صرف کرنا چاہیے۔ ایک اچھا قاری ہی ایک اچھا مصنف بن سکتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بھی اہم ہیں مطالعہ کی عادت بعض مرتبہ آپ کے اندر سستی اور آپ کے تخیل کو مانند بھی کر سکتی ہے۔ اس لیے یہ آپ کو دیکھنا ہو گا کہ آپ نے کتنا مطالعہ کرنا ہے اور کتنا لکھنے کو وقت دینا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے اس موضوع پر پوری گرفت کا ہونا لازم ہے۔ یہاں دو باتیں اہم ہیں اگر آپ کالم لکھتے ہیں تو آپ کے لیے اہم ہے کہ آپ اس موضوع پر اپنا کوئی نظریہ یا رائے رکھتے ہوں کیونکہ آج کے اس معلومات کے دور میں حقائق کو بار بار بیان کرنا ایک کار لا حاصل سے زیادہ کچھ نہیں۔ کالم نگاری کے لیے ضروری ہے آپ اپنی رائے بنانا سیکھیں اور اپنے کالم کے ذریعے مدلل دلائل سے اپنی رائے کو بیان کریں۔

یاد رکھیں رائے، رائے ہوتی ہے لوگ اس سے اختلاف کر سکتے ہیں اپنا دل بڑا رکھیں اور اختلاف رائے سے سیکھیں۔ میرا تو خیال ہے اگر کوئی آپ کے کالم پر منفی رائے بھی دیتا ہے تو خوش ہوں کہ اس نے اس کو پورا پڑھا ہے اور اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ورنہ آج کے دور میں کتنا لکھا جا رہا ہے اور نجانے پڑھا بھی جا رہا ہے کہ نہیں۔ اگر ادب کی فضا پر لکھنا چاہتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ زبردستی نہ لکھیں۔ اس وقت لکھیں جب آپ کو لکھنے کا دل کرے۔ جب آپ زبردستی لکھتے ہیں تو پھر آپ کے کام میں وہ پختگی، روانی اور بے ساختگی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے شاعری میں لفظ قافیہ پیمائی اور تک بندی استعمال ہوتے ہیں۔ آپ غور کریں گے اگر بڑے ادیب نے بھی زیادہ لکھا ہے تو کہیں کہیں اس کا معیار کمزور ہوا ہے۔

مشاہدہ بڑا اہم ہے اپنے مشاہدہ کو وسیع کریں تاکہ معاشرے میں چلتے پھرتے لوگ کردار بن کر آپ کی کہانیوں میں ظاہر ہو جائیں اور پھر ان کرداروں کے ذریعے آپ معاشرے کے اندر موجود دوغلے پن کو دکھا سکیں۔ اگر آپ کا مشاہدہ کمزور ہو گا تو آپ کبھی بھی جدت نہیں لا سکیں گے۔ پھر آپ دوسروں کی بات الفاظ ذرا ادھر ادھر کر کے بیان کرتے رہیں گے۔

سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

صبر کریں۔ آج کل کے نئے لکھنے والے بڑے جلد باز ہیں جلدی مایوس ہو جاتے ہیں۔ آپ کو سیکھنا ہو گا کہ ہر شے کلک پر نہیں ملتی۔ اس لیے اپنے کرافٹ پر کام کریں اور صبر کریں خودبخود آپ کو ہر شے مل جائے گی۔ پیارے مصنف مجھے یقین ہے تمھیں میری کوئی بات بری نہیں لگی ہوگی اگر لگی ہے تو بھائی سچی بات اکثر کڑوی ہوتی ہے۔

تھوڑا سا بزرگ مصنف
ا۔ ب۔ ج

Facebook Comments HS