کیا جتھوں کی لشکر کشی سے مطالبات منوائے جا سکتے ہیں
عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سے لے کر اب تک کے حالات و واقعات اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی جلسوں پریس کانفرنسز میں کی گئی تقاریر اور استعمال کی گئی زبان اور ان کے اعتماد کا اگر جائزہ لیا جائے تو ایک بات تشویشناک حد تک واضح ہوتی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ سمیت اسٹیبلشمنٹ میں کہیں اندر سے اب بھی عمران خان کو کمک کی فراہمی مسلسل جاری ہے۔
رمضان المبارک کے پورے مہینے اور پھر اس کے بعد خان صاحب کے لانگ مارچ تک تحریک انصاف کی قیادت اور اکابرین ایک تواتر سے عدلیہ، اداروں اور سیاسی مخالفین کے خلاف گالم گلوچ کرتے، رقیق قسم کے الزامات لگاتے نظر آئے۔ سوشل میڈیا سائٹس پہ انتہائی غلیظ توہین آمیز ٹرینڈز چلا کر ملک کی معزز شخصیات اور مقتدر اداروں کو تضحیک اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ جھوٹ، منافقت غلط بیانی، اشتعال انگیزی، بیرونی سازش کا بیانیہ تشکیل دے کر 22 کروڑ عوام کو ریاست سے بغاوت، ملک میں افراتفری اور ہیجان پیدا کرنے پہ اکسایا گیا، مگر خان صاحب ایڑی چوٹی کا زور لگا کر بھی دو چار فیصد عوام سے زیادہ لوگوں کو اپنا ہمنوا نہیں بنا سکے۔
خان صاحب نے جس طرح اپنے چند خاص مصاحبین کے مشوروں پہ اپنے لیے مستقبل کی سیاست کے دروازے ایک ایک کر کے بند کیے ہیں اس کی مثال اس سے پہلے ملک کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایک ہی قسم کی رٹی رٹائی بے بنیاد الزامات و لغویات پہ مبنی پریس کانفرنسز، اپنے من پسند صحافیوں اور اپنے بیانیے کے ہمنواؤں کو بٹھا کر عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہرزہ سرائی، سیاسی عدم برداشت، جعلی من گھڑت سازشی تھیوریاں پیش کرنے اور پھر اپنی ہی گھڑی ہوئی جھوٹی باتوں پہ یوٹرن لینے کی بچکانہ حرکتوں نے پچھلے دو ماہ میں خان صاحب کو ایک مقبول قومی سیاسی رہنما سے اقتدار و اختیار چھن جانے کی وجہ سے ایک بپھرے ہوئے سیاسی جماعت کے سربراہ تک محدود کر دیا ہے جو اپنی ذاتی خواہشات کے نامکمل رہنے، اختیارات و طاقت چھن جانے پہ حواس باختہ ہو چکا ہے۔
عمران خان کے خلاف آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی اور کامیابی سے ہم کنار ہوئی، خان صاحب کے پاس قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت نہیں تھی ان کی حکومت اتحادیوں کی بیساکھیوں پہ پونے چار سال تک ٹکی رہی، اور خان صاحب پونے چار سال تک اپنے ہر وعدے اور اتحادیوں سے کیے گئے ہر معاہدے سے انحراف کرچکے تھے۔ ان میں اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی جس کی وجہ سے ایک ایک کر کے سب اتحادی انہیں داغ مفارقت دے گئے اور اس طرح تحریک عدم اعتماد نے جنم لیا اور آج خان صاحب اقتدار کے ایوانوں سے دور مجنوں بنے سوائے اپنے ہمنواؤں کے پورے ملک کی اشرافیہ کو گالیاں بک رہے ہیں ان پہ واہیات قسم کے الزامات لگا رہے ہیں ملک کی قومی سلامتی، امن و سکون، معیشت و جمہوری روایات اسلامی اقدار کو اپنے پیروں تلے روند رہے ہیں۔
25 مئی کو خان صاحب نے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا ہوا تھا، اس سے پہلے ان کے شعلہ بیاں ساتھی بلکہ اگر انہیں شرپسند ساتھی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا اپنے احتجاج کے آئینی جمہوری حق کو خونی مارچ کے شوشے چھوڑ کر پہلے ہی متنازعہ بنا چکے تھے۔ ایسی صورتحال میں حکومت کو عوام کی جان و مال کے تحفظ کے اقدامات اٹھانے ہی تھے تاکہ فتنہ پسند اور شرپسند عناصر عوام کی زندگیوں اور ان کے مال و متاع اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں ناکام رہیں۔
پاکستان میں سیاسی مخالفین کے خلاف اسی طرح کے روایتی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جو حکومت نے اٹھائے، چشم فلک نے دیکھا کہ کس طرح پی ٹی آئی کے بعض عہدیداران کے گھروں سے مہلک آتشیں اسلحے کے ذخیرے برآمد ہوئے، شرپسند عناصر نے جس طرح غلیلوں، ڈنڈوں، اینٹوں اور پتھروں کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں پہ حملے کیے انہیں شدید زخمی کیا، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔ ایسے میں ہماری عدلیہ بھی ان انتشار پسند جتھوں حمایت میں انتظامی معاملات، کار سرکار میں مداخلت کرتے ہوئے حکم صادر کر بیٹھی کہ گرفتار شدگان کو رہا کیا جائے، کسی جلوس کو نہ روکا جائے، مسلح جتھوں کو اسلام آباد میں داخلے اور فلاں جگہ پہ دھرنے کی اجازت بھی دی جائے اور انتظامات بھی کر کے دیے جائیں۔ کاش کہ تحریک لبیک دھرنا کیس کے فیصلے کی رو سے دھرنے کے سہولت کاروں اور ذمے داروں جا تعین کر کے ان کو قرار واقعی سزا اسی وقت مل گئی ہوتی تو شاید آج مسلح جتھوں کو ریاست پہ چڑھائی کی ہمت نہ ہوتی۔
سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان صاحب نے اپنے بلوائیوں کو ڈی چوک پہنچنے کی ترغیب دی انہیں اکسایا کہ اب سپریم کورٹ نے مداخلت کر کے ہمارا راستہ صاف کر دیا ہے۔ خان صاحب کی اس ترغیب نے جلتی پہ تیل کا کام کیا اور دس ارب درخت لگانے کا دعویٰ کرنے والوں نے اسلام آباد ڈی چوک میں سب سے پہلے درختوں اور سبزے کو ہی آگ لگا دی۔ سب سے افسوس ناک بات یہ تھی کہ سپریم کورٹ کے اپنے احکامات کی دھجیاں اڑانے والے شخص کی سخت پکڑ کرنے کے بجائے کہا گیا کہ شاید اس تک ہمارے احکامات درست طریقے سے پہنچے ہی نہیں۔
عمران خان اپنے بیس لاکھ نفوس پہ مشتمل جتھے کے ساتھ لگائے گئے دھرنے کی ذلت آمیز ناکامی کے بعد ایک بار پھر اسلام آباد پہ چڑھائی کی کھلے عام دھمکیوں کے ساتھ عدلیہ اور اداروں کو منتیں اور ترلے بھی کر رہے ہیں کہ خدارا مجھے بیس لاکھ لوگ اسلام آباد میں اکٹھے کر کے دیں تاکہ میں سرکاری پروٹوکول اور چھتری تلے دھرنا دے سکوں۔
سیدنا حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے کہ ”بات کرو تاکہ پہچانے جاؤ کیونکہ انسان اپنی زبان کے نیچے پوشیدہ ہے“ خان صاحب نے جب بھی زبان کھولی ہے انہوں نے اپنی پہچان ہی کروائی ہے۔ بحیثیت وزیراعظم اپنی پہلی تقریر سے غلطیوں کا آغاز کرنے والے خان صاحب ابھی تک مسلسل غلطیوں پہ غلطیاں کرتے آ رہے ہیں اور انہیں اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھانے والے نجانے کیوں اب تک انہیں ڈھیل پہ ڈھیل دیے جا رہے ہیں جب کہ اب وہ حقیقتاً ملک اور قوم کے لیے سیکیورٹی رسک بن چکے ہیں بلکہ خودکش بمبار بن چکے ہیں۔ بقول فیض جب
جس دیس کی کورٹ کچہری میں
انصاف ٹکوں پر بکتا ہو
جس دیس کا منشی قاضی بھی
مجرم سے پوچھ کے لکھتا ہو
اس دیس میں عمران فتنے کو
سر اٹھانے کی جرات کیوں نہ ہو
اگر اسی طرح عدالتیں شرپسند عناصر کی سہولت کاری کرتی جائیں گی تو اسی طرح یہ فتنے فساد معاشرے میں پنپتے اور اپنی جڑیں مضبوط کرتے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارض وطن کو شر، فساد، فتنے اور انتشار و افراتفری سے محفوظ رکھے آمین۔


