پاک ترک تعلقات اور اسلاموفوبیا


benazir bhutto and tansu ciller in bosnia
(بینظیر بھٹو اور تانسو چیلر بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو میں )

پاکستان کے نوجوان ترین وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، امریکہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ اور چین کے دوروں کے بعد آج کل تین روزہ سرکاری دورے پر ترکی میں ہیں، اس سے قبل اقوام متحدہ ہیڈکوارٹر نیویارک میں ایک عالمی سمٹ میں جب ترک وزیر خارجہ میولود چاؤش اولو پاکستان کے نوجوان وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے ملے تو انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے کہا کہ ”ترکی کا ہر فرد جانتا ہے کہ آپ کے نانا اور آپ کی والدہ کے ترکی کے ساتھ تعلقات کس نوعیت کے تھے، ترک عوام دہائیوں سے آپ کے خاندان کو عزت کے نگاہ سے دیکھتا ہے“ ۔

دو برادر اسلامی ممالک پاکستان اور ترکی کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں، ترکی اور پاکستان نے دنیا بھر کو اسلاموفوبیا بارے بہت سال پہلے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گئے، افسوس مگر آج کل اسلاموفوبیا بارے صرف باتیں اور پاپولر نعرے رہ گئے ہیں۔ حقیقت میں اسلاموفوبیا بارے آج سے تقریبا تین دہائیاں قبل اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے دنیا کو بتایا تھا، 1994 میں جب بوسنیا ہرزگوینا میں جنگ جاری تھی تو اس وقت کی پاکستان کی وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے یہ اعلان کر کے دنیا بھر کے سفارتی حلقوں میں بھونچال پیدا کیا کہ وہ سراجیوو جائیں گی۔

جی ہاں بات ہو رہی ہے فروری 1994 ء کی جب بوسنیا کے مسلمانوں پر سربیا کی فوجیں مظالم ڈھا رہی تھیں تو مسلم امہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے ترکی کی پہلی خاتون وزیر اعظم تانسو چیلر کو اپنا شریک سفر بنایا، فروری 1994 میں مسلم امہ کی دو خاتون وزرا اعظم، پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون بینظیر بھٹو اور ترکی کی بھی پہلی خاتون وزیراعظم تانسو چیلر، نے بوسنیا کا دورہ کر کے دنیا کو حیران کر دیا تھا اور بوسنیا کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر عالمی توجہ مبذول کرائی، بینظیر بھٹو نے سربین آرٹلری کی گولہ باری کی گونج میں بلٹ پروف جیکٹ پہن کر اسپتال میں زخمی بچوں کی عیادت کی اور ان میں مٹھائی تقسیم کی۔

دراصل بوسنیا میں تین سال سے جنگ جاری تھی اور سابق یوگوسلاویہ کی نسل پرست سرب افواج نے نہتے ایک لاکھ بے گناہ مسلمان شہید کرچکے تھے، لاکھوں مسلمان جان بچانے کے لئے ہجرت کر رہے تھے، ہزاروں مسلمان خواتین کی بے حرمتی کی گئی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو عقوبت خانوں میں اذیتیں دی جا رہی تھیں اور اکثر مقامات پر یہ ظلم عالمی امن فوج کی موجودگی میں ہو رہا تھا۔ نومولود مسلم اکثریتی ملک کے دار الحکومت سراجیوو کے محاصرے کو دو سال ہو چکے تھے اور زندگی پر موت کے سائے گہرے ہو رہے تھے، ٹینکوں، بارود اور گولیوں کی گھن گرج میں اسلامی دنیا کی دو بہادر خواتین نے خالی ہاتھ بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو جاکر دنیا کو بتایا کہ قتل ہونے والے بے گناہ مسلمان ہیں، بے گناہ خواتین کی بے حرمتی ہو رہی ہے، بچے یتیم ہو رہے ہیں یہ بھی انسان اور مسلمان ہیں، اس وقت دنیا کی آنکھیں کھلیں، دنیا کو پہلی بار مسلم کشی اور اسلاموفوبیا بارے آگاہی حاصل ہوئی۔

محترمہ بینظیر بھٹو کے دورہ بوسینا کے بعد عالمی میڈیا نے بھی سواجیوو میں جاری جنگ پر خبریں لگائیں، اداریے لکھے اس وقت مغربی میڈیا نے دونوں مسلم خاتون وزرا اعظم کے دورے کوبے مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی جانوں کی فکر کیے بغیر ایک اہم مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا، امریکی اخبار نے لکھا کہ خطروں سے گھرے بوسنیا کے دارالحکومت سراجیوو میں دو نہتی خواتین صدارتی محل سے سیدھی بچوں کے اسپتال پہنچیں، جنگ میں زخمی بچوں کی عیادت کی، اس موقع پر ترک وزیر اعظم تانسو چیلر نے کہا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے دنیا بوسنیا کے عوام کو بھول گئی ہے‘ ۔ جبکہ بینظیر بھٹو نے نیٹو اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ سویلین آبادی کو گھرے ہوئے باغیوں پر بمباری کے بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کے دورہ بوسنیا کے بعد دنیا کو اب یہ خطرہ درپیش ہو گیا کہ پاکستان اور ترکی دو بڑے مسلم ملک ہیں اگر ان کی وزرائے اعظم کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا تو پوری دنیا کسی عالمی جنگ کی طرف جا سکتی ہے، اس خطرے کا احساس ہونے کے بعد امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے جارح سربوں کو سخت پیغام دیا گیا اور انہیں کسی متوقع جارحیت کے خطرناک نتائج سے آگاہ کر دیا گیا کہ وہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے باز رہیں۔ ان اقدامات سے نوزائیدہ بوسنیائی حکومت کو سانس لینے اور اپنی پولیس اور آرمی قائم کرنے کا وقت اور موقع ملا۔ بعد میں 1995 ء میں سرب، کروٹ اور بوسنی فریقوں کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور آج بوسنیا ہرزیگووینا کا ملک یورپ کے قلب میں اپنی مسلم اکثریتی آبادی کے ساتھ قائم ہے۔

بوسنیا ہرزیگووینا آج نہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو اس میں مسلمان نہ ہوتے، اگر بینظیر بھٹو ہمت نہ کرتیں اور ترک وزیر اعظم کو ساتھ لے ان سنگین حالات میں بوسنیا کا دورہ نہ کرتیں۔

آج تقریباً تین دہائیوں کے بعد بینظیر بھٹو کے بیٹے جو پاکستان کے نوجوان ترین وزیر خارجہ ہیں ترکی کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے باہمی تعلقات کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا بارے مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا جائے گا۔

Facebook Comments HS

رب نواز بلوچ

رب نواز بلوچ سماجی کارکن اور سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں، عوامی مسائل کو مسلسل اٹھاتے رہتے ہیں، پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ ٹویٹر پر @RabnBaloch اور فیس بک پر www.facebook/RabDino اور واٹس ایپ نمبر 03006316499 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

rab-nawaz-baloch has 30 posts and counting.See all posts by rab-nawaz-baloch