برطانیہ میں محمود ہاشمی جرنلسٹ ایوارڈز
دنیا بھر میں تارکین وطن کو اپنی شناخت، زبان، کلچر اور ثقافت جیسے چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے۔ نئے ملک میں آباد ہونے کے بعد وہاں کی زبان کو سمجھنا تو اپنے سروائیول یا بقا کے لیے مجبوری بن جاتا ہے، البتہ نئے ملک کی تہذیب، کلچر، ثقافت اور مذہبی رسم و رواج کو اپنانا بڑا کٹھن اور اور دیر پا عمل ہوتا ہے۔ بعض کمیونٹیز، بالخصوص پڑھے لکھے گھرانوں میں یہ عمل قدرے آسان ہوتا ہے اور ان کے بچے تعلیمی اداروں کے اندر اور ورکنگ ماحول میں آسانی سے مکس ہو جاتے ہیں۔ وہ باآسانی اپنے آبائی وطن اور نئے وطن کے کلچر و ثقافت اور رہن سہن کا درمیانی راستہ نکال کر اپنے لیے آسانیاں پیدا کر لیتے ہیں، جبکہ ایک بڑی اکثریت مشکلات کا شکار رہتی ہے۔
برطانیہ میں اردو زبان، ہمارے کلچر، ثقافت اور رسم و رواج کی ترویج و ترقی میں اردو میڈیا نے گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہاں اردو کا کوئی اخبار یا میگزین میسر نہ تھا۔ پھر 50 کے دہائی میں کشمیر کی حسین وادیوں سے غم روزگار سے نبٹنے کی خاطر ایک ہونہار نوجوان محمود ہاشمی برطانیہ منتقل ہوئے، تو یہاں کی ادبی اور صحافتی فضاؤں میں انگ گھلنے لگے۔ کچھ عرصہ ادبی محفلیں سجانے کے بعد انہوں نے اپریل 1961 میں لندن سے اردو کے ہفت روزہ اخبار ”مشرق“ کا اجرا کیا، جسے برطانیہ کی سرزمیں پر شائع ہونے والے پہلے اردو اخبار کا اعزاز حاصل ہوا۔
لوگوں نے اس اخبار کا کھلے دل سے استقبال کیا۔ بقول محمود ہاشمی کے لوگ اس اخبار کا اس شدت سے انتظار کرتے تھے جس طرح وطن عزیز سے آنے والے خط کا انتظار کیا جاتا ہے۔ اس اخبار میں جہاں مقامی خبریں شائع ہوتیں، وہاں برصغیر کی خبریں، تبصرے اور تخلیقی کام بھی شائع ہونے لگا۔ تھوڑے ہی عرصہ میں مشرق نے برطانیہ میں بسے والے ایشیائیوں کے دلوں میں ہی نہیں بلکہ گھروں میں بھی جگہ بنا لی۔ یہ مشرق کا ہی کمال تھا کہ اس نے اردو صحافت، شاعری، افسانہ نگاری اور ادب سے لگاؤ رکھنے والوں کو جھنجھوڑا اور برطانیہ میں اردو کو مقامی طور پر ضروری زبان کا درجہ دلوانے کی راہ ہموار کی۔
پھر ادبی تنظیمیں بننی شروع ہو گئیں اور مختلف شہروں میں شاعری و نثری محفلیں سجنے لگیں۔ یہ محمود ہاشمی کی جدوجہد ہی کا نتیجہ تھا کہ اب روزنامہ جنگ، روزنامہ اوصاف، ہفت روزہ اردو ٹائمز، ہفت روزہ سپیکر کے علاوہ برطانیہ سے متعدد پرنٹ اور آن لائن پیپرز شائع ہو رہے ہیں اور پبلک اہمیت کے ادارے اپنے معلوماتی بروشرز اب اردو زبان میں بھی شائع کرتے ہیں۔
پریس کلب آف پاکستان برطانیہ 2004 ء میں ایک غیر رسمی تنظیم کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ بعد ازاں اسے وسعت ملی اور اس کے سرکردہ راہنماؤں نے ایک غیر سیاسی اور غیر مذہبی تنظیم کے طور پر چلانے کی اخلاقیات تیار کیں اور ایک آئین تحریر کر کے تنظیم کی جنرل کونسل سے منظور کروایا اور بھرپور طریقے سے اپنا لیا۔ نامور صحافی اور ترقی پسند راہنما محبوب الٰہی بٹ اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ اس طرح تنظیم نے باقاعدہ قانونی بنیادوں کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔
پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کے اغراض و مقاصد دیکھیں تو یہ صحافیوں کی پیسہ وارانہ مہارت اور ملازمت کی اہلیت کو بڑھانے، مقامی صحافیوں کے لیے ملازمت کے مواقع پیدا کرنے میں مدد کرنے، دوسرے مقامی کمیونٹی گروپس اور میڈیا آؤٹ لیٹس کے ساتھ روابط استوار کرنے، صحافتی رضاکاروں اور نئے لکھاریوں کے لیے مواقع پیدا کرنے، سماجی سطح پر عوامی شمولیت کو فروغ دینے، برطانوی سماج اور پاکستانی و کشمیری کمیونٹی میں سماجی ہم آہنگی پیدا کرنے کی غرض سے تقریبات کے انعقاد اور دیگر عوامی سرگرمیوں کو فروغ دینا شامل ہے۔
پریس کلب آف پاکستان کی روشن خیال جمہوری روایات سے کمٹمنٹ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کی اس نے گزشتہ ٹرم کی صدر ایک ہونہار خاتون، مانچسٹر سے لیبر پارٹی کی کونسلر محترمہ مقدسہ بانو کو منتخب کیا تھا اور حال ہی میں منتخب ہونے والے صدر پرویز مسیح مٹو پاکستانی کرسچن کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وہ حقیقی جمہوری روایات ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر سماجی اور پیشہ وارانہ تنظیمیں فطری انداز میں پنپتی اور اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
پانچ اپریل کو پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کی صدر کونسلر مقدسہ بانو نے ایک پریس بریفنگ دیتے ہوئے ملکی تاریخ کے پہلے محمود ہاشمی میموریل ایوارڈ کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایوارڈ ایک طرف برطانیہ کے بابائے اردو صحافت اور نامور ترقی پسند ادیب محمود ہاشمی کی خدمات کا اعتراف ہے تو دوسری طرف اس میں برطانیہ کے 10 بہترین اور سینئر ترین اردو صحافیوں کو ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف کے طور پر تعریفی اسناد اور ایوارڈ دیے جائیں گے۔ ایوارڈ کے مستحق صحافیوں کے لیے یہ لازمی شرط ہو گی کہ انہیں کم از کم بیس سالہ صحافتی خدمات کا ثبوت فراہم کرنا ہو گا۔ ان صحافتی ایوارڈز کے لیے نامزدگی کوئی بھی شخص یا تنظیم کر سکتی ہے، جس کے لیے فارم پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کے دفتر رابطہ کر کے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
محترمہ مقدسہ بانو نے ایوارڈز کے فیصلہ کے لیے پانچ رکنی آزاد ایوارڈ کمیٹی کا اعلان کیا، جس میں پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کا کوئی رکن شامل نہیں، البتہ پریس کلب کے جنرل سیکرٹری غلام رسول شہزاد اس ایوارڈ کمیٹی میں پریس کلب کی جانب سے مبصر کے طور ہر شریک ہوں گے اور انہیں سلیکشن کے عمل میں ووٹ کا حق نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین نامور ترقی پسند ادیب پرویز فتح ہوں گے ، اور دیگر ممبران راچڈیل کے سابق میئر محمد زمان، برنلے سے لیبر کونسلر بیرسٹر مصباح کاظمی، بلیک برن سے نامور چیریٹی ورکر ڈاکٹر فصہ بی بی اور سماجی کارکن جارج فلیکس ہوں گے ۔ نامزدگی کے لیے درخواستیں پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کو 10 مئی سے پہلے پہنچانا ہوں کی۔
ایوارڈز کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں کی ابتدائی چھان بین کے بعد پریس کلب نے سینئیر صحافیوں کے کوائف ایوارڈ کمیٹی کے حوالے کر دیے گئے۔ راقم کے لیے محمود ہاشمی میموریل ایوارڈ کمیٹی کا چیئرمین منتخب ہونا بلا شعبہ ایک اعزاز تھا، جسے انتہائی ایمانداری اور پیشہ وارانہ وقار کے ساتھ نبھایا گیا۔ ایوارڈ کمیٹی میں ہم نے بنیادی معیار پر پورے اترنے والے سینئر صحافیوں کے سی ویز کو پرکھا اور صحافت کی بنیادی اقدار و مسلمہ اصولوں پر پورے اترتے والے 10 صحافیوں کو منتخب کیا ہے۔ ہم نے ایوارڈ کمیٹی کا اجلاس میں نامزد کیے گئے صحافیوں کے کوائف کا جائزہ لینے کے بعد 10 صحافیوں کو ایوارڈ کے لیے سلیکٹ کر کے انہیں 27 مئی کی ایوارڈ تقریب کے دعوت نامے جاری کرنے کی سفارش کر دی۔
محمود ہاشمی میموریل ایوارڈ کی تقریب 27 مئی کو راچڈیل، گریٹر مانچسٹر کے کیسلمیر کمیونٹی سینٹر میں منعقد ہوئی، جس کے لیے راچڈیل کونسل نے سپانسر کیا تھا۔ پہاڑی زبان کے نامور ترقی پسند ادیب اور راچڈیل کونسل کے ڈپٹی لیڈر علی عدالت کے تعاون اور ذاتی کوششوں نے اس تقریب کو ایک بڑا کمیونٹی ایونٹ بنانے میں مدد دی، جو بلا شعبہ کوویڈ کی جان لیوا وبا اور لاک ڈاؤن کے بعد ایک بہترین تقریب تھی۔ تقریب کے مہمانوں اور اظہار خیال کرنے والوں میں راچڈیل کونسل کے نو منتخب میئر علی احمد، مانچسٹر میں پاکستانی کونسل جنرل طارق وزیر، راچڈیل کونسل کے ڈپٹی لیڈر کونسلر علی عدالت اور ممبر پارلیمنٹ سر ٹونی لائیڈ شامل تھے۔
تقریب کے آغاز میں محمود ہاشمی کی ادبی اور صحافتی خدمات پر روشنی ڈالی گئے جس میں راچڈیل کونسل کے ڈپٹی لیڈر کونسلر علی عدالت، نامور ادیب و صحافی یعقوب نظامی اور ممتاز ترقی پسند صحافی اور سوشلسٹ راہنما عباس ملک نے محمود ہاشمی کی زندگی، ادبی سفر اور صحافتی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ان کے ساتھ گزرے ہوئے لمحوں کی یادوں اور ان کی نجی زندگی کے مختلف پہلوں کا خوبصورتی سے احاطہ کیا۔ پریس کلب کے نو منتخب صدر چوہدری پرویز مسیح مٹو، جنرل سیکرٹری غلام رسول شہزاد، سابق صدر محترمہ مقدسہ بانو اور سابق جنرل سیکرٹری نصراللہ مغل نے پریس کلب اور ایوارڈ تقریب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
صحافتی سفر میں انصاف، معروضیت اور ایمانداری تین ایسے عوامل ہیں جن کو ہر کہانی میں شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صحافت کا مقصد شہریوں کو وہ معلومات فراہم کرنا ہوتا ہے، جس کی انہیں اپنی زندگیوں، اپنی کمیونٹیز، اپنے معاشروں اور اپنی حکومتوں کے بارے میں ممکنہ فیصلے لینے کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔ ایوارڈز کے لیے منتخب ہونے والے سینئر صحافیوں کے اعلان کے لیے راقم کو بطور چیئرمیں ایوارڈ کمیٹی دعوت دی گئی تو راقم نے ایوارڈ کمیٹی کی جانب سے پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس جرنلسٹ ایوارڈز کے لیے خصوصی ایوارڈ کمیٹی کے طور پر انہیں نامزد کر کے یہ اعزاز بخشا۔
یہ ایوارڈ کمیٹی مکمل طور پر غیر جانب دار تھی، اور اس میں پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کا کوئی رکن شامل نہیں تھا۔ ہاں البتہ، پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کے جنرل سیکرٹری غلام رسول شہزاد کوآرڈینیشن اور رابطے کے فرائض سرانجام دے رہے تھے، جس کے لیے ہم ان کے بے حد ممنون ہیں۔ اس کے بعد کمیٹی کے دیگر ارکان کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ محمود ہاشمی میموریل ایوارڈ کے لیے مانچسٹر سے محبوب الہی بٹ، بریڈ فورڈ سے ظفر تنویر، گلاسگو سے طاہر انعام شیخ، برمنگھم سے عباس ملک، نیوکاسل سے سیمسن جاوید، بی۔ بی۔ سی شیفیلڈ سے محترمہ افت حمید، لندن سے تنویر زمان خان، لیسٹر سے سرفراز تنسم، لندن سے نعیم واعظ، اور بری سے خورشید حمید منتخب ہوئے تھے، جنہیں سٹیج پر بلایا گیا اور کونسل جنرل پاکستان طارق وزیر نے انہیں ایوارڈز پیش کیے۔
تقریب میں راچڈیل کے میئر کونسلر علی احمد نے صحافتی خدمات کے صلے میں پریس کلب آف پاکستان کے سرکردہ راہنماؤں اور سپانسر کرنے والی تنظیموں کو ایوارڈ دیے۔ تقریب کا اختتام پریس کلب آف پاکستان برطانیہ کے بانی صدر اور ممتاز ترقی پسند ادیب محبوب الہی بٹ کے اختتامی کلمات سے ہوا۔ انہوں نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ایوارڈ حاصل کرنے والے سینیئر صحافیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آپ سب اپنے قلم سے اور اپنی آواز سے سماجی مسائل کو اجاگر کرنے اور آنے والی نسلوں کی تربیت کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔









