جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں،میں تھاں مرجانی آں

ایک دوست کے ہاں بیٹھے یوں ہی وقت گزار رہے تھے کہ دروازے پہ کسی کے خیر مانگنے کی صدا سنائی دی۔ کوئی باہر میڈم نور جہاں کا گایا ہوا مشہور قصیدہ ”تو آل نبی، اولاد علی، تو ولیاں دا سرتاج ولی، جیوے لال، جھولے لال“ میڈم کے انداز اور لے میں گانے کی کوشش کر رہا تھا۔ گو کہ سر ٹھیک سے نہیں بیٹھ رہا تھا مگر انداز سے یہ قصیدہ بارہا گائے جانے کی مشق کا بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔ انداز من بھایا تو دوست سے فرمائش کر کے فنکار کو اندر بلا لیا۔ ادھیڑ عمر کا خواجہ سرا تھا۔
”خواجہ سرا تھا“ سے یاد آیا کہ یہ سماج خوجہ سراؤں کے ”تھا“ اور ”تھی“ کے متعلق ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہا ہے۔ ہم روز مرہ بول چال میں خواجہ سرا کو مرد ذکر کرتے ہیں۔ جب کہ وہ خود کو عورت کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ انداز و اطوار، لباس، زیورات، ادائیں حتی کہ نام بھی عورتوں والے اپنا لیتے ہیں۔ سو شناخت کا مسئلہ تو یہیں سے شروع ہو جاتا ہے کہ کوئی اپنے آپ کو عورت کہلوانا چاہے اور معاشرہ زبردستی اسے مردانہ القابات سے پکارے۔ ”میں نے کھسرا دیکھا تھا“ جب کہ وہ یہ سننا چاہتی ہے کہ اسے ”میں نے چنبیلی دیکھی تھی“ جیسے جملوں سے یاد کیا جائے۔ خیر ہم کیوں کسی کے ایسے لطیف جذبات کا خیال رکھیں گے۔
جب مرد میں عورت کی روح ہو تو زندگی تماشا اور دنیا کی ہنسی بن جاتی ہے۔ ایسے مرد جبلتاً نسوانیت سے بھرپور ہوتے، نزاکت اور شرافت کا مظہر۔ معاشرہ تو دور کی بات والدین اور بہن بھائی ان سے بے زار ہوتے۔ ان کا کوئی دوست نہیں ہوتا کوئی ہم درد کوئی خیرخواہ نہیں۔ اس سلوک کی واحد وجہ، بادی النظر میں مرد نظر آنے کے باوجود معاشرے میں مردانگی کے مجوزہ اصولوں پر عمل نہ کرنا ہے۔ کیونکہ مخالف جنس کی روح لئے یہ مرد چوکوں بازاروں میں خواتین کو تاڑتے نہیں، جملے نہیں کستے، تصاویر زوم ان کر کے نہیں دیکھتے، ہوس زدہ نگاہوں سے گھورتے نہیں۔
اور مردانگی کی اس توہین کی سزا آخری سانس تک پاتے ہیں۔ کوئی ان کو ایک مریض سمجھ کر نفسیاتی علاج کرانے کی کوشش نہیں کرتا۔ کوئی ان کو ان کے حال پر بھی نہیں چھوڑتا۔ گھر میں گھر والے اور باہر باہر والے نہیں رہنے دیتے۔ اور جب یہ مرد عورت کا لبادہ اوڑھ کر گھنگرو باندھ کر ناچنے لگتا ہے تو پھر معاشرے کے غیور مرد نوٹ نچھاور کرتے ہیں۔ اپنے جیسے ایک مرد کا مجرا دیکھنا ان کو بھاتا ہے لیکن دو قدم اس کے ساتھ چل اس کے مسائل حل کرنا قبول نہیں۔
ایک خواجہ سرا مردانہ خد و خال کے ساتھ عورت کا روپ دھارے خدا جانے کن نفسیاتی پیچیدگیوں سے گزرتی ہو گی۔ کون سی تار کہاں سے اتار کے کہاں جوڑنا پڑتی ہو گی۔ کہاں جذبات کے ساتھ زبردستی کرنا پڑتی ہو گی اور کہاں تڑپ کے صرف آہ بھر کے رہ گئی ہو گی۔
جب فنکار نے ہماری فرمائش پہ ”وے جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں، میں تھاں مر جانی آں“ (جب وہ آہستہ سے میرا نام لیتا ہے تو میں وہیں مر جاتی ہوں) گایا تو ایک ایک تاثر پوری کہانی بیان کر رہا تھا۔ مردانہ اصولوں پہ پروان چڑھے معاشرے میں مرد کا کسی عورت کی طرف جھکاؤ ہی اس کا زندگی کا حاصل وصول ہوتا ہے۔ مرد کی توجہ اس کی چلتی سانسیں روک دیتی ہے۔ پدر سری معاشروں کے سیکس بیانیہ کی موٹی موٹی سطریں ایک ایسے طاقتور مرد کا نقشہ کھینچتی ہیں جو سرگوشی میں بھی اگر کسی خاتون کا نام لے دے تو بیچاری کمزور خاتون کی جان نکل جاتی ہے۔
عورت کی ملکیت کا یہ تصور معاشرے کی جڑوں میں موجود ہے۔ ہمارے دیہاتوں میں آج بھی خاوند کو ”فلاں عورت کا مالک“ پکارا جاتا ہے۔ نہ صرف پکارا بلکہ سمجھا بھی جاتا ہے۔ عورت تو عورت خواجہ سرا بھی مرد کے ذکر پہ عورتوں جیسے تاثرات ہی دیتے ہیں۔ کبھی کے مرد اور آج کے خواجہ سرا نے بھی معاشرے کے پدر سری اصولوں سے اختلاف کی جرات نہ کی۔ جو شاید جسمانی طور پہ بھی عورت سے زیادہ مضبوط ہے۔ لیکن اب چونکہ عورت کا روپ دھار چکا ہے تو خود سپردگی کے اسی درجے پہ فائز ہے جس پہ اس خواجہ سرا کی آئیڈیل عورت براجمان ہے۔
اسی گانے کے بول ہیں
”مرداں دے وعدے جھوٹے،
جھوٹا ہوندا پیار وے،
کر کے محبتاں قول جاندے ہار وے ”
یہ بول گاتے ہوئے کتنے ہی مردوں کی عارضی محبت کے دعوے اور وعدے اسے یاد آئے ہوں گے۔ کیسے کسی نائٹ فنکشن میں شراب کے نشے کے دھت کوئی اس کے ٹھمکوں پہ صدقے واری گیا ہو گا۔ کیسے کسی چوک کھڑے کوئی موٹر سائیکل والا ”چسا“ اسے ”ماشاءاللہ“ بول کے دل کے تار چھیڑ گیا ہو گا۔ یا شاید مکمل عورتوں کی طرح اسے بھی کسی ذومعنی اشارے سے ہراسمنٹ محسوس ہوئی ہو گی۔ اوہو، مشکل مرحلہ آ گیا، عورتیں تو ہراس ہوتی ہیں یہ خواجہ سرا کیسے اور کیوں ہراس ہونے لگے بھئی؟ نہ تو ان کے ساتھ ”عزت“ اور ”غیرت“ کا نام نہاد نظریہ جڑا ہے اور نہ ہی عورت جیسے پرکشش قدرتی جسمانی خدوخال۔
یہ تو صرف حسرت و یاس کا وہ بت ہے جو اپنے ہونے کے جرم کی سزا پا رہا ہے۔ اور نہ جانے کب تک پاتا رہے گا۔ کم مائیگی کا پیدائشی احساس لیے یہ وجود شناخت کے بحران سے دوچار ہیں۔ نفسیاتی اور جذباتی توڑ پھوڑ اندر ہی اندر کہیں سہ جاتے ہیں۔ روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں۔ شاید ان کے لیے واحد تسلی یہ ہے یہ پدر سری معاشرہ تو مکمل عورت کو بھی ایک خوبصورت جسم سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا تو نا مکمل اور ادھوری ”عورت“ کو کیا مقام دے گا۔ جب عورت کو انسان سمجھا جائے گا۔ اس کے عشروں بعد شاید خواجہ سراؤں کو بھی مکمل انسانی حقوق مل سکیں۔
تب تک بیک گراؤنڈ میں یہ گانا چلتا رہے گا۔
ہائے! جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں،
میں تھاں مر جانی آں ”

