پاکستان میں عدلیہ کا گرتا معیار


عدلیہ کے اعتبار و احترام پر انگلیاں اٹھنے میں شدت آ رہی ہے، وجہ، منصف کا کمزور کردار اور کارکردگی کا گرتا ہوا معیار ہے۔ ریاست کے انتظامی معاملات میں دخل اندازی، قانونی سے زیادہ سیاسی معاملات میں دلچسپی، فیصلوں کا غیر معیاری ہونے سمیت عدالتوں میں لگے مقدمات کے ڈھیر عدلیہ کی مناسب اور تسلی بخش تصویر کشی نہیں کرتے، اس کے برعکس عدلیہ کے بھاری بھرکم مشاہروں کی وصولی کی نفی کرتے ضرور نظر آتے ہیں۔ ان مراعات کے عوض دن بھر میں کام کرنے کا دورانیہ اور اپنے کام پر توجہ کی کمیابی قطعی بلا جواز ہے، یہی وجہ ہے کہ عوام قانون ساز اسمبلی کی طرف ادارہ انصاف میں ایسی انقلابی تبدیلیوں کے لیے مضطرب ہے جو ان کے حقوق کی حفاظت کر سکے۔

فرائض کی جانب عدم توجہی سمیت اس کی ادائیگی کو کم وقت دینا اور عزت مآب کی جانب سے مختص ہونے والے وقت کے نتیجے میں آنے والے فیصلوں پر عام شہری کے عدم اطمینان کا اندازہ ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف بڑی عدالت میں دائر کی جانے والی اپیلوں کے انبار سے عیاں ہے۔

بہترین معاوضے کی وصولی سمیت دیگر مراعات مثلاً اعلی، علاقوں میں رہائشی زمین اور اعلی، عدلیہ کے ججز کے لیے ایک سے زائد رہائشی مکانات جیسی مراعات کے باوجود چند منصفوں کا مقدمات میں الجھے شہریوں کو بلیک میل کر کے لوٹ مار کرنے کی کہانیاں عام ہیں، چند عدالتوں کے سربراہان کے فیصلہ تحریر کرنے کی اہلیت کا فقدان منصف کا وکلاء حضرات کی مدد سے تحریر کروائے جانے والے فیصلوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایسے فیصلوں کا تمسخر آمیز انداز میں ذکر سنا جا سکتا ہے جن میں وکیل نے ایسے فیصلوں پر دستخط کروا لیے جنہیں پڑھ کر قانونی ماہرین ششدر رہ گئے۔ عدالتی احاطوں میں فوٹو کاپیاں بغل میں دبائے ضمانت مہیا کرنے والے گروہوں کا کاروبار عدلیہ کی اچھی شہرت میں کمی کا ایک اور نشان ہے، اس کے علاوہ عدالتوں کا حکم امتناع کا اجرا اور اسے مقدمے کے کسی ایک فریق کے خلاف طول دینے کے حربے بھی عدلیہ کے غیر اخلاقی ہتھکنڈوں اور بدعنوانی میں مدد کا ذریعہ ہے۔

بوالہوس کرپشن کی کہانیاں جن میں نچلی سطح کی عدالتوں سے فیصلوں کے انتظار میں اذیت سے ایڑیاں رگڑتے شہری ہوں یا اعلی، عدالتوں سے فیصلوں کا انتظار کرتے سائل، بے حسی کی اس طویل داستان سے ملک کا کم و بیش ہر شہری واقف ہے اور اس گھڑی کے انتظار میں بھی کہ ان معاملات کو جلد درست کر لیا جائے تو بہتر ہو گا مبادی، عدلیہ کے رویے سے بیزار عوام خود اپنی عدالت لگانا شروع کر دیں۔ ملک کی عدلیہ کو اپنا وقار اور حیثیت داؤ پر لگائے ایک طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اپنے تنزلی سنبھالنے کے اقدامات پر نظر ثانی سے کوسوں دور نظر آنا درحقیقت عام شہری کا اپنے وطن کے ادارہ انصاف پر اعتماد مضبوط ہونے کے بجائے روز بروز کمزور ہو رہا ہے۔

عدلیہ کے بے حس رویے کا اندازہ لگانے کو اتنا ہی کافی ہے کہ عزت مآب جج صاحبان کے فیصلے کے انتظار میں متعدد لاچار اور بے یار و مدد گار ملزم کئی دہائیاں جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار کر زندگی کی بازی ہار جانے کے بعد فیصلہ صادر ہونے پر باعزت بری کر دیے گئے، افسوس کہ اس شرمناک صورتحال کے باوجود نہ کوئی آنکھ بھیگی نہ کوئی شرمندگی نظر آئی اور نہ ہی ان معاملات کی درستگی کے لیے مقدمات نمٹانے میں تیزی اور سنجیدگی۔

ملک کے وزیر اعظم اول لیاقت علی خان قتل کیس پر 71 برس گزر جانے کے باوجود خاموشی ہو، مولوی تمیزالدین کیس ہو، شہید ذوالفقار علی بھٹو پر جھوٹے الزام میں عدالتی حکم پر پھانسی کی ناجائز سزا، وقتاً فوقتاً بننے والے بے نتیجہ عدالتی کمیشنز مثلاً اے پی ایس پشاور کے تاقیامت نہ بھلائے جانے والے واقعہ پر بننے والا کمیشن، پانامہ اسکینڈل میں دکھائی جانے والی پھرتیاں، بلا ضرورت صادق و امین قرار دینے میں سرگرمی، نسلہ ٹاور کے مکینوں کی بے دخلی اور اس کی تعمیر میں ناجائز اختیارات استعمال کرنے والوں کی پکڑ کے بجائے نسلہ ٹاور کا انہدام، مونال ریسٹورنٹ جیسے اعلی عدلیہ کے وقار سے بہت نیچے کے معاملات میں دخل یا حالیہ پی ٹی آئی کے پر تشدد مظاہروں کے باوجود غیر ضروری اور بلاوجہ کی نرمی سمیت غیر ضروری تبصرے اور رائے زنی، سرکاری ملازمین کے تبادلوں اور تقرریوں میں دلچسپی، سابق حکومت کے ملک سے باہر روانگی پر پابندی کے اقدامات پر موجودہ حکومت کی نرمی پر برہمی عدلیہ کے وقار پر نہیں پھبتے۔

ملک کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ آئین پاکستان ہی ملک اور عوام کو جوڑ کر رکھنے کا واحد ذریعہ ہے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ آئین کی متعدد بار خلاف ورزی پر اعلیٰ عدلیہ آئین کے تحفظ اور اس کے دفاع کا حلف اٹھانے کے باوجود ناکام رہی جس کے بعد شہریوں کے بنیادی حقوق کو بری طرح پامال کیا جاتا رہا ہے۔

حالیہ سیاسی ہیجان خیزی میں قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی اقدامات سے لے کر عدالت عظمی، کے سینیئر ترین جج کے خلاف صدر مملکت کا بے بنیاد ریفرنس جس پر سابق وزیراعظم صدر مملکت سے ریفرنس کی سفارش کرنے کی غلطی کا واضح طور پر اعتراف کر چکا ہے عدلیہ کے منہ پر کالک مل گیا ہے، فاضل جج کے خلاف بدنیتی پر مبنی اس ریفرنس نے ملک و قوم اور فاضل جج سمیت ان کے خاندان کو جس بدترین اذیت سے دوچار کیا اس پر عدالت کی خاموشی افسوسناک، انتہائی تکلیف دہ اور حیران کن ہے۔

انتظامی نوعیت کے خالصتاً حکومتی معاملات کے خلاف ہر درخواست قبول کر لینا اور اس پر احکامات جاری کر کے یہ جان کر خوش ہونا کہ ان کے دبدبے سے ہر شہ ہل جاتی ہے عام ہوتا جا رہا ہے، حالانکہ، عدلیہ یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہے کہ انتظامی امور مکمل طور پر حکومت کا اختیار ہیں اور اس سے متعلق درخواستوں پر عدلیہ کا عملدرآمد بجائے انہیں رد کر کے واپس لوٹا کر حکومت کے حوالے کرنے کے صرف اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی چیزوں پر عملدرآمد میں زیادہ دلچسپی ہے۔ یہ تاثر بھی عام ہو چکا ہے کہ عدلیہ آزاد نہیں بلکہ دباؤ کا شکار ہو کر اقدامات اٹھاتی ہے جس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ اپنا احترام اور اخلاقی جواز کھوتی جا رہی ہے۔

عدلیہ کا کام قانونی معاملات پر اپنی حد میں رہتے ہوئے فریقین کو سننا اور فیصلہ دینا ہے، اس سے زیادہ کا مطلب اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔

اپنے مسلسل طرز عمل کے باعث ملک کے عام شہریوں میں عدلیہ کے بارے میں تصور پچھلے 75 برسوں میں گھٹتے گھٹتے صفر ہو چکا ہے، فاضل جج محترم جسٹس قاضی فائز عیسی، کا یہ سوال اپنی جگہ تاقیامت کھڑا رہے گا کہ کیا جسٹس نسیم حسن کا اعتراف گناہ مرحوم بھٹو کی زندگی واپس لا سکتا ہے؟ بھیانک نتائج کا حامل بھٹو شہید کیس عدالت میں سالوں سے نظر ثانی کی اپیل پر متعلقہ عدالت کے عزت مآب جج کی توجہ ملنے کا منتظر ہے۔

یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور دیگر سینیئر جج ہی سپریم کورٹ میں کیوں مقرر نہیں کیے جاتے، جسٹس فائز عیسی، کی دیگر سفارشات میں سے ایک کہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو سیکریٹری جوڈیشل کمیشن نہیں ہونا چاہیے بھی فوری توجہ چاہتا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد نے جس طرح سینئرز کو نظر انداز کر کے جونیئر جج کی تقرری کی روایت متعارف کروائی اس سے عدلیہ کے بہترین شہرت رکھنے والے سینیئر ججز کے ساتھ زیادتی کا چرچا عام ہے۔ عدلیہ میں ججز کی تقرری اس کی قانون اور آئین پر دسترس کے علاوہ غیر آئینی اقدام کی مزاحمت کرنے اور اسے کالعدم قرار دینے کی صلاحیت کا حوصلہ ہونا چاہیے۔

وقت اس بات کا بھی شدت سے متقاضی ہے کہ پارلیمنٹ سوچ بچار کے بعد عدلیہ کے بارے میں فیصلہ کن اقدامات اٹھا کر اسے اس کے دائرے سے باہر نکلنے سے روکے تاوقتیکہ دیر ہو جائے، عدلیہ کے اقدامات حکومت کے انتظامی معاملات کے بجائے صرف عدالتی نظام چلانے اور اس میں بہتری لانے میں ہونا چاہیے۔

انصاف ریاست کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے چاہے اکثریت اس حق کے خلاف کیوں نہ ہو، ناحق ہر حال میں ناقابل قبول ہے چاہے اکثریت اس زیادتی کے حق میں کیوں نہ ہو، یہی وہ ساعت ہے جس میں عدلیہ کا کردار مرکزی ہے۔

 

Facebook Comments HS