مداری کی چھڑی اور بندریا کا ناچ!
”چل ری، ذرا نخرہ تو دکھا“
وہ فوراً منہ موڑ کر بیٹھ جاتی۔
”چل ری، اب ٹھمکا لگا“
اور وہ اپنا چھوٹا سا گھاگھرا ہاتھ میں پکڑ کر اچھلنا شروع کر دیتی۔
مداری اور بندریا کا تماشا تو دیکھا ہی ہو گا آپ سب نے اپنے بچپن میں!
بیسویں صدی میں جنم لینے والوں کی زندگی میں بہت سے ایسے قصے ہیں جو ناسٹیلجیا میں مبتلا کرتے ہیں۔
گلی سے جب بھی ڈگڈگی بجنے کی آواز آتی، ہمیں علم ہو جاتا کہ مداری کا تماشا شروع ہونے کو ہے۔ ادھر ادھر دیکھ کر ہم چپکے سے ادھر کو کھسک لیتے جہاں ڈگڈگی بجاتا مداری اپنے سٹاف کے ساتھ موجود ہوتا، نحیف اور مدقوق بندر اور بندریا۔
بندر واسکٹ پہنے، سر پہ ٹوپی جمائے، منہ پر بیزاری کے تاثرات لئے ایک طرف ٹانگ پہ ٹانگ چڑھا کے بیٹھا ہوتا۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کوئی جوں ہاتھ آ جاتی تو پکڑ کر منہ میں ڈال لیتا۔ بندریا نے رنگ برنگا گھاگھرا پہنا ہوتا، پاؤں میں شور مچاتی جھانجھر، ناک میں نتھلی اور ہاتھ میں چنگیر تھامے وہ مداری کے اشارے کی منتظر ہوتی۔
مداری نے گلے میں منکوں سے بنی بہت سی مالا پہنی ہوتیں، سر پہ پگڑی، مونچھوں کو تاؤ دیتا ایک ہاتھ سے ڈگڈگی بجاتا اور دوسرے ہاتھ میں چھڑی کے ساتھ ایک رسی بھی ہوتی جو بندر اور بندریا کو سرزنش کے کام آتی۔
محلے کے سب گھروں سے بچے ماں باپ کی نظر سے بچ کر باہر بھاگ رہے ہوتے۔ جب مداری سمجھتا کہ کافی شائقین جمع ہو چکے تو تماشا شروع ہو جاتا۔ پہلے ڈگڈگی بجتی، پھر مداری زور سے کہتا،
”ہاں بھئی رانی بیگم، ذرا نخرہ کر کے دکھاؤ“
بندریا مٹک مٹک کے چلنے لگتی۔
”رانی اب ذرا ناچ کے دکھاؤ“
بندریا تھرکنے لگتی۔
”رانی ٹھمکا لگانا بھول گئی کیا؟“ مداری رسی کھینچتا۔
بندریا زور زور سے کولہے ہلانا شروع کر دیتی۔
”اچھا اب ذرا راجہ کو کھانا تو دے کر آؤ“ مداری ڈگڈگی بجاتے ہوئے کہتا۔
بندریا ایک طرف پڑی چنگیر اٹھا کر سر پہ رکھتی اور پھر ایک طرف کرسی پہ بیٹھے بندر کے سامنے رکھ دیتی۔
جونہی وہ ہٹتی، مداری چھڑی لہراتے ہوئے ٹوکتا،
”اری کہاں جا رہی ہے؟ راجہ کو پنکھا تو جھل“
بندریا ایک طرف سے پنکھا اٹھاتی اور بندر کے سامنے کھڑے ہو کر اسے جھلنا شروع کر دیتی۔ بندر اس دوران بڑے بڑے لقمے منہ میں ڈال کر جلدی جلدی نگل رہا ہوتا۔
وہ کھانا ختم کرتا تو بندریا اس کے سامنے سے چنگیر اٹھاتی اور ایک طرف رکھ دیتی۔
”اچھا اب ناراض ہو کر دکھاؤ“ مداری کی اگلی ہدایت آ جاتی۔
بندریا ایک کونے میں منہ موڑ کر بیٹھ جاتی۔
”راجہ، رانی کو منا کر دکھاؤ“
راجہ بڑی مشکل سے اپنی جگہ سے اٹھتا، بندریا کے گرد دو چکر لگاتا اور بیزار سا پھر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتا۔
”راجہ، رانی میکے جا رہی ہے“ مداری اعلان کرتا۔
راجہ نفی میں سر ہلاتا، رانی بدستور منہ پھیرے بیٹھی رہتی۔
”راجہ چل اٹھ ذرا رانی کی طبعیت تو ٹھیک کر“ مداری چھڑی لہراتا۔
راجہ اٹھتا اور طبعیت بحال کرنے کا نسخہ ہوتا، رانی کو دو تھپڑ! رانی مار کھا کر روتی، راجہ خوخیاتا۔
مداری کہتا،
”چل رانی اب مان بھی جا، چل زیادہ ضد نہیں کرتے“
رانی اٹھ کھڑی ہوتی، راجہ آگے آگے چلتا، رانی پیچھے پیچھے۔
”چلو بچہ جمورا، اب رانی راجہ کے لئے بخشش لاؤ“ مداری اپنا کشکول آگے کر دیتا۔
مداری کے اعلان کے بعد سب بچے اپنی ماؤں کی منتیں کر کے اپنے اپنے گھر سے بخشش لاتے۔ کوئی روپیہ، کوئی دو روپے۔
مداری سب کچھ اکٹھا کرتے ہوئے ڈگڈگی بجاتا ہوا دوسری گلی میں داخل ہو جاتا جہاں ڈگڈگی کی آواز سن کر بچے گلی میں جمع ہونا شروع کر دیتے۔
مداری کا تماشا اس وقت تو ہمیں لطف دیتا لیکن بعد میں کچھ چیزیں چبھنے لگتیں اور پھر یہ چبھن کچھ سلگتے سوالوں میں بدل جاتی۔
بندریا بندر کو کھانا دیتی ہے، خود ساتھ بیٹھ کر کیوں نہیں کھاتی؟
بندریا اگر پنکھا جھلتی ہے تو کیا بندر بھی ایسا کرتا ہے جب بندریا کو کھانا ملے؟
بندریا کی ناراضگی دور کرنے کا حل تھپڑ مارنا کیوں ہے؟
اگر بندر ناراض ہو تو بندریا کیا کرے گی؟ کیا وہ بھی تھپڑ مار کر منائے گی؟
کیا بندر، بندریا کی جگہ کتا اور کتیا لے سکتے ہیں؟
ہمیں ان سوالوں کا جواب کبھی نہیں ملا۔ لیکن عمر گزرنے کے ساتھ یہ ضرور اندازہ ہوا کہ برسوں سے کھیلا جانے والا یہ تماشا محض بندریا، ڈگڈگی اور مداری کا کھیل نہیں، یہ تو کچھ اور ہے، پردہ اٹھا کر سٹیج سے نظر آنے والا ایک ایکٹ۔ پس پردہ تو کچھ اور ہے جس کی پردہ داری ہے۔
کسی بھی ملک کی ثقافت ان رسوم، رواج، اقدار اور رویوں سے ترتیب پاتی ہے جو روزمرہ کی زندگی میں بلا کسی تردد یا خاص اہتمام ہر خاص و عام کے ساتھ پیش آئیں۔ مداری، ڈگڈگی اور بندر بندریا کا کھیل کہنے کو ایک عام تماشا ہے لیکن یہ معاشرے اور نظام کی بہت سی پرتیں کھولتا ہوا نظر آتا ہے۔ انتظار حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں،
” بندر والا ڈگڈگی بجاتا آیا۔ اس نے بندر بندریا کو ہدایات جاری کیں۔ لیجیے بندر میاں، بندریا بیوی۔ میاں بیوی میں کھٹ پٹ ہو گئی۔ میاں نے ڈنڈا پکڑ کر اسے مارا۔ وہ روٹھ کر میکے چلی گئی۔ اب میاں صاحب پریشان ہیں۔ سسرال جا کر بیگم کو مناتے ہیں۔ بیوی کو منا کر لاتے ہیں لیجیے کھیل ختم پیسہ ہضم“
بندر کا بندریا کو مارنے پیٹنے، اور بندریا کا روٹھنے اور میکے جانے کا کھیل ہماری روایات کا حصہ اس لیے بنا ہے کہ اس ڈرامے میں مرد اور عورت کی جھلک پائی جاتی ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان پایا جانے والا شوہر و بیوی یا پس دیوار حاکم اور محکوم کا رشتہ بندر اور بندریا کے ذریعے حقیقت کے قریب نظر آتا ہے کہ کسی نہ کسی طور یہ جوڑا انسانی جوڑے سے مشابہ ہے۔ یہ تمثیل اگر کتے اور کتیا کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی تو ظاہر ہے بات نہ بنتی۔
بندر اور بندریا دونوں اپنا روایتی کردار ادا کریں تو ہمیں اچنبھا نہیں ہوتا لیکن بندریا اگر اس کھیل میں مار کھاتی ہوئی نظر نہ آئے تو شائقین کو کھیل ہی پسند نہیں آتا۔
پدرسری نظام کو مداری سمجھ لیجیے جس کے پاس ڈگڈگی بھی ہے اور چھڑی بھی۔ ڈگڈگی حکم ماننے کے اشارے وضع کرتی ہے اور چھڑی کی چھمک حکم عدولی کی صورت میں سزا کا خوف دلاتی ہے۔
حاکم کو یہی نظام سمجھاتا ہے کہ تھپڑ مار کے طبعیت کیسے ٹھیک کرنی ہے، ناچ کب کروانا ہے اور انعام کب دینا ہے۔
ہمارا کہنا یہ ہے کہ کاش وہ دن آئے جب نظام مداری، رسی، چھڑی اور ڈگڈگی کے بغیر بندریا کو نچا کر دکھائے۔ بندریا اپنی زندگی جینے کا حق تب ہی لے سکتی ہے جب چھڑی کی چھمک کا خوف نہ ہو۔

