چھوڑ آئے ہم وہ گلياں“ ـ معروف گلُوکار کے کے بھچڑ گئے



”خدا جانے کہ میں فدا ہوں۔ خدا جانے میں مٹ گیا۔“ ، ”تو ہی میری شب ہے، صبح ہے۔“ ، ”تو جو ملا، لو ہو گیا میں قابل۔ تو جو ملا، تو ہو گیا سب حاصل۔“ ، ”آنکھوں میں تیری عجب سی عجب سی ادائیں ہیں۔“ ، ”ابھی ابھی زندگی شروع ہے، ابھی ابھی تھم جانے کی بات!“ ، ”دل عبادت کر رہا ہے، دھڑکنیں میری سن! تجھ کو میں کر لوں حاصل، لگی ہے یہی دھن۔“ جیسے انگنت گیت، جو کہیں نہ کہیں چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے ہماری روز مرہ کی زندگی میں سماعتوں سے ٹکراتے رہتے ہیں، اور ان میں سے متعدد نغمے ہماری کیفیات کے ترجمان بھی ہوتے ہیں، ان کے گانے والا برصغیر کا منفرد جواں عمر گلوکار ہم سے اچانک بچھڑ گیا۔

اردو ہندی کے معروف و منفرد پلے بیک گلوکار کرشنا کمار کنتھ، جو بھارتی فلم اور میوزک انڈسٹری اور مداحوں میں ”کے کے“ کے نام سے مشہور ہوئے، منگل 31 مئی 2022 ء کی شب 10 : 30 بجے کے قریب ہندوستان کے سابق دارالحکومت کلکتے میں ”نذر منچ آڈیٹوریم“ میں اپنی لائیو پرفارمنس کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے 53 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا شمار دور حاضر کے سب سے زیادہ ورسٹائل گلوکاروں میں ہوتا تھا، جنہوں نے اردو ہندی، انگریزی، تامل، تیلگو، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اوڈیا، بنگالی، آسامی اور گجراتی سمیت متعدد زبانوں میں 700 سے زائد فلمی گیت گائے، جن میں سے بیشتر مقبول ہوئے۔

’تھریشور‘ ، کیرلا میں دہلی کے ملیالی خاندان میں ”سی ایس مینن“ اور ”کناتھ کناکاویلی“ کے گھر پیدا ہونے والے، کرشنا کمار کنتھ کی پرورش نئی دہلی میں ہوئی۔ انہوں نے دہلی کے ماؤنٹ سینٹ میریز اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ جس کے بعد کیری مال کالج، دہلی یونیورسٹی سے کامرس میں گریجویشن کرنے کے بعد ، انہوں نے ”مارکیٹنگ ایگزیکٹو“ کے طور پر 6 ماہ کا مختصر عرصہ ملازمت کی۔ جس کے کچھ برس بعد ، 1994 ء میں، وہ ممبئی چلے گئے۔

’کے کے‘ نے موسیقی کی کوئی باقاعدہ تربیت کبھی حاصل نہیں کی۔ وہ بالی ووڈ میں قدم رکھنے سے پہلے تک متعدد گانے (جن میں زیاد تر ’جنگلز‘ تھے ) گا چکے تھے۔ انہوں نے 1999 ء کے کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران ہندوستانی کرکٹ ٹیم کی ہمت افزائی کے لیے ”جوش آف انڈیا“ کے عنوان سے ایک گانا گایا تھا۔ اس گانے میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی شامل ہوئے تھے۔ یہ گانا ملک بھر میں کرکٹ کے شائقین میں بے حد مقبول ہوا تھا۔

1994 ء میں، ’کے کے‘ نے موسیقی کے میدان میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر اپنی آواز کا نمونہ (ڈیمو ٹیپ) رکارڈ کر کے ’لوئس بینکس‘ ، ’رنجیت باروٹ‘ اور ’لیسلے لیوس‘ کو دیا۔ جس کے نتیجے میں انہیں ”یو ٹی وی“ نے گانے کے لیے مدعو کیا اور انہوں نے ”سینٹوجن سوٹنگ“ نامی ایک لباس کے اشتہار کے لیے اپنی آواز میں ایک ’جنگل‘ (تشہیری گیت) گایا۔ جس کے بعد وہ کمرشل کی دنیا میں ’جنگلز‘ گانے کے حوالے سے خاصے مقبول ہو گئے اور بتایا جاتا ہے کہ 4 سال کے عرصے میں، انہوں نے 11 زبانوں میں 3500 سے زیادہ جنگلز گا لئے۔ یعنی انہیں پہلا بریک، ممبئی میں ”یو ٹی وی“ کے ساتھ جنگلز گانے کے لیے ہی ملا۔

’کے کے‘ ، فلموں کی دنیا میں معروف موسیقار، اے آر رحمان کے ہاتھوں متعارف ہوئے، جب ”اے وی ایم پروڈکشنز“ کی تامل میوزیکل فلم ”منسارا کاناؤ“ (رلیز: 1997 ء) میں انہوں نے اے آر رحمان کے کمپوز کیے ہوئے ہٹ تامل گانے ”کلوری سالے“ اور ”ہیلو ڈاکٹر!“ گائے، اور فلم نگری میں پلے بیک گلوکار کے طور پر متعارف ہوئے۔ انہوں نے بالی ووڈ میں اپنے کیریئر کا آغاز 1999 ء میں ”ہم دل دے چکے صنم“ کے مشہور گانے ”تڑپ تڑپ کے اس دل سے آہ نکلتی رہی۔“ گانے سے کی تھی، جو اسمٰعیل دربار نے کمپوز کیا تھا۔ تاہم، اس گانے سے پہلے وہ گلزار صاحب کی منفرد موضوع پر بنی مشہور زمانہ فلم ”ماچس“ (رلیز: 1996 ء) کے گانے ”چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں۔“ کا ایک چھوٹا سا ابتدائی حصہ گا چکے تھے۔

”تڑپ تڑپ کے اس دل سے۔“ گانا بلا شبہ ’کے کے‘ کے کیریئر کا ایک اہم موڑ قرار دیا جا سکتا ہے، جس سے ان کو پہچان ملنا شروع ہوئی۔ اس کے علاوہ ان کے مقبول گانوں میں تامل گانا ”اپادی پوڈو“ ، فلم ”دیوداس“ (رلیز: 2002 ء) کا ”ڈولا رے ڈولا۔“ ، فلم ”وہ لمحے“ کا ”کیا مجھے پیار ہے۔“ ، فلم ”اوم شانتی اوم“ (رلیز: 2007 ء) کا ”آنکھوں میں تیری عجب سی عجب سی ادائیں ہیں۔“ ، فلم ”بچنا اے حسینو!“ (رلیز: 2008 ء) کا گیت ”خدا جانے“ ، پکچر ”عاشقی۔ 2“ (رلیز: 2013 ء) کا ”پیا آئے ناں۔“ ، تصویر ”مرڈر۔ 3“ (رلیز: 2013 ء) کا ”مت آزما رے!“ ، ”ہیپی نیو ییئر“ (رلیز: 2014 ء) کا ”انڈیا والے“ اور فلم ”بجرنگی بھائی جان“ (رلیز: 2015 ء) کا ”تو جو ملا۔“ وغیرہ شامل ہیں۔

1999 ء میں، جب ہندوستان میں ”سونی میوزک“ کا نیا نیا اجراء ہوا اور وہ ملک میں نئے فنکاروں کی تلاش کرنے لگے، تو ایسے میں ’کے کے‘ کو ’سونی‘ کی جانب سے ”ابھرتے ہوئے گلوکار“ کے طور پر منتخب کیا گیا اور وہ ’سونی‘ کے پلیٹ فارم سے اپنے پہلے سولو (انفرادی) البم کے ساتھ متعارف ہوئے، جس کا عنوان تھا ”پل ود لیسلے لیوئس“ ۔ اس البم کی موسیقی ’کولونیل کزنز‘ کے لیسلے لیوئس نے ترتیب دی تھی، اور انہوں نے ہی اسے پروڈیوس کیا تھا۔

اس البم میں شامل اس کے ٹائٹل ٹریک ”پل“ کے ساتھ ساتھ ”آپ کی دعا“ اور ”یارو!“ جیسے گیتوں نے جلد ہی نوجوانوں کے دلوں کے ساتھ ساتھ میوزک چارٹس پر بھی راج کر لیا۔ ”پل“ اور ”یارو!“ گیت تو بھارت کے اسکولوں اور کالجوں کی الوداعی تقریبات میں گائے اور بجائے جانے والے آفیشل ترانے بن گئے۔ ”پل“ سونی میوزک کے تحت ’کے کے‘ کا پہلا البم تھا، جس کے لیے انہیں ”بہترین گلوکار“ کے طور پر اسکرین ایوارڈ بھی ملا۔

22 جنوری 2008 ء کو ’کے کے‘ نے 8 برس کے وقفے کے بعد اپنا دوسرا البم ”ہمسفر“ کے نام سے جاری کیا۔ اس البم کے مشہور گانوں میں ”آسمان کے۔“ ، ”دیکھو ناں۔“ ، ”یہ کہاں مل گئے ہم۔“ اور ”بارش بھئی کاری (ماجھی)“ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ’کے کے‘ نے اس البم میں ایک انگریزی راک بیلڈ ”سنیریریا“ بھی گایا تھا۔ البم کے ٹائٹل ٹریک، ”ہمسفر“ کے بول انگریزی اور ہندی میں تھے اور یہ دو زبانوں پر مشتمل ایک خوبصورت گیت ہے۔ اس البم ”ہمسفر“ کے آٹھ گانے ’کے کے‘ نے خود کمپوز کیے تھے، جبکہ دو گانے ان کے پچھلے البم ”پل“ سے لیے گئے تھے۔

’کے کے‘ نے ٹیلی ویژن کے لیے بھی بہت سے سیریل گانے گائے، جن میں ”جسٹ محبت“ ، ”شاکا لاکا بوم بوم“ ، ”کچھ جھکی سی پلکیں“ ، ”ہپ ہپ ہرے“ ، ”ککاوینجلی“ ، ”جسٹ ڈانس“ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے معروف گلوکارہ شریا گھوشال کے ساتھ ”اسٹار پریوار ایوارڈز۔ 2010 ء“ کے لیے ’تھیم سانگ‘ بھی گایا تھا۔

’کے کے‘ ٹیلی ویژن کے مختلف پروگراموں میں نظر بھی نظر آئے۔ وہ موسیقی کے ٹیلنٹ ہنٹ شو ”فیم گروکل“ کے جیوری ممبر (جج) رہے۔ بھارت کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستانی ٹی وی شو ”دی گھوسٹ“ کے لیے ”تنہا چلا“ کے نام سے بھی ایک گانا گایا تھا، جو 2008 ء میں پاکستانی چینل ”ہم ٹی وی“ پر نشر ہوا تھا۔ اس گانے کو فرخ عابد اور شعیب فرخ نے کمپوز کیا تھا، جبکہ مومنہ درید نے اس گانے کے بول لکھے تھے۔

’کے کے‘ نے ’ایم ٹی وی‘ کوک اسٹوڈیو انڈیا کے ایک سیزن میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جس میں انہوں نے صابری برادرز کے ساتھ مشہور زمانہ قوالی ”چڑھتا سورج دھیرے دھیرے ڈھلتا ہے، ڈھل جائے گا۔“ گائی اور فلم ”جھنکار بیٹس“ کے اپنے شاندار ٹریک ”تو عاشقی ہے۔“ کا دوبارہ کمپوز شدہ ورژن بھی گایا تھا۔ وہ ”آج تک“ نامی بھارتی چینل کے مقبول ٹی وی شو ”سریلی بات“ میں بھی مہمان بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ”سونی مکس ٹی وی شو“ اور ”ایم ٹی وی ان پلگڈ۔ سیزن 3“ میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا، جو ایم ٹی وی سے 11 جنوری 2014 ء کو نشر ہوا تھا۔

10 سال کے وقفے کے بعد ، وہ کسی ’سنگنگ ریئلٹی شو‘ میں بطور مہمان جیوری کے رکن (جج) کے طور پر شریک ہوئے، وہ موسیقی کے مقابلے والا ریئلٹی شو ”انڈین آئیڈل جونیئر۔ سیزن 2“ تھا، جس کا پہلا پروگرام 29 اگست 2015 ء کو نشر ہوا تھا۔ اس کے بعد 3 ستمبر 2015 ء کو، ’کے کے‘ ، سونی میکس پر ”باتوں باتوں میں“ نامی پروگرام میں بھی شریک ہوئے۔

’کے کے‘ نے دبئی میں ’سلام دبئی 2014 ء‘ کے نام سے اپنا کنسرٹ کرنے کے ساتھ ساتھ گووا، دہلی، چنئی اور ہانگ کانگ میں بھی موسیقی کے کئی کنسرٹس کیے۔

’کے کے‘ نے 1991 ء میں جیوتھی سے شادی کی۔ ان کے بیٹے، نکول کرشن کنتھ نے اپنے والد کے ساتھ ان کے البم ”ہمسفر“ میں ایک گانا ”مستی“ بھی گایا۔ اس کے علاوہ ’کے کے‘ نے اپنے لواحقین میں ”تمارا کنتھ“ نامی ایک بیٹی بھی چھوڑی۔

اتنی کم عمر میں اتنا گوناگوں کیریئر عبور کرنے والے کرشنا کمار کنتھ، 31 مئی 2022 ء کو جنوبی کلکتے کے نذرل منچا آڈیٹوریم میں ایک کالج فیسٹ میں پرفارم کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ’کے کے‘ وہاں لائیو پرفارم کر رہے تھے، جب انہوں نے اچانک بے چینی اور طبیعت ناساز محسوس کرنے کی شکایت کی، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا کنسرٹ درمیان میں روک دیا اور واپس اپنے ہوٹل چلے گئے، جہاں ان کی حالت بگڑ گئی۔ اطلاعات کے مطابق ہوٹل سے ’سی ایم آر آئی‘ ہسپتال لے جاتے وقت راستے میں ہی وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

ان کی موت کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، البتہ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنا جلد ہی متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کے چہرے اور سر پر چوٹیں دیکھی گئی تھیں۔ تاہم کلکتہ پولیس نے یکم جون 2022 ء کو ان کی موت کے اسباب کی تحقیقات کے لیے ’غیر فطری موت‘ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس حکام اس ہوٹل کی سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کر رہے ہیں، جہاں ’کے کے‘ قیامی تھے۔

’کے کے‘ کے گائے ہوئے گیت تو یقیناً ہماری سماعتوں میں برسوں تک گونجتے رہیں گے، مگر ان کی اس طرح پر اسرار رخصت پر ان کے ان گیتوں کی بازگشت جیسے ہمارے کانوں میں ہمیشہ بھٹکتی رہے گی اور ان سے اس طرح بچھڑنے پر دکھ کا شدت سے احساس دلاتی رہی گی:

”زندگی دو پل کی۔ انتظار کب تک ہم کریں گے بھلا۔“
”الوداع۔ الوداع۔ میری راہیں الوداع۔ میری سانسیں کہتی ہیں الوداع۔“

Facebook Comments HS