عمران خان انتقام کی آگ میں جل رہا ہے


سابق وفاقی داخلہ شیخ رشید احمد ایک سانس میں اسٹیبلشمنٹ سے وابستگی کے دعوے کرتے ہیں تو دوسری سانس میں عمران خان کے ووٹ بنک کی امید لگا کر ان کی شان میں قصیدے پڑھتے ہیں۔ وہ انتہائی چالاکی سے اسٹیبلشمنٹ سے بھی بنا کر رکھنا چاہتے ہیں اور عمران خان کی ووٹ کی قوت سے ایک بار پھر پارلیمنٹ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تازہ ترین انکشاف کیا ہے کہ عمران آخری وقت یہی سمجھ رہے تھے۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد نہیں آئے گی جب کہ ایک بار پھر اپنے باخبر ہونے کا دعویٰ کیا ہے کہ جب ایم کیو ایم کے بعد باپ نے اپوزیشن کی حمایت کر دی تو انہیں یقین ہو گیا باپ کا باپ ہمارے ساتھ نہیں۔

شیخ رشید احمد نے جس طرح اسٹیبلشمنٹ کا دست شفقت سر سے اٹھنے کا ذکر کیا ہے، پاکستان کا ہر ذی شعور یہ سمجھ رہا تھا کہ عمران خان تنہا ہوئے ہیں۔ عمران خان کو مسند وزارت عظمیٰ چھن جانے کا بڑا غم ہے۔ وہ موجودہ حکومت کو گرانے کے لئے بڑے جتن کر رہے ہیں۔ جب وہ 25 مئی 2022 ء کو اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے تو ریڈ زون کے گرد کنٹینروں کی دیوار کو ہاتھ لگائے بغیر ہی خالی ہاتھ پختونخوا ایسے گئے کہ بنی گالہ واپسی کا نام ہی نہیں لے رہے۔

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے عمران خان کو گرفتار کرنے دہشت پھیلا رکھی ہے۔ عمران خان بنی گالہ کا رخ نہیں کرتے وہ وزیر اعلی ہاؤس پشاور میں بیٹھ کر دھڑا دھڑ پریس کانفرنسیں منعقد کر کے اپنے سیاسی مخالفین پر گولہ باری کر رہے ہیں۔ اپنی سوشل میڈیا کی فوج ظفر موج کو متحرک کرنے کے لئے پشاور بلوا لیا ہے۔ اسی طرح ان کا سارا وقت الیکٹرانک میڈیا کو انٹرویوز دینے میں گزر رہا ہے۔ اسلام آباد مارچ کی ناکامی پر انہوں نے سیاسی سومنات کو تہ بالا کرنے کے لئے 6 روز بعد پھر حملہ آور ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن تاحال انہوں نے لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا ہے اور نہ ہی جلسہ کرنے کا عندیہ دیا بلکہ ساری امیدیں سپریم کورٹ سے وابستہ کر رکھی وہ سپریم کورٹ سے رانا ثنا اللہ کے مبینہ ظلم و ستم سے تحفظ مانگ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں اسد عمر نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی ہے جسے سپریم کورٹ نے واپس بھیج دیا ہے۔ رجسٹرار آفس سپریم کورٹ نے کہا ہے۔ درخواست کے پیرا گراف 4، 5، 12 اور 14 میں متنازعہ معاملات کو اٹھایا گیا ہے۔ عمران خان کی اسلام آباد پر چڑھائی کے لئے سپریم کورٹ سے محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لئے پیشگی درخواست پر حوصلہ افزا جواب نہیں ملا رجسٹرار آفس نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہے اور جب ایک نکتے پر عدالت فیصلہ سنا دے تو اس کی دوبارہ شنوائی نہیں ہو سکتی۔

مزید اعتراضات کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے متعلقہ فورم سے رجوع نہیں کیا گیا اور درخواست میں متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔ میرے ایک صحافی دوست جمیل بھٹی جو عمران خان سے اقتدار چھن جانے کے غم میں مبتلا ہیں، نے فیس بک پر اس بات کا رونا رویا ہے کہ عمران خان پیٹ کے بہت ہلکے ہیں۔ انہیں طوطے کی طرح رٹایا جاتا ہے کہ انہوں نے فلاں فلاں بات نہیں کرنی لیکن وہ بات کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ وہ نتائج کی پروا کیے بغیر بلا سوچے سمجھے جو منہ میں آتا کہہ دیتے ہیں۔ ان کی زبان درازی سے ان کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جلسوں یا پریس کانفرنسوں میں کہی جانے والی باتوں پر عمران خان کو یو ٹرن لینا پڑتا ہے۔ یہی وجہ سیاسی مخالفین ان کو یو ٹرن خان کا طعنہ دیتے ہیں۔

انہوں نے حال ہی میں اپنے ایک متنازعہ انٹرویو میں اسلام آبا لانگ مارچ سے خالی ہاتھ واپسی کو صلح حدیبیہ قرار دیا۔ ایک سیاسی ایجی ٹیشن کو صلح حدیبیہ سے تعبیر کرنا عجیب سا لگا۔ کہاں نبی اکرم ﷺ کا صلح حدیبیہ کرنا اور کہاں ریڈ زون سے مار کھا کھا کر واپس پشاور جانا۔ انہوں نے کہا کہ صلح حدیبیہ تو اس دن تھا جب میں نے دھرنا نہ دینے اور لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ میں اس کو صلح حدیبیہ سمجھتا ہوں۔ صلح حدیبیہ بڑے مقصد تک پہنچنے کے لئے ایک سمجھوتہ اور مفاہمت کا راستہ ہے۔

اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان کبھی اسٹیبلشمنٹ کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ کبھی عدلیہ کو۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں عمران خان نے تو انتہا کر دی ان کی جانب سے دیے گئے انٹرویو پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ٹی وی چینلز پر دکھانے پر پابندی لگانا پڑی۔ پیمرا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عمران خان نے جو انٹرویو دیا اس نے قومی سلامتی، آزادی، ملکی استحکام، خود مختاری اور نظریہ پاکستان کو شدید خطرے سے دوچار کر دیا۔ اس انٹرویو سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ لوگوں میں نفرت اور ملک میں امن و امان کی صورت حال خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پیمرا کے مطابق عمران خان کا یہ انٹرویو آئین کے آرٹیکل 19 کی دفعہ 20 اے اور ایف کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پیمرا کے سیکشن 27 کے بھی خلاف ہے۔ پیمرا نے تمام ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس طرح کا مواد نشر کرنے سے گریز کریں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے درست فیصلے نہ کیے تو فوج تباہ ہو جائے گی اور پاکستان کے تین ٹکڑے ہو جائیں گے۔ یہ اصل میں پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ ہے۔ اگر اس وقت اسٹیبلشمنٹ صحیح فیصلے نہیں کرے گی تو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں یہ خود بھی تباہ ہوں گے اور فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی کیونکہ ملک دیوالیہ ہو گا۔ ان لوگوں کو اقتدار سے نہ نکالا تو ملک کے جوہری اثاثے چھن جائیں گے۔ پاکستان واحد مسلمان ملک ہے جو ایٹمی طاقت ہے۔ اگر وہ چلا گیا تو پھر کیا ہو گا۔ بلوچستان کو علیحدہ کرنے کے بیرونی منصوبے بنے ہوئے ہیں۔ ملک خودکشی کی راہ پر جا رہا ہے۔ اس لئے میں زور لگا رہا ہوں

جب ان سے پوچھا گیا اس رات کیا ہوا تھا جب آپ پارلیمنٹ میں جنگ لڑ رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ تاریخ کبھی کسی کو معاف نہیں کرتی۔ جب پاکستان کی تاریخ لکھی جائے گی تو وہ ایسی رات گنی جائے گی جس میں ملک کو بہت نقصان پہنچا۔ جو ادارے ملک کو مضبوط کرتے ہیں ان اداروں نے پاکستان کو کمزور کر دیا۔

عمران خان اس رات کو ابھی تک نہیں بھول پائے جب پارلیمنٹ نے ان کی مسند اقتدار چھین لی تھی۔ رانا ثنا اللہ عمران خان کے اعصاب پر سوار ہیں۔ ان کہنا ہے کہ رانا ثنا اللہ لوگوں کو ڈرا دھمکا رہا ہے۔ وہ چاہتے ہیں۔ لوگ ڈر کر گھروں میں بیٹھ جائیں۔ سر دست عمران خان حوصلہ ہار کر نہیں بیٹھے انہوں نے ایک بار پھر بہتر منصوبہ بندی کر کے نکلنے کا اعلان کیا ہے۔ معلوم نہیں ان کی بہتر منصوبہ بندی کب ہوگی اور کب ان کے لئے اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کا موقع ملے گا۔

عمران خان کے متنازعہ بیان پر پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران نیازی حد میں رہیں ان کا حالیہ انٹرویو کسی بھی عوامی عہدہ کے لئے نا اہلی کا ثبوت ہے۔ سیاست کریں، ملک کو تقسیم کرنے کی باتیں نہ کریں، نائب صدر مسلم لیگ نون مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کی جماعت کے 300 ٹکڑے ہوں گے۔ اس کے منہ میں خاک، عمران خان کے بیان پر سینیٹ میں بھی شدید احتجاج کیا گیا عمران خان کا ملک ٹوٹنے اور اداروں کے خلاف بیان پر وزارت داخلہ اور قانون و انصاف نے ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے۔ وزیر اعظم کو بغاوت کا مقدمہ درج کرنے سے متعلق رپورٹ پیش کی جائے گی۔

اس حوالے سے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی زیر صدارت وزارت داخلہ میں وفاقی کابینہ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی کابینہ کو حتمی سفارشات پیش کرنے کے لئے کمیٹی نے مزید مشاورت کے لئے اجلاس اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا گیا بظاہر عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں لیکن اس سے زیادہ نفسیاتی محاذ پر جنگ جاری ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے والی ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ سب کچھ عمران خان کو ڈرانے کے لئے کیا جا رہا ہے تاکہ وہ گرفتاری کے خوف سے اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کر دیں اگر عمران خان حکومت کے بس سے باہر ہوئے تو ان کو گرفتار کرنے میں دیر نہیں لگائی جائے گی۔

Facebook Comments HS