( 1 ) منصورہ احمد، ایک متنازعہ شخصیت، ایک معتبر شاعرہ


منصورہ احمد علمی اور ادبی حلقوں کا ایک جانا پہچانا نام ہے۔ ان کی شخصیت کم و بیش تیس پینتیس برس موضوع بحث رہی اور وہ بھی مختلف زاویوں اور حوالوں سے۔ خود اپنی ذاتی حیثیت میں بھی اور احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی کی حیثیت سے بھی۔ حلقۂ ندیم اور حلقۂ فنون اور مخالف دھڑوں کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار حلقوں میں بھی۔

قاسمی صاحب کی گرتی ہوئی صحت کے باعث ”فنون“ کی بہت حد تک ذمہ داری بھی منصورہ احمد کے کاندھوں پر آ گئی تھی۔ جب ان کا نام شریک مدیرہ/مدیرہ کے طور پر ”فنون“ میں شائع ہونے لگا تو یہ بات بذات خود ایک نیا موضوع بن گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی قائم کرنے کی کوشش کی جانے لگی کہ احمد ندیم قاسمی کا تو بس نام ہی استعمال ہو رہا ہے ان کا اتنا عمل دخل نہیں رہا۔ تمام تر مواد کا انتخاب منصورہ احمد ہی کرتی ہیں۔

اور جب منصورہ احمد کی شاعری بالخصوص نظمیں تواتر کے ساتھ فنون میں شائع ہونے لگیں تو ایک نئے موضوع نے جنم لیا۔ پھر کیا ہوا۔ امجد اسلام امجد کے مطابق ”اس دوران میں اس نے بطور شاعرہ کے بہت ترقی کی۔ اور بلا شبہ اپنے لیے ایک نام اور مقام حاصل کیا لیکن یہاں بھی وہی افراط و تفریط کا ماحول بن گیا کہ فنون کا وہ حصہ جو قارئین کے خطوط اور آرا ٔ پر مبنی ہوتا تھا کم و بیش منصورہ نامہ بن کر رہ گیا۔ جس کا رد عمل یہ ہوا کہ اس کی سچ مچ کی بہت اچھی شاعری بھی اس کریڈیبلٹی سے محروم ہو گئی جو اس کا حصہ تھا۔“

اس حوالے سے الگ بحث ہوتی رہی بہرحال کسی نہ کسی طور منصورہ احمد کا ہر عمل ایک نئے موضوع کو جنم دیتا رہا۔

انتظار حسین صاحب نے اپنے ایک کالم میں احمد ندیم قاسمی صاحب اور منصورہ احمد کے اس باہمی تعلق ربط اور رشتے کو ان الفاظ میں بیان کیا۔ ”بے شک اس بی بی نے قاسمی صاحب کے لواحقین کو شکایت کے مواقع فراہم کیے تھے مگر خدا لگتی کہیں گے اور سنی سنائی نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی کہ اس منہ بولی بیٹی نے باپ کی خدمت گزاری بہت جی لگا کر کی تھی۔ قاسمی صاحب نے اسے بلاوجہ تو بیٹی نہیں بنایا تھا“

ہم انتظار حسین صاحب کی رائے سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے اور ان کے موقف کی تصدیق کرتے ہوئے بس اتنا کہنا چاہیں گے۔ منصورہ احمد نے بے شک احمد ندیم قاسمی صاحب کی حد درجہ خدمت کی اور ان کی تمام تر تخلیقات اور تصانیف کے تحفظ کا سامان بہم پہنچایا اور ان کی کسی بھی تصنیف یا تخلیق تو کجا ایک سطر کو بھی غیر محفوظ نہیں رہنے دیا۔ بلکہ بہت سی گمشدہ تخلیقات کو تلاش کر کے محفوظ کیا۔ فنون کے بھی جملہ امور میں جس حد تک ممکن ہو سکتا تھا اس سے بڑھ کر معاونت کی لیکن ان تمام تر اوصاف اور خدمات کے چشم دید گواہ ہونے کے ساتھ ساتھ ببانگ دہل اعتراف کرتے ہوئے ہم یہ بات کہیں گے بلکہ جناب انتظار حسین صاحب کے ہی الفاظ کو دہراتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہیں گے کہ بے شک منصورہ احمد نے احمد ندیم قاسمی صاحب کے لواحقین اور پسماندگان کو شکایت کے مواقع فراہم کیے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ منصورہ بھی دودھ کی دھلی تو تھی نہیں ہماری طرح بندہ بشر تھی اس کے ایسے کسی بھی عمل یا اقدام کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ احمد ندیم قاسمی صاحب کی علمی و ادبی وراثت کی وارث محترمہ ناہید قاسمی صاحبہ تھیں اور ہیں اور اللہ انہیں سلامت رکھے۔ آمین۔

یہاں جب اتنی بہت سی تکلیف دہ باتیں ہو چکی ہیں تو ہم اس بات کا بھی اعتراف کر لیں کہ منصورہ احمد کے انتقال کے فوراً بعد ہم نے ناہید قاسمی صاحبہ کو فون کیا تھا اور ہم نے ان سے عاجزانہ گزارش کی تھی کہ ناہید باجی آپ بڑی ہیں ہمارے لیے قابل صد تعظیم ہیں آپ کو منصورہ احمد کے انتقال کی خبر دینے کے ساتھ آپ سے ایک دست بستہ گزارش ہے اور وہ یہ کہ آپ اعلی ظرف ہیں اپنے بابا احمد ندیم قاسمی صاحب کے نام پر ان کے صدقے میں منصورہ احمد کی کوتاہیوں کمزوریوں اور خطاوٴں اور زیادتیوں کو درگزر اور معاف فرما دیں۔

میں آپ سے منصورہ کی طرف سے معافی کا طلبگار ہوں۔ ایک عظیم زیرک اور بڑے انسان کی عظیم بیٹی سے ہمیں بالکل ایسے سے ہی جواب کی توقع تھی۔ سلام ہے محترمہ ناہید قاسمی صاحبہ کی عظمت اور اعلی ظرفی اور جذبہ عفو و درگزر کو انہوں نے فرمایا کہ میں نے معاف کیا اللہ بھی اس کی خطاوٴں کو معاف فرمائے۔ سلامت رہیں ناہید باجی پروردگار آپ کے گلشن کو شاد و آباد و شاداب رکھے۔ آمین

مسعود اشعر نے ”آئینہ میں بہت خوبصورتی سے منصورہ احمد کی شخصیت اور خدمات کا ذکر“ منہ بولی بیٹی ”کے عنوان کے تحت کیا۔ اور بہت خوب کیا۔ مسعود اشعر صاحب فرماتے ہیں کہ“ احمد ندیم قاسمی نے اسے منہ بولی بیٹی بنایا تھا اور اس نے بیٹی بن کر دکھا دیا۔ احمد ندیم قاسمی صاحب کے آخری تیس پینتیس سال اس نے ان کی ایسی خدمت کی کہ کیا کوئی سگی بیٹی کرسکے گی۔ ”۔ خود احمد ندیم قاسمی صاحب نے پروفیسر فتح محمد ملک کے نام ایک خط میں جو فتح محمد ملک کی کتاب“ ندیم شناسی ”میں شامل ہے، منصورہ احمد کے بارے میں ان خیالات کا اظہار کیا۔

“ اگر میری منصورہ بیٹی میری بھرپور خدمت نہ کر رہی ہوتی تو میری سالگرہ کے بجائے آپ میری برسی منا رہے ہوتے ”۔ اور یہی نہیں بلکہ بحیثیت منہ بولی بیٹی کے منصورہ احمد نے جو اپنے بابا حضرت احمد ندیم قاسمی صاحب کی بیس پچیس برس خدمت کی جناب مسعود اشعر صاحب نے اس کا بھی خصوصی انداز اور الفاظ میں تذکرہ کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ منصورہ احمد کسی نہ کسی حوالے سے موضوع بحث بھی بنی رہی اور متنازعہ بھی

حضرت احمد ندیم قاسمی صاحب کے بے شمار خوبصورت اشعار میں سے ایک یہ بھی ہے
میں میرے نقاد بہت برا سہی
اتنا برا نہیں ہوں جتنا اچھا ہوں
مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ منصورہ احمد
اتنی بری نہیں تھی جتنی اچھی تھی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments