پاکستان کے مسائل کا حل موجود ہے

یاد رکھیے اگر کوئی بھی سیاسی لیڈر یہ دعویٰ کرے کہ وہ اکیلا آپ عوام کے مسائل حل کر سکتا ہے تو سمجھ جائیے کہ وہ جھوٹا، دروغ گو اور انا پرست ہے۔ نرگسیت کا شکار ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ پچھلے بیس سال میں ایک فوجی جنرل سمیت تمام بڑی پارٹیاں حکومت کر چکی ہیں۔ نتیجہ آج بھی آپ کے سامنے ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نیچے بیٹھا پاور کا حصہ دار اوپر بیٹھے حصہ دار کی ٹانگیں کھینچتا ہے۔ اور اوپر والا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان پہ ہزاروں ارب کا قرض ہے۔ اور آمدن کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگیوں پہ صرف ہو جاتا ہے۔ عوام کی فلاح بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ کیا کوئی لیڈر ایسا ہے یا کوئی سیاسی جماعت ایسی ہے جو یہ قرض اتار سکتی ہے؟ بالکل نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ کوئی بہت ہی محنت کرے تو کچھ استحکام آ جائے گا۔ اور پھر ذرا سا بھی کوئی جھٹکا اس استحکام کو ڈگمگا دینے کے لیے کافی ہو گا۔
تو پھر کیا پاکستان ہمیشہ ایسے ہی رہے گا؟ یا معاشی طور پہ بدترین حالات میں دھنستا چلا جائے گا؟ انجام کیا ہو گا؟
مگر ہم انجام کا کیوں سوچیں؟ ہم حل کا کیوں نہ سوچیں۔
حل کیا ہے؟
حل بہت سادہ سا ہے۔ دو لفظوں پہ مشتمل حل۔ ان دو لفظوں میں پہلا لفظ ہے ’اتفاق‘ ۔ دوسرا لفظ ہے ’قربانی۔‘ قربانی نچلے طبقے کی نہیں۔ اشرافیہ اور مڈل کلاس کی قربانی۔
اتفاق کون کرے؟ سیاسی پارٹیاں اور حکومت کے تمام ستون اتفاق کریں۔ کہ ہم نے ملک بچانا ہے۔ ملک بچے گا تو سیاست ہوتی رہے گی۔
کرنا یہ ہو گا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا ہو گا۔ عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور میڈیا کو بھی ساتھ دینا ہو گا۔
دیکھیں آپ مخالفین کو چور کہیں، ڈاکو کہیں، سستا انقلابی کہیں یا فتنہ کہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہر لیڈر عوام کے ایک حصے کا نمائندہ ہوتا ہے۔ آپ مخالف سیاستدان کے پیروکاروں کو جاہل کہیں یا کوئی اور ہتک آمیز نام دے لیں، حقیقت مگر یہ ہے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور آپ کے برابر ہی رائے کا حق رکھتے ہیں اور برابر کے سٹیک ہولڈرز ہیں۔ آپ کو مخالفین سے بات کرنا ہی پڑے گی۔ دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جتنا جلد یہ راز پا لیں گے اتنا ملک و قوم کا بھلا ہو گا۔
اتفاق کے ساتھ کم ازکم دس سال کے لیے قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ حکومت کے سربراہ کے لیے براہ راست عوام سے رائے لی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے عارضی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔
اس کے بعد قومی حکومت ہی معاشی پالیسی دے۔ عوام کے طاقتور حصے پہ ٹیکس لگائے۔ اس طرح یہ طاقتور حصہ مافیا بن کر ٹانگیں نہیں کھینچ سکے گا۔ پھر میڈیا اور اسٹیبلشمنٹ بھی مثبت کردار ادا کرے۔ اس کا بھی میکانزم تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ مقتدر سماجی طبقہ ہی تو ہر پارٹی کے ذریعے حکومت میں ہوتا ہے وہ اپنے خلاف پالیسی کیوں بنائے گا؟
مگر نہیں۔ اب اس طبقے کو پالیسی بنانی ہو گی۔ اپنی ذات کی قربانی دینی ہو گی۔ وقت آ گیا ہے کہ اب عوام سوال پوچھنے لگ گئے ہیں۔ میڈیا نے طاقت کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔
اشرافیہ مافیا کے پاس عنقریب دو ہی راستے ہوں گے۔ یا تو وہ اپنی دولت اٹھا کر ملک سے بھاگ جائیں گے یا پھر خاکم بدہن سڑکوں پر ہجوم ہوں گے۔ وہ ہجوم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ پھر بچتا کوئی بھی نہیں۔
جب گھر میں بجلی کے قمقمے جلنے کی بجائے بھوک راج کرے تو ہجوم بنتے دیر نہیں لگتی۔ اور ہجوم میں ہر شخص اپنے گھر سے بڑے گھر والے کو، اور اپنی سواری سے بڑی سواری والے کو اپنے مسائل کی وجہ سمجھتا ہے۔ اور اس وجہ کی بنا پر اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہو گی۔ بجائے اس کے کہ تمام دولت ضائع ہو جائے، کچھ دے کر کچھ بچا لیں۔
عرض یہ ہے کہ اس وقت بھی ملک پہ حکومت کرنے والے کئی بڑے خاندانوں کے بارے یہ عام تاثر ہے کہ وہ ارب پتی ہیں۔ علامتی ہی سہی، وہ کیوں کچھ ارب سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرواتے۔ یہ عمل شاید ملک کے تمام مسائل حل نہیں کر دے گا مگر یہ عمل عوام کو سکون ضرور فراہم کرے گا۔ دیکھ لیجیے کہ اس وقت بھی ہر قسم کے میڈیا پہ تمام اداروں اور محکموں کے بڑوں کی مراعات کے خلاف بہت سخت مہم چل رہی ہے۔ وقت کے پل کے نیچے سے بہت پانی بہہ گیا ہے۔
جلد یا بدیر یہ مراعات ختم ہونی ہیں۔ ختم نہیں ہوں گی تو نفرت کسی بھی وقت شعلے بن کے لپکے گی۔ نفرت پہلے دور دراز علاقوں میں تھی مگر اب بڑے شہروں کے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ کیوں کہ یہ نظام نوجوانوں کو انصاف نہیں دیتا۔ میرٹ نہیں دیتا۔ روزگار نہیں دیتا۔ عام تاثر ہے کہ سرکاری دفتر کوئی مسئلہ حل نہیں کرتا۔
یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پہ اب اشرافیہ کو چلن بدلنا ہوں گے اور سیاسی جماعتوں کو مل کر بیٹھنا ہو گا ورنہ یہ عوام کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
عوام خود ہر چیز پہ بالواسطہ ٹیکس دیتے ہیں مگر بلاواسطہ ٹیکس کی چوری کرنے کی ہر کوئی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ معیشت کی ڈاکیومینٹیشن اس ملک کی بڑی ضرورت ہے۔ مگر یہ ہونے نہیں دیا جاتا۔ یہ کام ایک قومی حکومت ہی کر سکتی ہے۔
دفاعی اخراجات اگرچہ بہت ناگزیر ہیں۔ ہم ایٹمی قوت ہیں۔ مگر کچھ چیزوں کی علامتی اہمیت ہوتی ہے۔ اس معاملے کو بھی حکمت کے ساتھ سلجھانا ہو گا۔
سرکاری مشینری کی کرپشن اور نا اہلی پاکستان کے مسائل کی ایک بہت ہی بڑی وجہ ہے۔ آخر پہ لکھے ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت کو کم نہ سمجھیے۔ مگر اس مسئلے کا حل بھی سیاستدانوں کے اتفاق اور خلوص میں پنہاں ہے۔
یاد رکھیے، اپنے گھر کی اندرونی صفائی ہر حال میں ضروری ہے۔ اور یہ کام طاقت کے تمام حصہ دار مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ جو سیاستدان اتفاق کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ اور خود کو نجات دہندہ قرار دے وہ لغو کے سوا کچھ نہیں۔ خواہ وہ کوئی ہو۔ عوام جتنا جلد یہ حقیقت سمجھ جائیں اتنا ہی بہتر ہو گا۔

