راستہ یہی رہا تو زوال کا سفر جاری رہے گا!

سولہویں صدی کے اختتام تک چین، ہندوستان اور سلطنت عثمانیہ یورپ سے کہیں بڑھ کر دولتمند تھے۔ تاہم برطانیہ اور اس کی دیکھا دیکھی اکثر مغربی یورپی ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں Representative ادارے قائم ہو چکے تھے۔ یورپ کے اندر رونما ہونے والی معاشرتی اور معاشی تبدیلیاں سترویں صدی عیسوی میں Glorious Revolution کی صورت اپنے عروج کو پہنچیں۔ بادشاہ اور زمینوں پر قابض اس کے پروردہ جاگیر داروں کے خلاف کسی اور نے نہیں درمیانے طبقے کے تاجروں (Middle Class) اور کسانوں نے انقلاب برپا کیا تھا۔
مطالبہ کیا گیا کہ ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے بادشاہ نہیں پارلیمنٹ کیا کرے گی۔ زمینوں کے مالکانہ حقوق جاگیر داروں سے چھین لئے گئے۔ معاشرے میں آسودگی نیچے تک پھیلی تو تعلیم کا نظام بھی مضبوط ہوتے ہوتے اگلی صدی میں پہلے صنعتی انقلاب کی بنیاد بنا۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں میں ایک کے بعد ایک ریفارمز بل کی صورت جمہوری مطالبات جڑ پکڑنے لگے۔
انیسویں صدی نو آبادیاتی نظام کے عروج کی صدی تھی تو دوسری طرف ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سیاسی اور معاشی اداروں کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔ پہلے صنعتی انقلاب اور ایجادات کے دور کے نتیجے میں امریکی دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے لگے تو فطرتی طور پر وسائل کا ارتکاز محدود خاندانوں کے اندر ہونے لگا۔ تاہم انیسویں صدی کے اختتام تک امریکی سیاسی اور معاشی ادارے اس قدر مستحکم ہو چکے تھے کہ چند افراد یا خاندانوں کی ملکی وسائل پر اجارہ داری کو وسیع البنیاد اداروں اور مڈل کلاس طبقے نے ناکام بنا دیا گیا۔ بیسویں صدی میں اس امر سے قطع نظر کہ کس ملک میں کون سا طرز حکومت رائج ہے یہ طے پا چکا تھا کہ وہی قومیں دنیا پر حکمرانی کریں گی جہاں محدود Elitist گروہوں کے مفادات کی نگہبانی کرنے والا نہیں، ’اخلاقیات‘ پر مبنی عوامی نمائندگی کا نظام اور وسیع البنیاد قومی ادارے کار فرما ہوں گے۔
یہ امر ایک حقیقت ہے کہ زیر تسلط قوموں کے وسائل کی لوٹ مار کرنے والے ممالک میں خود حق حکمرانی کے لئے اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دیا گیا۔ چنانچہ اس امر کے باوجود کہ برطانیہ میں آج بھی کوئی تحریری آئین موجود نہیں، پارلیمنٹ کے اندر قانون سازی اور ملکی عدالتوں کی طرف سے دیے گئے فیصلوں میں صدیوں سے ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ ایشیائی، افریقی اور جنوب امریکی ممالک کی معاشی ابتری کی بنیادی وجوہات میں نو آبادیاتی دور میں ان قوموں کے وسائل کی لوٹ مار کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔
تاہم یہ بھی سچ ہے کہ نو آبادیاتی قبضے سے نجات پانے کے باوجود یہ ممالک آزاد اور خود مختار ادارے قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس باب میں دو برطانوی کالونیوں، سیرا لیون اور آسٹریلیا کے مابین تقابل دلچسپی کا باعث ہے۔ آزادی کے فورا بعد سیرالیون میں ایک خاندان کی حکومت قائم ہو گئی تو ملک میں پائے جانے والے ہیروں کے وسیع ذخائر پر حکمران سٹیونز خاندان کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ حکمران خاندان نے اپنے مفادات کی خاطر برطانوی Extractiveٹھیکیداری نظام قائم رکھا، جبکہ ہیروں کی کانوں پر تسلط کے لئے انگریزوں کا ہی قائم کردہ ’ٹرسٹ‘ برقرار رکھتے ہوئے اس کے 51 فیصد حصص اپنے قبضے میں لے لئے۔
دوسری طرف طاقتور اور منظم قومی فوج کو اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھتے ہوئے کمزور کرنا شروع کر دیا گیا۔ ملک کی تمام معاشی پالیسیاں ایک خاندان اور اس چند حواریوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دی جاتیں۔ گورنر سٹیٹ بنک کو حکومت کی معاشی پالیسیوں سے اختلاف پیدا ہوا تو اچانک ایک روز دارالحکومت کی کثیر المنزلہ عمارت سے ان کے ’چھلانگ‘ لگا کر ’خود کشی‘ کر نے کی خبر سامنے آ گئی۔ سیرالیون بالآخر بدترین خانہ جنگی کا شکار ہوا اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج بھی اس کے عوام مفلسی کی زندگی جی رہے ہیں۔
اسی کے بر عکس، انیسویں صدی کے وسط میں جب آسٹریلوی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں میں سونے کے وسیع ذخائر دریافت ہوئے تو ملک اگرچہ ابھی بھی برطانوی کالونی تھا، تاہم عوامی نمائندگی پر مشتمل خود مختار سیاسی ادارے جڑیں پکڑ چکے تھے۔ چنانچہ تاج برطانیہ کی خواہش کے باوجود آسٹریلوی سیاسی اداروں نے سیرا لیون کی طرز کا کوئی مناپلی ٹرسٹ قائم کرنے سے انکار کرتے ہوئے عوام کو مائننگ کی کھلی اجازت دے دی۔ کوئی بھی مقامی شہری مقر ر کردہ فیس کی ادائیگی کے بعد سونے کی تلاش کر سکتا تھا۔
متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے یہی مہم جو تھے جو بعد ازاں Diggers کہلائے اور معاشی آسودگی پانے کے بعد آسٹریلوی سیاست میں متحرک کردار ادا کرنے لگے۔ انہی افراد پر مشتمل عوامی نمائندگان نے آسٹریلیا میں Universal suffrage اور خفیہ رائے شماری کی بنیاد رکھی۔ آسٹریلیا آج عالمی بساط پر ایک طاقتور کھلاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔
وطن عزیز نے استعمار کے استحصالی (Extractive) نظام سے آزادی تو حاصل کر لی تا ہم کئی ایک وجوہات کی بناء پر وسیع البنیاد قومی ادارے قائم نہ کیے جا سکے۔ معاشرے کی سرشت سے واقف بانی پاکستان نے 11 ستمبر والے دن نو زائیدہ مملکت کے قانون سازوں سے جو خطاب کیا، ہمارے ہاں کا مغرب زدہ لبرل طبقہ اسے محض ریاست اور مذہب کے باہم تعلق کے حوالے سے دہراتا ہے۔ اس طویل مگر فی البدیہہ خطاب کے اولین اور نسبتاً بڑے حصے کا ذکر عموماً نہیں کیا جاتا کہ جس میں نو زائیدہ مملکت کو الیٹ گروہوں کے تسلط اور ان سے منسوب مالی بدعنوانیوں سے لاحق خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔
چند ہی ماہ بعد جب قائد اعظم نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو نا اہلی اور اقربا پروری کے الزامات کی بناء پر ہٹا کر ان کی جگہ میاں ممتاز دولتانہ کو نامزد کیا تو انہوں نے اپنے دوست پر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آنے والے چند ہی برسوں کے اندر جاگیر دار گھرانوں، سویلین بیوروکریسی اور فوجی الیٹ کے اندر اتحاد قائم ہو گیا۔ برسوں پلوں کے نیچے پانی بہتا رہا۔ آج انہی جاگیر داروں کی اگلی نسلوں کے ساتھ مل کر ایک طاقتور کاروباری خاندان ملک پر حکمران ہے۔ سویلین بیوروکریسی سمیت سویلین قومی ادارے زوال پذیر جبکہ ملکی معیشت تباہ حال اور Elite Captureکے ہاتھوں یرغمال ہے۔
چنانچہ آج صورت حال کچھ یوں ہے کہ باپ مرکز تو بیٹا سب سے بڑے صوبے پر حکمران ہے۔ دوسرا خاندان دوسرے صوبے میں عشروں سے سیاہ و سفید کا مالک ہے۔ اب یہی دو بڑے خاندان طے کر رہے ہیں کہ کون کس قومی عہدے پر فائز ہو گا۔ پارلیمنٹ اپنی موجودہ ہیئت میں نامکمل اور ایک ایسا عضو معطل بن چکی ہے کہ جس کا واحد مصرف انتخابی اور احتسابی اداروں سے متعلق متنازعہ قانون سازی کرنا ٹھہرا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے کلیدی عہدے کو بے توقیر کرتے ہوئے اب اسی کو قومی اداروں میں من پسند تعیناتیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف اختلاف رائے کا اظہار کرنے والے افراد اور صورت حال سے بیزار ہو کر پر امن احتجاج کے لئے گھروں سے نکلنے والے عورتوں بچوں سمیت لا تعداد پڑھے لکھے شہریوں کو حال ہی میں جس بے رحمانہ ریاستی جبر اور بے دریغ تشدد کا سامنا کرنا پڑا وہ ناقابل بیان ہے۔ نتیجہ اس کا یہ کہ ’جمہوری‘ حکومتوں کا گرنا یا ٹھہرے رہنا آج بھی مقتدر اداروں کی جنبش ابرو کا محتاج ہے۔ اس سب کے باوجود الیٹ خاندان مل کر آئندہ چند مہینوں کے اندر ہماری آپ کی تقدیر بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اگر قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ کو دیکھا جائے تو سبق یہی ملتا ہے کہ کامیابی چند خاندانوں کے اقتدار، اقتدار کے لئے مقتدر غیر سیاسی اداروں پر انحصار (بصورت دیگر انہیں کمزور کرنے میں نہیں ) ، عوامی نمائندگی پر مشتمل وسیع البنیاد سیاسی اور خود مختار معاشی اداروں کو مضبوط بنانے میں پنہاں ہے۔

