افغان طالبان کا عوام کے ساتھ منفی رویہ!


پاک چمن بارڈر پر صورتحال مخدوش ہے۔ ایک طرف چمن کی طرف سے پاکستان کے سیکیورٹی اہلکار مسافروں کو تنگ کر رہے ہیں، تو دوسری طرف افغان سٹوڈنٹس نے سب کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ 15 اگست کے بعد سٹوڈنٹس آئے تو یہ امید پیدا ہو گئی تھی، کہ اب افغان عوام کی پاکستان آمد و رفت میں آسانی پیدا ہو جائے گی، مگر آسانی تو ملنے سے رہی، مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے اشرف غنی حکومت کے اہلکاروں کا مسافروں پر تشدد، گالیاں معمولی بات پر مسافر کو جیل بھیج دیا جاتا تھا تذکرہ (افغان نیشنلٹی) یا شناختی کارڈ کے نام پر مسافر کی تذلیل کی جاتی تھی، یہ بھی نہیں دیکھا جاتا تھا، مرد یا عورت جوان ہے یا بوڑھا، سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا رواج بن چکا تھا۔

سٹوڈنٹس کے آنے بعد امید یہی تھی، کہ اب افغانستان سے پاکستان آمد و رفت کے لئے ایک طریقہ کار بنایا جائے گا، اسی کے مطابق روزانہ بلا تعطل اور بغیر کسی جھگڑے کے لوگوں کی آمد و رفت ہوگی، مگر سٹوڈنٹس کا رویہ دیکھ کر لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے محبت کی بجائے نفرت بڑھ رہی ہے۔ معمولی باتوں پر لوگوں کے ساتھ الجھنا جھگڑنا پھر کئی دنوں تک بارڈر بند رہنا اب ایک معمول بن چکا ہے۔ لوگوں کے تجارتی سامان پاکستان کی طرف ہوں یا افغانستان کی طرف نقصان کی نظر ہوجاتا ہے۔

ایک طرف مہنگائی ہو دوسری طرف اس شعلے پھینکتی گرمی میں مال کا ضیاع بھی ہو، تو اس آدمی کے جذبات کیا ہوں گے؟ اکثر و بیشتر بارڈر کے بندش سے سبزیاں اور فروٹس خراب ہو کر انسان کی خوراک تو دور جانور تک کی خوراک کے قابل نہیں رہتے۔ یہ رویہ سٹوڈنٹس کے لیے لوگوں کے دلوں میں نفرت کا سبب بن رہا ہے سٹوڈنٹس کا سب سے بڑا حامی میں ہوں مگر ان کے اس رویہ پر ان سے دل میں خلش پیدا ہو گئی۔ گزشتہ دنوں چمن کا ایک رہائشی دوست بڑے وقفے کے بعد آیا تھا اس سے رمضان اور عید کا حال و احوال پوچھا ان کا بتانا تھا کہ کاروبار تو تباہ ہو گیا۔

وجہ پوچھنے پر اس کے آنکھوں میں آنسوؤں بھر آئے کہ سٹوڈنٹس کے آنے پر ہم جتنے خوش تھے اب تو نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر ان کے واپس جانے کی بد دعائیں کر رہے ہیں کہ بس وہ ظالم لوگ آئے وہ ٹھیک تھے مگر یہ منصفین اور زمین پر فرشتے ہمیں نہیں چاہیے۔

دوست کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں بولدک میں کچھ مال خریدا بارڈر کے قریب لایا دروازہ بند تھا ایک سٹوڈنٹ اہلکار سے صرف یہ بات پوچھنے کی غلطی کی کہ دروازہ کب کھلے گا؟ پھر کیا تھا ڈنڈوں اور لاتوں سے جو تواضع میری کی بخدا کسی قانون میں چور کی بھی ایسی پٹائی کی اجازت نہیں ہوگی پھر بھی سٹوڈنٹ کو روکتے ہوئے پوچھا کہ بھائی ایسی کیا غلط بات پوچھی جو آپ نے مجھے مارنا شروع کر دیا وجہ پوچھتے ہی کچھ فاصلے پر کھڑے سٹوڈنٹس کو آواز دے کر کہا کہ یہ بدتمیزی کر رہے ہیں ان کے میری طرف آنے سے پہلے میں نے فرار میں عافیت سمجھی وہیں مال کچھ نقصان کے ساتھ بولدک منڈی میں بیچ کر گھر آیا۔

اپنے لیے تو عید خریداری نہیں کی بچے بھی محروم رہے۔ واللہ اس کی حالت زار سن کر رونا آیا کہ یار یہ کیسے لوگ ہیں لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے کی بجائے نفرتیں بڑھا رہے ہیں۔ افغان عوام اس وقت اضطراب کا شکار ہیں دو وقت روٹی کے لئے ترس رہے ہیں مگر سٹوڈنٹس کے نخرے ہیں جو کم نہیں ہو رہے روزگار دے نہیں سکتے کم از کم ان کو تو روزگار کی تلاش کے لئے چھوڑ دیجئے آسانیاں پیدا نہیں کر سکتے مشکلات تو پیدا نہ کیجئے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا نہیں سکتے ان کے دلوں میں اپنے لئے نفرت کے بیج تو نہ بوئیں۔

لوگ علاج معالجہ اور روزگار کے سلسلے میں پاکستان آرہے ہیں پاکستان آنے کا واحد آسان راستہ چمن بارڈر باب دوستی ہے یہاں پر افغان عوام کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آیا کیجئے۔ یہ دل کے زخمی ہیں مزید ان کے زخموں پر نمک نہ چھڑکایے ان کی دعائیں لیجیے اور ان مظلومین کی آسمان شگاف بد دعاؤں سے بچ کر رہیں گے ورنہ پھر پہاڑوں کے مکین رہیں گے موقع ملا ہے تو خدمت کیجئے دن رات ایک کر کے افغان عوام کے مستقبل بہتر بنانے کے لئے پڑوسیوں اور آس پاس ممالک سے مدد لیجیے۔ اگر سنبھال نہیں سکتے آرام سے کرسی چھوڑ کر افغان عوام کو اپنا نمائندہ چننے کا موقع دیجئے پھر ان کی مرضی جس کو وہ اپنے لیے بہتر سمجھیں گے وہ کرسی سنبھال لے گا۔

Facebook Comments HS