دعا زہرا کی والدین سے ملاقات، میڈیکل رپورٹ پر فیصلہ محفوظ
خیال رہے کہ اس سے قبل عدالت کے حکم پر کیے گئے میڈیکل ٹیسٹ میں دعا زہرا کی عمر کا تعین کیا گیا تھا مگر ان کے والد مہدی کاظمی کی جانب سے اس کی رپورٹ پر تحفظات ظاہر کیے گئے۔
سول ہسپتال کراچی کے ریڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے اور ان کی عمر ’17 سال کے قریب ہے۔‘
تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی نے اس میڈیکل رپورٹ پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
بدھ کے روز ہونے والی عدالتی سماعت کا احوال
بدھ کو دعا زہرا سندھ ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا ہے کہ یہ مقدمہ آپ ٹرائل کورٹ میں کر سکتے ہیں، ہمارے پاس تو آپ کی پٹیشن ہے، بچی نے ہمارے پاس بیان رکارڈ کروادیا ہے۔
عدالت کے استفسار پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ کسٹڈی لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنی ہے کیونکہ لاہور ہائیکورٹ نے آرڈر پاس کیا ہے کہ دس جون کو انھیں وہاں پیش کیا جائے۔
دعا زہرا کے والد کے وکیل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک طریقہ کار موجود ہے، کیس یہاں پر چل رہا ہے تو بچی کو وہاں کیسے پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس لمحے عدالت اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ بھی ہوا۔ عدالت نے وکیل سے کہا کہ کیس کو پرسنل نہ لیں، دلائل دیں۔ عدالت نے دوران سماعت جب دعا زہرا کو روسٹرم پر بلایا تو ان کے والد نے عدالت سے کہا کہ میری شادی کو 16 سال ہوئے ہیں تو میری بچی 17 کی کیسے ہو گئی؟
ان کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر 14 برس ہے اور کم عمری کی شادی کے لیے ان کا جعلی نکاح نامہ بنایا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ والدین کی موجودگی میں دوبارہ میڈیکل کرایا جائے اور عمر کی تصدیق کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
واضح رہے کہ دعا زہرا رواں سال اپریل میں کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ بعد میں اُنھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے اپنی پسند سے شادی کر لی ہے۔
دعا زہرا کی والدین سے ملاقات
جب دعا زہرا روسٹرم پر پیش ہوئیں تو عدالت نے دعا زہرا سے کہا کہ کیا آپ اپنے والد سے ملاقات کرنا چاہیں گی؟ عدالت کے یہ ریمارکس سنتے ہی رونا شروع ہو گئیں۔ اس کے بعد عدالت نے دعا کو چیمبر میں والدین سے ملاقات کی ہدایت کی۔
یہ ملاقات چیمبر میں دس منٹ تک ہوئی جس دوران جذباتی مناظر دیکھے گئے۔ ملاقات کے بعد پولیس دعا زہرا کو اپنے ساتھ لے گئی۔ دعا زہرا کی والدہ نے کہا کہ میری بچی نے کہا کہ وہ گھر چلنا چاہتی ہیں، میری بچی کو زبردستی یہاں سے لے گئے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وہ بے ہوش بھی ہو گئیں۔
دعا زہرا کو کراچی میں دارالامان بھیجنے کا حکم، پیر کو عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟
سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرانے کا حکم دیا تھا اور انھیں کراچی میں دارالامان بھیج دیا تھا۔
پیر کے روز سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے اس دو رکنی بینچ، جو پہلے سے ہی دعا زہرا کے مبینہ اغوا سے متعلق ان کے والدین کی آئینی درخواست کی سماعت کرتا رہا ہے، سے درخواست کی کہ وہ اس کیس کی فوری سماعت کرے، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
کیس کے سماعت کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران دعا زہرا اور ان کے شوہر ظہیر احمد کو لے کر کمرہ عدالت آئے۔ اس دوران دعا کے والدین نے ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی تاہم دعا نے انکار کر دیا۔
اُن کے والد مہدی علی کاظمی نے سندھ ہائی کورٹ میں اُن کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے۔
سوموار کے روز پنجاب پولیس نے دعا زہرا کو بازیاب کروا کر کراچی پولیس کے حوالے کیا تھا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کے مطابق دعا زہرا اور ان کے شوہر ظہیر نے ضلع بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں میں ایک رشتے دار کے گھر پناہ لے رکھی تھی۔
سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے عدالت کو بتایا کہ عدالت نے گذشتہ ہفتے آئی جی سندھ کو حکم دیا تھا کہ وہ لڑکی کو بازیاب کرا کر عدالت کے روبرو پیش کریں جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی اسی قسم کے احکامات جاری کیے تھے۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار نے استفسار کیا کہ جب کیس 10 جون کو سماعت کے لیے مقرر ہے تو پھر آج کیوں لے آئے؟ جس پر اے جی سلمان طالب نے جواب دیا کہ ’عدالت کا حکم تھا کہ جیسے ہی دعا زہرا بازیاب ہوں، انھیں عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔‘
سلمان طالب نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ نے بھی دعا کو 10 جون کو عدالت میں پیش کرنے کاحکم صادر کر رکھا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
دعا زہرا: پاکستان میں کم عمری کی شادیاں روکنا اتنا مشکل کیوں؟
دعا زہرا اوکاڑہ پولیس کی تحویل میں، ویڈیو پیغام منظرِ عام پر: ’بالغ ہوں، مرضی سے شادی کی‘
حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن لڑکی عین نکاح کے وقت بازیاب
اس موقع پر جسٹس امجد سہتو نے پوچھا کہ ملزم کہاں ہے؟ جس پر سلمان طالب نے بتایا کہ لڑکی اپنی مرضی سے صوبہ چھوڑ کر گئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ’لڑکی نے پنجاب جا کر اپنی مرضی سے محمد ظہیر سے پسند کی شادی کی ۔ ان کے اس عمل سے یہاں (سندھ) کے قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔‘
عدالت نے پوچھا کہ کیا ’یہاں لڑکی کے اغوا کا کیس درج نہیں کیا گیا؟‘ جس پر دعا کے والدین کے وکیل الطاف کھوسہ نے مداخلت کرتے ہوئے بتایا کہ دعا کی عمر 18 سال سے کم ہے اور ان کے اغوا کا مقدمہ کراچی میں درج ہے۔‘
دعا کے والدین کے وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ دعا نابالغ ہیں اور ان کی عمر 13 سال اور کچھ ماہ ہے جبکہ ابھی کیس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہیں۔
عدالت نے دعا زہرا کو روسٹرم پر طلب کر کے پوچھا کہ آپ کی عمر کیا ہے، جس پر دعا نے عدالت کو بتایا کہ ’میرا نام دعا زہرا ہے اور میری عمر 16-17 برس ہے۔ میں ظہیر کے ساتھ رہتی ہوں۔‘
جج نے استفسار کیا کہ وہ ابھی کہاں رہائش پذیر ہیں، جس پر دعا نے عدالت کو بتایا کہ ’مکان نمبر معلوم نہیں۔‘
جسٹس سہتو نے پوچھا کہ آپ کے والد نے کہا ہے کہ ظہیر نے آپ کو زبردستی اغوا کیا گیا، جس پر دعا نے کہا کہ ’مجھے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ میں اپنی مرضی سے گئی تھی۔‘
اس کے بعد جسٹس سہوتو نے دعا سے پوچھا کہ اب آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟ تو دعا نے کہا کہ وہ اپنے شوہر ظہیر کے ساتھ جانا چاہتی ہیں۔

