علی دوست عاچز: حسن پرست اور عشق کے عمیق شاعر
علی دوست عاجز کا سندھی زبان کے معروف جدید، ترقی پسند، وطن دوست اور جمالیات کے اہم شعراء میں شمار ہوتا ہے۔ طبع میں نفاست کے یہ سمندر شخص نفیس احساسات کا شاعر بھی ہے۔ احساسات کے رنگین اور خوشبودار دھاگوں کو شعر کے تانے بانے میں تشبیہات اور استعاروں کی رنگینیوں سے ایسی شاعرانہ صلاحیت اور مہارت سے بنتے ہیں کہ شعر میں وہ خوبصورت احساس صرف شاعر کے نہیں رہتے پر ہر پڑھنے اور شعر سننے والے کے احساسات کے ترجمان بن جاتے ہیں۔ عشق میں سراپا عجز شاعر علی دوست عاجز کے شاعرانہ اظہار کا اپنا انداز ہے۔ اس کا اپنا ڈکشن اور نفاست کی خوبی سے سرشار پیشکش بھی اس کی اپنی ہے۔
علی دوست عاجز اپنے ہم عصر یا اپنے عہد میں اپنا الگ شاعرانہ مقام رکھتے ہیں۔ اس نے سندھی زبان کی کلاسیکی شاعری اور عروضی شاعری کے ہر اصناف کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس نے تالپور دور کی لوک رومانوی کہانی ’سونی باغو‘ جو سندھ رانی سے بھی مشہور ہے، اس پر بہترین انداز میں اوپیرا لکھا ہے اور وہ اوپیرا اس کی شاعرانہ قابلیت کی وجہ سے بہت مقبول ہے۔
علی دوست عاجز کی شاعری میں تخیل، جذبوں کی حساسیت مقناطیس کی طرح چھوتی ہے۔ اس کے شعر میں مختلف اور وسیع موضوعات نظر آتے ہیں لیکن اس کی شاعری میں عشق اور حسن کی رعنائی، حسن و جمال کے پہلوؤں کی پرکشش چاشنی زیادہ ہے۔ علی دوست عاجر نہ صرف محبوب کی زیبائی، حسن نظر، خود آرائی، وضع داری، خوش خرامی، محجوبانہ انداز، ناز نخروں اور اس کی حسناکی کے شاعر ہیں مگر فطرت سے پیار کرنے والے اس شاعر نے فطرت اور قدرت کی حسناکی کو بھی شعر کا موضوع بنایا ہے۔ اس غیر روائتی شاعر میں کہیں تھوڑی کچھ روایت پسندی بھی نظر آتی ہے۔ وہ روایت پسندی اپنے بڑے شعراء کے موضوعات کا اپنے رنگ ڈھنگ میں بیان اور سماج میں آج تک قابل قبول رومانوی داستانوں کے بیان کی شکل میں محسوس ہوتی ہے جو درحقیقت قابل قبول ہے۔
علی دوست عاجز کو حسن پرست اور عاشق مزاج شعراء میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس کی شاعری میں حسن پرستی، عشق کی مہمیزیں اور قزح قوس کے رنگوں جیسی رنگینیاں جھلکتی ہیں۔ یہ عشق اور حسن کے گلابوں کی رنگتوں کے شاعر ہیں۔ اس کی شاعری میں حسن کی حسناکی سرسوں کے پھولوں کی رنگتوں کی طرح پھیلی ہوئی ہے۔ یہ عشق کے اظہار میں گہرا ساگر محسوس ہوتا ہے۔ علی دوست عاجر کو حسن پرست اور عشق میں عقیق شاعر کہیں تو مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔

پنوں کو پتہ کیا یا مہینوال کو،
مریں یا بچیں وہ ماری ہجر کی!
کہ سجنی جو روٹھی تو موسم بنا بارشوں کا،
جو آئی لگا یوں کہ ساون میں ندی بہہ گئی ہو،
جھکی تو لگا یوں قزح قوس نیچے اتر آ گئی ہو۔
یہ جو سانس ہیں سرندے کی ماند بجتے ہیں۔
بن تیرے یہ جلتے انگارے سینے میں سلگتے ہیں۔
*سرندہ ساز کی قسم
تیری باہوں میں جیسے نکھر کہ اڑنے لگتا ہوں میں۔
بچھڑ کے جاتی ہو تم تو بکھر کہ رہ جاتا ہوں میں۔
یہ آنکھوں کے پیاسے ہرن آ رہے ہیں،
پتہ کیا یہ جینے یا مرنے جا رہے ہیں۔
جہاں دونوں عرصے سے جلتے رہے ہیں۔
تیرے پاس ٹھنڈک یہ پاتے رہے ہیں۔
سجنی یہ دل جگہ جگہ سے ٹوٹا ہے جب،
اس کو سینا تیرے بس کی بات نہیں اب۔
جب کبھی میں بیٹھتا ہوں تیری محفل میں۔
عمیق عشق میں تیرتا ہوں تیری محفل میں۔


