سب سے پہلے پاکستان
دیس کا شہری اس امر سے واقف ہے کہ ملکی حالات کس قدر تشویش ناک صورت حال اختیار کر چکے ہیں معاشی ناہمواری کی لہر نے اس ملک کی معیشت کو ایسے زخم دیے جو مرہم نہ رکھنے کے باعث ناسور کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ایسی مہلک اور حد درجہ تشویش ناک صورت حال میں ہر شہری کی حب الوطنی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایسا کردار ادا کریں جس سے اس ملک پاکستان کے وجود پر کوئی آنچ نہ آئے شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں
غربت میں ہوں اگر ہم ’رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو ہمیں وہیں ہی دل ہو جہاں ہمارا
وطن کی محبت ایمان کا جز ہے اور وطن کی محبت انسانی زندگی کا اعلیٰ ترین مقصد ہونا چاہیے اس وقت پاکستان کی تقریباً ستر فیصد آبادی غربت کدوں میں اپنے شب و روز بسر کر رہی ہے یہ وہی لوگ ہیں جو وطن کی مٹی پر نثار ہونے کے لئے تازہ دم رہتے ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کے دوران تحریک میں اپنے آبا و اجداد نثار کر دیے۔ قیام پاکستان سے لے کر تا حال سیاست کا محور یہی رہا کہ اس سادہ لوح عوام کو کیسے شخصی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا جائے وہ ملک کیا خاک ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرے گا جس کی عوام کی آنکھوں سے اس کے روشن مستقبل کے خواب چھین لئے جائیں۔
حالات کی دستک ملک ڈیفالٹ ہونے کی جانب اشارہ دے رہی ہے اللہ نہ کرے جس ملک کی اساس میں ہمارے آبا و اجداد کی دس لاکھ قربانیاں مدفن ہیں وہ ملک دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے۔ حقائق کی چیختی پکار یہ آشکار ضرور کر رہی ہے کہ ملک عزیز کے قومی خزانے اور وسائل پر جس بے دردی کے ساتھ نقب لگا کر دیار غیر میں اثاثوں اور کاروبار کو تقویت دی گئی یہ کوئی پوشیدہ راز نہیں رہا لیکن کیا ملک کے ایسی اسٹیک ہولڈرز اشرافیہ کے خلاف مزاحمت کر کے ملک کی نظریاتی سرحدوں کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور پاکستان کے شہریوں کو وہ حقوق مل سکتے ہیں جو ریاست کی ذمہ داری میں شامل ہیں اس عمل سے نہ ملک کے مسائل حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی اس دیس کی دھرتی پر امن کی فاختہ چہچہا سکتی ہے۔
اس ملک کے قیام کو ستر سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے لیکن المیہ ہے کہ ہم آج بھی کسی مسیحا اور معجزے کے منتظر ہیں پاکستان کے عام شہریوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حالات کی تبدیلی کے لئے کسی معجزے اور مسیحا کا انتظار کرنے کی بجائے خود قدم اٹھائیں۔ آج اس بائیس کروڑ عوام کو ایک قوم بن کر سوچنا چاہیے کہ انہوں نے کرنا کیا ہے اور اس عہد کی ضرورت کیا ہے جب تک ملک کا عام شہری اپنی درست سمت کا تعین نہیں کرے گا تب تک حالات درست سمت اختیار نہیں کریں گے اور نہ ہی بنیادی مسائل کا حل ان کی دہلیز پار کرے گا حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی طور پر بیدار ہوں اور ’سب سے پہلے پاکستان‘ کو اولین ترجیح پر رکھیں اس ملک کے نفع و نقصان کے ذمہ دار بنیں۔
اگر ہم بحیثیت شہری صرف ایک ووٹر کی حیثیت سے ملک کی سیاسی اشرافیہ کے دل پذیر نعروں کی رو میں بہہ کر اپنا اور نسل نو کا مستقبل ان کے پاس گروی رکھ دیں گے تو ایسے حالات کے سزاوار ہم بھی ہیں۔ گریبان میں جھانکیں کیا ہم محب وطن ہیں حب الوطنی تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنے ملک اور ریاستی آئین کے ساتھ وفادار ہو ’ریاست عوام کے اجتماعی طور پر ایک نظم کے تحت رہنے اور زندگی گزارنے کا نام ہے عوام کے ساتھ دوستانہ برتاؤ‘ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری اور اجتماعی فلاح و بہبود میں حصہ داری حب الوطنی ہے یہ وہ اوصاف ہیں جو قوموں کو ممتاز کرتے ہیں اور قوموں کے یہی کردار تاریخ کا حصہ بنتے ہیں۔
اگر آپ نظریاتی طور پر محب وطن پاکستانی بننا چاہتے ہیں تو قومیت ’فرقہ واریت سے باہر نکلیں مسلکی اور قوم پرستی کی تقسیم نے تو پہلے ہی اس ملک عزیز کو ڈسا ہے اور باقی رہی سہی کسر چند خاندانوں کی موروثی سیاست نے نکال دی ملک کے جمہوری و پارلیمانی نظام پر یہی خاندان قابض ہیں جن کی جمہوریت کے نام پر قائم کی گئی سیاسی جماعتوں میں آمرانہ رویوں اور سوچ کو فروغ ملا۔ تبدیلی نعروں سے نہیں آتی جب تک ہم خود کو تبدیلی کے لئے تیار نہیں کریں گے انفرادی و اجتماعی طور پر خود کو پرکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم حب الوطنی کے تقاضوں سے کس قدر ہم آہنگ ہیں زندگی کے تمام شعبہ جات میں جب ہم عملی طور پر خود نمونہ نہیں بنیں گے تبدیلی نہیں آئے گی اور ہم مزید پستی کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔
اس وقت ملک کو شدید قسم کے اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے ملک سیاسی و معاشی طور پر استحکام کی پٹڑی سے مکمل طور پر اتر چکا ہے اس کے سدھار کی بجائے ہمارے اجتماعی رویوں اور سوچ میں تبدیلی نہیں آئی سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف جس قسم کا زہریلا اور پرفتن پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور جس طرح کی فتنہ خیز زبان استعمال کر رہے ہیں کوئی محب وطن ایسی زبان کا استعمال تو دور کی بات اس بارے سوچ بھی نہیں سکتا سوچیں صرف اپنے سیاسی آقاؤں کے سیاسی مفادات اور ان کی سیاسی بقاء کے لئے ہم ملکی سالمیت کو داؤ پر لگانے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔
ایڈولف ہٹلر کہتا ہے کہ کسی قوم کو پہلی ضرب لگانے کا پہلا طریقہ اس ملک کی فوج کو اس قوم کی نظروں میں اتنا مشکوک بنا دو کہ وہ اپنے محافظوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے آج ایک خطرناک گھناؤنی سازش کے تحت ملک دشمن قوتیں افواج پاکستان کے کردار کو مشکوک بنانے کے لئے ایک صفحہ پر متحد ہیں۔ بظاہر یہ چمکتی ہوئی کلف زدہ بے شکن فوجی وردی اپنے اندر حب الوطنی پر نثار ہونے کی بے انت داستانیں سموئے ہوئے ہے یہ میرے وطن کے ایسے گمنام سپاہی ہیں جن کے سینوں میں دل کی جگہ پاکستان دھڑک رہا ہے احتیاط کیجیئے یہ ملک کے خدمت گار ہیں دشمن جو مقاصد کروڑوں ڈالر خرچ کر کے حاصل کرتا ہے مفت میں نہ کیجیئے۔ پاک فوج ہر قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ایسے ناعاقبت اندیش جو اس پروپیگنڈا کا حصہ بن رہے ہیں ان سے دست بستہ التجا ہے کہ خدا را آنکھیں کھولیں اور پاک فوج کے ہاتھ مضبوط کرتے ہوئے ان کا مورال بلند کریں کیوں کہ پاکستان ہے تو سب کچھ ہے!


