قاسم اعوان: اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں فوڈ پانڈا کے مینیجر دوران واردات گولی لگنے سے ہلاک


’قاسم اعوان میرا بچپن کا دوست اور جِم پارٹنر تھا۔۔۔ وہ ہمیں بہت جلدی چھوڑ گیا۔‘

یہ کہنا ہے عمر امام کا جنھوں نے اپنے دوست کے قتل پر غم کا اظہار کیا ہے۔ ان سمیت کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغامات میں بتایا ہے کہ 25 سالہ قاسم ایک انتہائی قابل نوجوان تھے۔

اتوار کی شب قاسم وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں موجود تھے جب پولیس کے مطابق دوران وردات انھیں گولی لگی اور وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے۔

قاسم نے پاکستان کی بڑے یونیورسٹیوں میں سے ایک لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائسنز (لمز) سے اکنامکس میں گریجویشن کیا تھا اور وہ کھانے کی ڈیلیوری ایپ ’فوڈ پانڈا‘ میں بطور مینیجر کام کرتے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے سوشل میڈیا پر #JusticeforQasimAwan (قاسم اعوان کے لیے انصاف) کا ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے جس میں شہری ایسے جرائم کی وجہ پولیس کی غفلت کو قرار دے رہے ہیں اور قاسم کے لیے انصاف مانگ رہے ہیں۔

ادھر اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

’اس نوجوان، قابل شخص کو اسلام آباد میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا‘

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دوران واردات پیش آیا جس میں قاسم اعوان گولی لگنے سے زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاسکے۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے ملزمان کی جلد گرفتاری کے لیے احکامات جاری کیے ہیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’قاسم اعوان کو 5 جون کی رات ایف نائن پارک میں ملزمان نے فائر کر کے زخمی کیا جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔‘

پیر سے قاسم اعوان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد انھیں پمز ہسپتال اسلام آباد میں داخل کیا گیا جہاں ان کی ایک سے زیادہ سرجریاں ہوئیں اور خون کے عطیے کے لیے واٹس ایپ گروپس میں پیغامات بھیجے جاتے رہے۔

وہ لاہور میں ملتان روڈ کے قریب واقع اعوان ٹاؤن کے رہائشی تھے جہاں بدھ کو ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ان کے ایک دوست عبدالوہاب خان نے فیس بُک پر لکھا کہ قاسم اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے۔

’قاسم لمز سے پڑھے تھے اور انھوں نے پاکستان میں رہنے اور کام کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ان کی کلاس کے ساتھیوں کی اکثریت بہتر ملازمت اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ملک چھوڑ چکی تھی۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ایک دن پہلے ولیمہ ہوا، ہنی مون پر جانا تھا مگر قاتل نے اس کی مہلت ہی نہ دی‘

اوکاڑہ میں احمدی نوجوان کا قتل: ’ہم سے تو جینے کا حق ہی چھین لیا گیا‘

ان کے دوست اسد شیخ کہتے ہیں کہ وہ لاہور میں فوڈ ولاگرز کے معروف گروپ فوڈیز آف اس کے بانی رکن تھے۔

’وہ ہمیشہ مسکراتے اور ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتے اور عزت دیتے۔‘

علی نامی صارف نے واقعے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں شہر کے سب سے بڑے پارک ایف نائن میں ڈکیتی کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا اور یہ جگہ ایئر فورس ہاؤسنگ سوسائٹی کے بھی قریب ہے۔‘

عمیرہ باری کہتی ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں ’صبح شام ہزاروں لوگ آتے جاتے ہیں۔‘

منزہ صدیقی نے لکھا کہ ’اس نوجوان، قابل شخص کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’قاسم کو اتوار کے روز ملک کے دارالحکومت میں ایک عوامی پارک میں مارا گیا۔ یہ کہنے سے پہلے کہ ہم محفوظ ملک میں رہتے ہیں، دو بار سوچ لیں۔‘

زین حسن نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’اسلام آباد دارالحکومت ہے اور سب سے محفوظ جگہ ہے۔ میرے خیال میں اس بارے میں اس سے زیادہ کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp