معیشت کی بحالی کے ناکافی اقدامات


یہ ایک حقیقت ہے کہ 75 سال سے معاشی ابتری ہے اور مشکل فیصلوں کے نام پر ہمیشہ غریب اور مڈل کلاس طبقے پر بوجھ ڈالا جاتا رہا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اب اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں، فیوڈلز، بیوروکریسی، اعلیٰ عدلیہ، میڈیا ایلیٹ اور کارپوریٹ ایلیٹ کو بوجھ اٹھانا ہو گا، پورا ٹیکس دینا ہو گا، مراعات واپس کرنا ہوں گی، اپنی جیبیں ہلکی کرنا ہوں گی۔ ہمیشہ کی طرح مشکل فیصلوں کے نام پر سارا بوجھ غریب اور مڈل کلاس پر ڈال کر اب اشرافیہ، بری الزمہ نہیں ہو سکتی۔ اور نہ یہ پسا ہوا طبقہ مزید بوجھ اٹھا سکتا ہے۔

معیشت کی بحالی کے لیے چند گزارشات جنہیں حقیقی معنوں میں مشکل فیصلے کہنا چاہیے، اگر حکومت وقت کر لے تو تمام قوم کو ان کا ساتھ دینا چاہیے اور قوم کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔

میثاق معیشت: تمام سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کے طے کریں کہ آئندہ معیشت پہ سیاست نہیں ہو گی۔ کوئی ایکس سروس مین کوئی ویٹرنز، کوئی وکلا سوسائٹی، کوئی سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں معیشت پر ہرزہ سرائی اور سیاست نہیں کریں گے۔ سب اس ایک بات پر میثاق کر لیں اور اس میثاق کو پبلک کر دیا جائے۔ احتجاج کے نام پر بدامنی اور شرپسندی کو مستقل طور پر مسترد کر کے پر امن احتجاج کے لیے ضابطہ اخلاق مرتب کر کے تمام شراکت دار اس پر دستخط کریں۔ اور اس کے بعد اس میثاق پر عمل درآمد کروانے کی ذمہ داری ہر پارٹی کے سپورٹرز کی ہو بشمول ایکس سروس مین اور ویٹرنز۔ جب بھی ان کی پارٹی کی لیڈرشپ معیشت پر سیاست چمکانے کی کوشش کرے پارٹی کے اندر سے ہی اس کے سپورٹرز اس کو مسترد کر دیں۔

مکمل معاشی ایمرجنسی: پاکستان کی معیشت کرم فرماؤں کے کرم سے آج جس نہج پر ہے وہ اس بات کی متقاضی ہے کہ مکمل معاشی ایمرجنسی نافذ کر دی جائے۔ خوشی کی خبر یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے جزوی ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور چند قابل تعریف اقدام اٹھائے ہیں جیسا کہ غیر ضروری لگژری اشیاء کی امپورٹ پر مکمل پابندی اس سے سالانہ 6 ارب ڈالر کی مبینہ بچت ہو گی۔ دوسرا کابینہ کے بیرون ملک علاج پر پابندی ایک قابل تحسین اقدام ہے، ہفتے کی چھٹی کی بحالی، اور وزراء کی مراعات میں کمی کے اقدامات بھی قابل ذکر ہیں۔

اب اس پر من و عن عملدرآمد کے راستے میں ہر رکاوٹ کا تدارک ایک قومی فریضہ سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔ چاہے وہ کسی سیاسی پارٹی کی معیشت کو ڈبونے کے لیے دانستہ اشتعال انگیز سیاست ہو یا بیرونی امن دشمنوں کی کارروائیاں ہوں، اس وقت پاکستان کسی بھی داخلی اور خارجی انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا معیشت کی بحالی بدامن معاشروں میں طوفان میں دیا جلائے رکھنے والی آزمائش کے مترادف ہوا کرتی ہے۔ لہٰذا داخلی اور خارجی خطرات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

مراعات یافتہ طبقے کی مراعات میں نمایاں کمی: اشرافیہ نے پچھتر سال تک اس ملک کے وسائل میں سے سب سے زیادہ حصہ وصول کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان مراعات یافتہ طبقات کو ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ ملازمین، فری پٹرول، فری بجلی، اور پرکس اینڈ پریولیجز کو رضاکارانہ طور پر ریاست کے حق میں دستبردار ہو کر قابل تقلید مثال قائم کرنی چاہیے۔ ہر طرح کا فری پٹرول، بجلی، گاڑیوں پر مکمل پابندی لگادی جائے۔

امپورٹ بل میں سنجیدہ کٹوتی:

تمام غیر ضروری اور لگژری اشیاء بشمول امپورٹڈ کاریں، ان پر کم از کم دس سال کے لیے مکمل پابندی لگا دینی چاہیے۔ اڑتیس اشیاء پر موجودہ حکومت نے پابندی لگائی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ مزید ریشنلائزیشن کی ضرورت ہے۔

مارکیٹس اور کاروباری مراکز کے اوقات کار: ملک بھر میں تمام مارکیٹس اور کاروباری مراکز کے اوقات کار صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک کر دینے چاہئیں۔ اس سے بجلی کی بچت ہو گی۔ کفایت شعاری کی ترویج ہو گی اور قومی دولت میں اضافہ ہو گا۔

شادی ہال کے اوقات کار اور ون ڈش:

آج تک ون ڈش کی قابل قبول تعریف پاکستان میں کا فی لبرل ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ اسے حقیقی معنوں میں ایک سالن روٹی اور ایک بوتل یا سردیوں میں ایک کپ چائے تک محدود کر دیا جائے اور شادی ہالز کے اوقات کار وہی ہوں جو مارکیٹس اور کاروباری مراکز کے اوقات کار ہوں۔ غیر ضروری اخراجات اور تقریبات پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے۔

جہیز پر مکمل پابندی: اس کے متعدد فوائد ہیں۔ ایک تو اس پابندی کے بعد ہر غریب کی بیٹی کا نکاح ہو جائے گا۔ دوسرا معاشرے کو نمود و نمائش کی لعنت سے نجات ملے گی، تیسرا غیر ضروری اخراجات میں کمی سے بچت اور چوتھا مہنگائی میں کمی واقع ہو گی۔

ایک سے زیادہ حج اور غیر ضروری بیرونی سفر پر پابندی: ایک سے زیادہ حج پر مکمل پابندی، زیارات مقدسہ ایران، عراق کے لیے بھی ایک ہی سفر کی اجازت اور پھر مکمل پابندی۔ اس کے علاوہ غیر ضروری اور سیرو تفریح کے لیے بیرون ملک سفر پر مکمل دس سال کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے۔

نمود و نمائش اور مہنگی اشیاء کی حوصلہ شکنی: پچھلے کچھ سالوں میں مہنگی تقریبات اور شادیوں کو پاکستانی میڈیا نے خاصا گلوریفائی کر کے پیش کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے اہل ثروت اور صاحب حیثیت لوگوں میں ایک مقابلے کی فضاء پیدا ہوئی ہے اور غیر ضروری اور غیر مناسب اخراجات کا کلچر رواج پا رہا ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ غیر ضروری اور بے تکے اخراجات پر پابندی لگا دے۔ اور میڈیا کو چاہیے کہ اس طرح کے واقعات کی حوصلہ شکنی کرے۔ یہ ملک بائیس کروڑ کا ہے سب کو اس کی تعمیر میں حصہ ڈالنا ہو گا۔ جب تک ہم خود دردمندی سے مسئلے کا حل تلاش نہیں کریں گے ہم استعمال ہوتے رہیں گے۔

’رشتہ دیوار و در، تیرا بھی ہے میرا بھی ہے
مت جلا اس کو یہ گھر تیرا بھی ہے میرا بھی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد سجاد آہیر

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 37 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments