عامر لیاقت حسین


کل فیس بک کھولا تو ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی موت کی خبر کسی نے پوسٹ کی ہوئی تھی۔ میں بالکل حیران رہ گئی۔ اور مزید حیرانی اور افسوس تب ہوا جب جس سے ہو سکا، اس کی موت پر بولنا اور لکھنا شروع کر دیا۔ کوئی اس کو فرشتہ ثابت کرنے پر تلا ہے اور کوئی اسے مردود لکھ رہا ہے۔ کسی کے نزدیک وہ قتل ہوا اور کوئی اسے اپنے گناہوں سے مرنے والا کہہ رہا ہے۔

بہت سوں کو تو اس کے ڈپریشن کی بھی فکر ہو رہی ہے اور بعض کے نزدیک خس کم جہاں پاک۔ کوئی اس کے میڈیا ٹرائل پر افسوس کر رہا ہے اور اکثر نام نہاد مسلمان کہتے ہیں کہ چلو معاشرہ ایک اور رذیل سے صاف ہوا (یہ سب وہ الفاظ ہیں جو ہمارے پڑھے لکھے، کہنے کو مشہور لوگ لکھ اور بول رہے ہیں۔ میں صرف ان کو دہرانے کی غلطی کر رہی ہوں ) ۔ یعنی ہر کوئی بہتی گنگا سے فائدہ کما رہا ہے۔ اس کے حق اور مخالفت میں رہ کے ان ہے۔

ویسے مجھے کبھی بھی لائم لائٹ میں رہنے والے انسانوں سے دلچسپی نہیں رہی۔ بھلے وہ اینکر ہوں، موٹیویشنل اسپیکر ہوں یا کوئی اور نامور انسان۔ مجھے ہمیشہ یہی لگتا ہے کہ اچھی بات اور عمل کہیں سے بھی ملے، وہ سیکھنا چاہیے۔ انسانوں کو پسند کرتے کرتے ان کے بت بنا کر پوجنا بھی شخصیت پرستی جیسی بیماری میں مبتلا کرتا ہے۔ جس میں وہ انسان پھر مٹی کا پتلا نہیں رہتا۔ جو خطا وار ہو سکتا ہے۔ گناہ گار ہو سکتا ہے۔ وہ پھر خدا بن جاتا ہے۔

جس کو ہم اتنے اونچے سنگھاسن پر بٹھا دیتے ہیں۔ کہ جب وہ بت ٹوٹتے ہیں تو ہم انھیں سانس لینے کی گنجائش بھی نہیں دیتے۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ مجرم سزا سے مستثنی ہو جائیں۔ لیکن یاد رہے، مجرم۔ گواہوں اور ثبوتوں کے ساتھ۔ ہماری عدلیہ اگر کمزور ہے تو آپ کسی فورم پر بات کریں لیکن گواہ ساتھ ثبوت۔ ورنہ سوشل میڈیا تو ایسی گندگی ہے جس پر ہر کوئی جج، ہر کوئی منصف اور ہر کوئی مفتی ہے۔ اور ہر کسی کے پاس پرمٹ ہے، لمحوں میں کسی بھی انسان پر کیچڑ اچھالنے کا (نہ عامر لیاقت کو ڈیفینڈ کر رہی ہوں نہ اس کے کسی عمل کو۔ میرے لئے وہ کبھی بھی قابل توجہ نہیں رہا) ۔

میں اس لئے لکھنے پر مجبور ہوں تاکہ ہم آئینہ دیکھنے کی ہمت کر سکیں۔ ایک طرف وہ تھا جو کم از کم ٹیلنٹڈ تھا۔ اس کے ہنر اس کے لئے دولت اور نام تو کما سکے (بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا) لیکن نیک نامی اس کا نصیب نہ بن سکی۔ تین شادیاں کر کے بھی وہ حالت نزع اور موت میں تنہا رہا۔ رفاقت کی خوشی، اولاد کا ساتھ اور سکون اس کو میسر نہیں ہوا۔ کروڑوں کی جائیداد کا مالک تھا لیکن آخری وقت گھر کے تہہ خانے میں بنے ایک کمرے میں دم نکل گیا۔

ہمیشہ روشنیوں میں رہا۔ چمک دمک کا حصہ بنا رہا لیکن آخری ٹائم اندھیرے اور دھوئیں میں جاں دے دی۔ ہر وقت دوست احباب اور چاہنے والوں (خوشامدی اور مطلب پرست بھی ہو سکتے ہیں ) میں گھرا رہا۔ لیکن دنیا سے رخصت ہوئے کوئی ایک بھی اسے پانی کا گھونٹ پلانے کو موجود نہیں تھا۔ ساری زندگی خبروں کی زینت بنا رہا ہے لیکن جب اپنی موت کا سفر کر رہا تھا تو ایسی خاموشی سے گزرا کہ گھر میں موجود واحد فرد کو بھی خبر نہ ہو سکی۔

اور دوسری طرف وہ رائٹرز حضرات ہیں جو اس کی اپنے ساتھ ذاتی تعلق اور دشمنی اور بھیانک رویوں پر (بھلے سچ ہی ہوں ) بہت کچھ تلخ کہنے کو صفحے کالے کر رہے ہیں۔ اگر یہ تب ثبوت سمیت آشکار ہوتے، جب وہ زندہ تھا تو کوئی فائدہ بھی تھا تاکہ مزید لوگ اس قسم کے برے تجربے سے بچ جاتے۔ بعد از مرگ، جب کہ اب سارے اچھے اور برے معاملات انسانوں کے ہاتھ سے نکل کے بارگاہ خداوندی میں جا چکے ہیں جس میں حقوق العباد والے حصے کے حتمی فیصلے متعلقہ انسانوں سے پوچھے بنا نہیں ہوں گے۔

تو آپ میں سے کوئی بھی اپنے ناتواں کندھوں پر ان پردوں کو چاک کرنے کا بار نہ اٹھائے جو اللہ نے کرنے ہیں۔ کیونکہ وہ عادل بھی اور منصف بھی۔ دھاگے برابر کسی سے زیادتی نہیں کرے گا اور ذرہ بھر کسی کی حق تلفی نہیں کرے گا۔ ورنہ آپ میں سے کسی کی ہرزہ سرائی اور ایسی باتیں کرنے سے نہ پیچھے رہنے والوں کو کوئی فائدہ ہے نہ جانے والے کے اعمال میں کمی بیشی ہو گی۔ اور آپ کی اپنی امیچورٹی الگ جھلکے گی۔

اقتدار، اختیار اور قابلیت ہر ایک کے لئے آزمائش ہے۔ جنہیں رب نواز کر آزماتا ہے۔ ان پر کڑی ذمہ داری ہے۔ اگر اس سے خیر نہ نکلے تو ہر قابل کا احتساب ہے۔ بھلے وہ عالم ہوں، یا لکھاری، صحافی ہوں یا دانش ور۔ محقق ہوں یا حکمران۔ غیر متوازن معاشروں میں ہر قابل کی گردن میں سریا ہے۔ جس کی اکڑ نہ اسے جھکنے دیتی ہے نہ خیر بانٹنے دیتی ہے۔ جو قرآن، حدیث، علم ہر چیز کا نامکمل استعمال اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کو کرتے ہیں۔

بولے، لکھے، کہے کا وزن اور دام تو بڑھ جاتے ہیں لیکن اعمال کا خالی پن بہت بڑھ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی طرح سے بھی نوازے ہوئے قبیلے سے ہیں تو اس کی لاج رکھنا سیکھیں۔ آپ کی صلاحیتیں امتحان ہیں۔ اسے زعم نہ بنائیں۔ ورنہ قابلیت تو عامر لیاقت کے پاس بھی تھی اور مدر ٹریسا کے پاس بھی۔ آپ کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، خود پہچانیں۔

Facebook Comments HS