ہم سے سوال پوچھنے والا اپنے جنازے کی تیاری کر لے


ہم تمہارے محسن ہیں۔ بلڈی سویلینز ہم تمہارے بہت بڑے محسن ہیں۔ ہمارے اتنے احسان ہیں تم پر کہ کوئی گنوا بھی نہیں سکتا۔ ہم اس لیے نہیں گنوا سکتے کیونکہ ہم گن کر مارنے کے عادی نہیں ہیں اور تم اس لیے نہیں گنوا سکتے کیونکہ تمہیں ہم نے گنتی کرنا سیکھنے ہی نہیں دیا۔ اور اپنی ہمت سے اگر کسی نے گنتی سیکھ لی ہے تو اسے بھی سوچنا تو نہیں سکھایا۔ اور کسی نے ہمت کر کے سوچنا سیکھ ہی لیا ہے تو سوچنے کی اجازت بہرحال نہیں ہے۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ بلڈی سویلین ہمارے تم پر بہت احسانات ہیں۔

ابھی میں اپنی اور اپنے خاندان کی بات کرتا ہوں۔ ہم کوئی معمولی لوگ نہیں ہیں۔ ہم پچھلی چار نسلوں سے تم سے خدمت کروا رہے ہیں۔ تمہاری اس خدمت کے بدلے میں میں نے اپنے سینے پر درجنوں تمغے سجا رکھے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ تمہیں ان تمغوں پر فخر ہے۔ میرے ان تمغوں سے ہی ہمارے ملک کا نام روشن ہے۔

یہ جو چار چار نسلوں تک خدمت والی بات ہے یہ بات بہت ہی گہری ہے۔ دیکھو جو جنرل اپنے ایک ہی دور میں بہت ساری خدمت کر لے اس کے بچے پھر فوجی نہیں بنتے۔ ضرورت جو نہیں رہتی۔ جنرل ایوب خان، مرد مومن مرد حق جنرل ضیا الحق، ہمارا خاموش مجاہد جنرل اختر عبدالرحمان اور ہمارے سی پیک کے سربراہ چند مثالیں ہیں۔ ان کے بچے فوج میں تو نہیں گئے پبلک پھر بھی ان کی خدمت پر حاضر رہتی ہے۔ ان کے لیے الیکشن مہم چلا کر انہیں اسمبلیوں میں لاتی ہے اور پھر وہ وزیر بن کر ہمیں خدمت کا موقع دیتے ہیں۔

یو بلڈی سویلینز کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے بہت کارنامے کیے ہیں اور ان کا کریڈٹ بھی تم سویلینز ہی کو دیتے ہیں۔ ایک نیا ملک بنانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا۔ ہم نے دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک بنگلہ دیش بنایا اور اس کا کریڈٹ بھی تم سویلینز ہی کو دے دیا۔ تم نے کبھی سوچا کہ سن انیس صد اکہتر میں جب بنگلہ دیش بنا تھا اس وقت وطن عزیز کی عمر چوبیس سال تھی اور ان چوبیس برسوں کے دوران میں پاک فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ جنرل ایوب خان بیس سال تک کمانڈر ان چیف، وزیر دفاع، چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان کے طور پر وطن عزیز کی زبردست خدمت کر کے جنرل یحییٰ خان کے ہاتھوں معزول ہو چکے تھے۔ اور پچھلے تیرہ سال سے لگاتار مارشل لا کا دور تھا جو بنگلہ دیش کے وجود میں آنے پر بعد عارضی طور پر ختم ہوا۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان کے پہلے چوبیس سالوں میں بیس برس تو جنرل ایوب خان کی خدمت میں گزر گئے۔ اس سے بڑھ کر ہم کیا کرتے۔

صرف یہی نہیں، پاکستان کو دنیا میں جو مقام حاصل ہے وہ بھی تو ہماری ہی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارے پاسپورٹ کی عزت اور ہماری مضبوط معیشت یہ سب ہمارے ہی تو کارنامے ہیں۔ آج ہم اس مقام پر کھڑے ہیں کہ ہمیں قرضے لینے کا بھی کوئی فائدہ ہی نہیں لیکن پھر بھی متعلقہ عالمی ادارے ہمیں قرضے دیتے ہیں تاکہ ہم اپنے پرانے اور نئے قرضوں کی قسطیں ادا کر سکیں۔

ہم جو ریٹائرڈ جنرلز آپ کے سامنے کھڑے ہیں، ذاتی طور پر بھی ہمارے تم پر بہت احسانات ہیں۔ یہ احسان کوئی کم ہے کہ ہم ریٹائرڈ ہو گئے اور وردی اتار دی۔ ہم ریٹائر ہو کر سویلین اداروں کے سربراہ بن کر جو خدمات کرواتے ہیں وہ اضافی ہے۔

اور ہاں ایک اور بات۔ سویلین حکومتوں کی کرپشن اور نا اہلی کی وجہ سے آرمی چیف بننے کے مواقع بھی کم ہو گئے ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے چوبیس برسوں کو ہی لے لیں۔ 1998 سے 2022 تک آٹھ چیف آف آرمی سٹاف ہونے چاہیے تھے جبکہ صرف چار ہوئے ہیں۔

اب ریٹائرڈ لوگوں کی اس پریس کانفرنس کے آخر میں میرے کچھ مطالبات ہیں لیکن اس سے پہلے ہم یہ بات آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے۔ اس لیے ہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یہ بھرپور مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیر داخلہ کو فوراً برخواست کیا جائے اور اس پر ہیروئن ڈالنے کی ایک اور کوشش کی جائے۔ حکومت توڑ دی جائے۔ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں اور نئے الیکشن کروا کر عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنایا جائے۔

اس پریس کانفرنس کے لیے ہماری تقاریر ختم ہوئیں۔ اب سوال جواب کا سلسلہ شروع ہو گا۔ اور ہاں ہم سے سوال کرنے والا اپنے جنازے کی تیاری کر لے۔
پریس کانفرنس کے اختتام کا اعلان کیا جاتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 325 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments