سجاد ظہیر ”نقوش زنداں“ کی روشنی میں


سجاد ظہیر  نے اپنی شخصیت، تخلیقی فن پاروں اور ترقی پسند تحریک کے بانی کی حیثیت سے اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہوں نے نہ صرف خود بلکہ اپنے ہم خیال ادیب دوستوں سے مل کر انگریزی استعمار اور سرمایہ دار طبقے کے خلاف لکھا۔ شعور و آگہی سے مملو انقلاب کے راستے میں کئی دشواریاں اور رکاوٹیں آتی ہیں سو ان کی راہ میں بھی آئیں۔ سجاد ظہیر کو اس وقت پابند سلاسل کر دیا گیا جب انہوں نے برطانوی حکومت کے خلاف تقریر کرنے کا جرم کیا تھا۔ سنٹرل جیل میں رہ کر انہوں نے اپنی نو بیاہتا بیگم کے نام محبت میں ڈوبے ہوئے خط لکھے۔

یہ خط ذاتی نوعیت کے ہیں۔ رضیہ سجاد نے یہ خطوط جمع کیے اور نقوش زنداں کے نام سے ایک مکتوباتی مجموعہ جون 1951 ع میں مکتبہ شاہراہ دہلی سے شائع کرا دیا۔ مجموعے میں کل اکیاسی خطوط شامل ہیں، ان میں سے ستر خطوط سنٹرل جیل لکھنوٴ اور گیارہ خطوط کنگ جارج ہسپتال لکھنوٴ سے لکھے گئے کیونکہ انہیں ان کی علالت کی وجہ سے اس ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

نقوش زنداں کی مرتب اور مکتوب الیہا نے اس مجموعے کو ”سجاد ظہیر کی روپوشی“ کے نام کیا ہے۔ مجموعے میں شامل پہلا خط 29 مارچ 1940 ع کو سنٹرل جیل لکھنوٴ جب کہ آخری خط 18 مارچ 1942 ع کو کنگ جارج ہسپتال لکھنوٴ سے لکھا گیا۔ اس مجموعے کا پیش لفظ جوش ملیح آبادی نے لکھا۔ ان خطوں کے عمومی مزاج اور تاثر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان خطوں میں وہ سب کچھ ہے جو عاشق و معشوق کے خطوں میں ہوا کرتا ہے۔ ایک طرف ازدواجی محبت کی حسین یادیں تازہ ہیں اور دوسری جانب وہ جرم آگہی کے لیے لائق تعزیر۔ وہ لکھتے ہیں :

” میری جان! لکھو کہ کیسی ہو؟ کیا کرتی ہو؟ کس سے ملیں؟ کہاں گئیں؟ کیسی رہیں؟ یہ صعوبت کے طولانی اور اندوہناک دن اور رات جلد کٹ جائیں گے اور ہم تم پھر اکٹھا ہوں گے۔“

حسرت موہانی کی طرح زندانی ہونے کے باوجود سید سجاد ظہیر بھی چکی کی مشقت کے ساتھ ساتھ مشق سخن کو بھی جاری کیے ہوئے تھے۔ بال و پر کی رنجوری کے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے یہاں جیل میں شعر و ادب محفلیں سجائیں، اس عرصہ قید میں ان کے بقول دس سے گیارہ مشاعروں کی محفلیں برپا کی گئیں۔

جیل میں ان کے علمی مشاغل میں کوئی کمی نہ آنے پائی۔ وہ مسلسل ادب، فلسفہ، مذہب اور سیاست سمیت دیگر موضوعات کا مطالعہ کرتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے نوٹ بھی بناتے رہے۔

سجاد ظہیر کی ذہنی کشادگی کا ایک گوشہ ان کا تنقیدی شعور بھی رہا جس کی طرف بہت کم توجہ دی گئی۔ ان کے نقد و نظر کا انداز خط کی ان سطور میں دیکھیے :

” پرسوں“ آزادی کی نظمیں ”ملی، اس میں فیض کی ایک نظم پڑھی تو بالکل حسب حال معلوم ہوئی، اس لیے بہت پسند آئی۔

تم اسے ضرور پڑھنا، خاص کر یہ شعر :
اجنبی ہاتھوں کا بے نام گراں بار ستم
آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
میرا ارادہ اس کتاب پر تنقید کرنے کا ہے۔
کتاب بری نہیں حالانکہ بعض اچھی نظمیں چھوٹ گئی ہیں۔ ”

سجاد ظہیر اپنی رفیقہ حیات سے گاہے گاہے مختلف موضوعات پر کتابیں منگواتے رہے۔ ایک خط میں جوش ملیح آبادی کی شعری تخلیقات میں سے نقش و نگار، حرف و حکایت اور فکر و نشاط بھیجنے کی فرمائش کی۔ انہوں نے اپنی زندگی فاشزم کے خاتمے اور جمہوریت و حریت کی فتح یابی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے اپنی ذاتی خوشیوں کو بھی بالائے طاق رکھ چھوڑا تھا۔ دل و جاں سے پیار کرنے والی بیگم سے دوری کی کسک کا مرقع ملاحظہ ہو :

” پرسوں شام کو جب سورج ڈوب رہا تھا تھا اور پچھم کا آسمان گلابی تھا تو جیل کی اونچی دیوار پر یک بارگی دو مینائیں آ کر بیٹھ گئیں۔ آسمان کی سرخی میں ان کے پروں کی سیاہی ابھر آئی اور یہ جوڑا نظروں کے سامنے بالکل نمایاں ہو گیا۔ پھر یکبارگی دونوں نے چلانا شروع کیا۔ خوب پر پھڑپھڑائے اور ہماری پچیس فٹ اونچی دیوار سے ہچکولے لیتی ہوئی پھر سن سن کرتی ہوئی اڑ گئیں۔ مجھے اس وقت تمھارا اور اپنا خیال آیا اور ان دو آزاد چڑیوں پر بڑا رشک آیا۔“

سجاد ظہیر قید میں تھے اور ایسے میں ان کی بیٹی نے اس حال میں آنکھ کھولی کہ اس کا بابا سلاخوں کے پیچھے استعمار کے ستم سہ رہا تھا، سجاد ظہیر کی حالت یہاں مرزا غالب کے اس شعر کی سچی تصویر تھی :

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
اپنی بیٹی کو اپنے کلیجے سے لگانے کی حسرت میں لکھتے ہیں :

” میری جان! بلکہ جان سے بھی زیادہ پیاری بیوی جلدی آؤ، جلدی آؤ اور اپنے ساتھ اس منی سی پری کو بھی لاؤ جو میرے

دل کا سرور ہے اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک۔ ”

’نقوش زنداں‘ سے ذاتی زندگی کے احوال کے علاوہ تہذیبی اور عصری شعور، تاریخی افکار و نظریات اور اشتراکی خیالات کے بھی اشارے ملتے ہیں۔ سجاد ظہیر کو 14 مارچ 1942 ع کو بحکم حکومت ہندوستان رہا کر دیا گیا :

” حکم نافذ کیا جاتا ہے کہ سید سجاد ظہیر کو لکھنوٴ سنٹرل جیل سے غیر مشروط طریقے پر فوراً رہا کیا جائے۔ ”

قید و بند اور ظلم و ستم کے کوہ گراں سے اہل جنوں کے جذبوں کو شکست نہیں دی جا سکتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جتنا ظلم و جور بڑھتا گیا، اتنی ہی بڑی مزاحمت اور عزیمت نے اپنے نقوش ثبت کیے۔ بقول مولانا محمد علی جوہر :

فیض سے تیرے ہی اے قید فرنگ
بال و پر نکلے، قفس کے در کھلے

Facebook Comments HS