تین غیر معمولی واقعات


ملکی حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ معمولی اور غیر معمولی کے درمیان فرق ختم ہوتا نظر آتا ہے۔ بسا اوقات کوئی بہت معمولی خبر سامنے آتی مگر اس کے اثرات بہت غیر معمولی ہوتے ہیں۔ اسی طرح یہ بھی ہوا کہ کسی خبر کو بہت غیر معمولی بنا کر پیش کیا اور اس کے پیچھے کوئی بہت معمولی سی بات ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ ہفتے میں تین واقعات ایسے ہوئے جن کو ہر حال میں غیر معمولی کہا جا سکتا ہے۔

شیخ رشید کا یہ بیان کہ عمران خان کو چار مہینے سے پتہ تھا کہ ان کی حکومت جانے والی ہے ایک بہت غیر معمولی بات ہے۔ اس اعتراف سے بیرونی سازش کی قلعی کھل گئی۔ اگر یہ بات حکومت کی جانب سے ہوتی تو اس پر کسی نے یقین نہیں کرنا تھا۔ مگر شیخ صاحب جو عمران خان کے چار برس تک یار غار بنے رہے۔ اپنی پسند کی وزارتوں پر براجمان رہے۔ عمران خان کے ایما پر جلاؤ گھیراؤ کی تلقین کرتے رہے۔ ہر سہولت کا لطف اٹھاتے رہے۔ ان کی جانب سے یہ بیان بہت حیرت انگیز تھا۔

اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ اس بیان کے بعد اب ان لوگوں پر غصہ نہیں آتا ہے بلکہ ترس آتا ہے جنہوں نے بیرونی سازش والے عمرانی بیانیے پر یقین کیا۔ جنہوں نے اس بنا پر افواج پاکستان کے خلاف ایک قبیح مہم چلائی۔ جنہوں نے جلسوں میں شرکت کی اور جلوس نکالے۔ جنہوں نے جلسوں اور احتجاجوں میں اپنے بچے مروائے اب ان کے پاس کہنے کو کیا ہے۔ اب وہ کس امریکہ کے خلاف احتجاج کریں گے، اب وہ کیسے یورپین یونین کے خلاف جلوس نکالیں گے۔

عمران خان نے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ پہلی دفعہ ایسا نہیں کیا۔ ان بیچاروں کے ساتھ پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔ کبھی ان کو پینتیس پنکچر کی گولی دی گئی، کبھی وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کی افیون فراہم کی گئی، کبھی ان کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر خود کشی کی نوید سنائی گئی۔ ہر دفعہ عمران خانے نے اپنے جانثاروں کے سر شرم سے جھکا دیے۔ اب لوگ رفتہ رفتہ خان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں لیکن پھر بھی ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان۔ کیونکہ اسے میڈیا سے کھیلنا آتا ہے۔ چند دنوں تک یہی لوگ ایک نئے جھوٹ کے ساتھ سامنے آئیں گے لوگوں کو بے وقوف بنائیں گے اور تھوڑے دن تک اس جھوٹ سے مکر جائیں گے۔ یہی ان کی طرز سیاست ہے۔

اس ہفتے کا دوسرا بڑا واقعہ کالم نگار اور اینکر سلیم صافی کا طیبہ فاروق صاحبہ کا انٹرویو ہے۔ طیبہ گل نامی ان خاتون کا نام چیئرمین نیب کے سیکنڈل کے حوالے سے بہت معروف ہوا۔ یہ ان کا پہلا باقاعدہ انٹرویو تھا۔ خوشی اس بات کی ہے کہ سلیم صافی نے اس دشوار موضوع پر بات کرتے ہوئے اخلاقیات کا مکمل خیال رکھا۔ ہر سوال میں ایک خاتون کا احترام ملحوظ خاطر رکھا۔ جو انکشافات اس انٹرویو میں ہوئے وہ ہوش ربا ہیں۔ ابھی تک ان خاتون کی بتائی گئی تفصیلات کی کوئی تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

اس انٹرویو سے پہلی دفعہ ہمیں یہ پتا چلا کہ کس طرح ان خاتون نے وزیر اعظم کے پورٹل پر شکایت درج کروائی۔ خاتون نے بتایا کہ کس طرح وزیر اعظم کے دست راست اعظم خان نے ان سے رابطہ کیا۔ انصاف دلانے کا جھانسہ دلا کر ان سے وڈیو وصول کی گئیں۔ ان کی اجازت کے بغیر وزیر اعظم کے دوست کے ایک چینل پر یہ بریکنگ نیوز چلوائی گئی اور ساتھ ہی تردید بھی چلوا دی گئی۔ کس طرح اس خاتون کو اور ان کے شوہر کو حراست میں رکھا گیا۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ ہر دفعہ وزیر اعظم کے مشیروں کے جانب سے مزید وڈیوز کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر جب چیئرمین بلیک میل ہو گئے تو ہر وہ شخص جس نے چیئرمین نیب کی اخلاق باختگی پر سوال اٹھایا اس کو جیل یاترا کروا دی گئی۔ صرف اس وڈیو کی بنیاد پر تحریک انصاف کے کتنے کیسسز پر پردہ ڈال دیا گیا۔ کیسی کیسی کرپشن کو چھپایا گیا۔ کسی طرح ایک بلیک میل ہو جانے والے شخص کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا گیا۔ اس کی ذاتی غلطی کو پہلے جگ بھر میں تماشا بنایا گیا پھر اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر کتنے اہم سیاسی فیصلے کیے گئے۔ کتنی سیاسی شخصیات کو بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا۔ کتنے جرائم کو چھپایا گیا۔ کتنوں سے سیاسی انتقام لیا گیا۔

یہ نہایت سنگین الزامات ہیں اور ان کی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقت سامنے آئے۔ اس انٹرویو پر یقین کیا جائے تو اس مجرمانہ ذہنیت کی سمجھ آتی جو تحریک انصاف میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ جس کے نتیجے میں اس ملک کا یہ حال ہوا اور جس کی وجہ سے ایک طبقے کو مجرم اور ایک طبقے کو مومن بنا کر پیش کیا ہے۔ اس انٹرویو کو دیکھیں تو اس ملک کی سیاست کے کئی باب کھل جائیں گے کئی راز فاش ہو جائیں گے۔

تیسرا اہم واقعہ فوج کے ریٹائرڈ افسران کی انجمن ویٹرن آف پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ایک پریس کانفرنس ہے۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ریٹائرڈ افسران کی جانب سے اس طرح کی پریس کانفرنس کی گئی ہو۔ حیرت اس بات پر ہوئی ان کے بیانیے اور پی ٹی آئی کے بیانیے میں ذرا فرق نہیں تھا۔ دونوں رانا ثنا اللہ کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دونوں عالمی سازش کا ڈھول بجا رہے تھے۔ دونوں نے فوری الیکشن کو اپنا نصب العین بنا کر پیش کیا۔ کچھ نے فوج کی قیادت کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کیے۔

ان میں بہت سے اپنے ہی ادارے پر تنقید کرتے پائے گئے۔ اس ادارے پر جس کی وجہ سے انہیں عزت، وقار اور عمر بھر کی سہولتیں ملیں۔ پریس کانفرنس کرنے والے لوگ وہ تھے جو بڑے بڑے نام تھے۔ جو اس ملک کے طاقتور ترین لوگ رہ چکے ہیں۔ جن کے ناموں اور کاموں سے ایک زمانہ تھر تھر کانپتا تھا۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ جب ان طاقتور لوگوں سے صحافیوں نے سوالات کیے تو سارے بہادر تتر بتر ہو گئے۔ سارے غازی دوڑ لگا گئے۔

مجھے خوشی اس بات کی ہوئی کہ افسران نے بالآخر میڈیا سے خطاب کرنا پسند کیا لیکن اس بات کا دکھ ہے وہ تمام سوالوں کا جواب نہیں دے سکے جو صحافیوں کی زبان پر تھے۔ مریم نواز نے اس موضوع پر بات کی اور صرف اتنا کہا کہ ایسے افراد اگر سیاسی جماعت بنائیں اور اس کے پلیٹ فارم سے یہ پریس کانفرنسز کریں تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ایسے افسران سیاسی جماعت بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا ایک سیاسی خلفشار پیدا کرنا ان کا مقصد ہے۔ اس کا فیصلہ اس ادارے پر چھوڑ دینا چاہیے جس کی یہ ساری عمر چاکری کرتے رہیں ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عمار مسعود

عمار مسعود ۔ میڈیا کنسلٹنٹ ۔الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ہر شعبے سےتعلق ۔ پہلے افسانہ لکھا اور پھر کالم کی طرف ا گئے۔ مزاح ایسا سرشت میں ہے کہ اپنی تحریر کو خود ہی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ مختلف ٹی وی چینلز پر میزبانی بھی کر چکے ہیں۔ کبھی کبھار ملنے پر دلچسپ آدمی ہیں۔

ammar has 254 posts and counting.See all posts by ammar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments