عامر لیاقت حسین کا بچھڑنا اور معاشرے کا پوسٹ مارٹم


سب ہی حیران تھے کہ یہ اچانک ہوا کیا۔ پی ٹی وی کی تاریخ میں شاید اس سے پہلے ایسا کبھی نہ ہوا ہو گا ( اور نہ شاید آئندہ ہو ) ۔ یہ 2019 کی بات ہے۔  رمضان کی افطار ٹرانسمیشن کا دوسرا یا تیسرا روز تھا کہ افطار سے دس پندرہ منٹ پہلے میزبان کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ میں ٹرانسمیشن چھوڑ کر جا رہا ہوں اور سکرین پر باقی معاملات ایک نامور نعت خواں کے حوالے کر دیے گئے۔

رمضان کی ٹرانسمیشن کی یہ خاصیت کہی جا سکتی ہے کہ یہ اس خصوصی مہینے کی نوعیت کی وجہ سے خاصے تسلسل کے ساتھ ہر طرف دیکھی جا رہی ہوتی ہے۔ سو میزبان کے اس طرح سکرین سے یکلخت چلے جانے کا ردعمل بھی، سکرین سے باہر فوری ہوا کہ آخر یہ ہوا کیا! ہیڈکوارٹرز سے لے کر وزارت اطلاعات تک ”مگر کیوں“ کی گردان، گردش کرنے لگی۔ اب کسی کو پتہ ہو، تو اس کیوں کی وضاحت بھی ہو سکے۔ فوری طور ہر محض یہ قیاس کیا جاسکتا تھا کہ اپنے بعض مطالبات کی طرف توجہ کرانے کے لئے ایسا کیا گیا۔ پی ٹی وی اور پی ٹی وی سے باہر اعلی سطح پر مداخلت کا عمل شروع ہوا اور بالآخر ان رابطوں در رابطوں کے نتیجے میں کچھ گھنٹوں بعد ٹرانسمیشن میں واپسی کا فیصلہ ہوا۔

یوں پی ٹی وی کی 2019 کی یہ رمضان ٹرانسمیشنز جو پی ٹی وی نیوز سے آن ایر تھیں، کے دوران مسلسل کئی دنوں تک کی قربت اور اس قربت کے توسط سے مشاہدے کی صورت بنی۔ جسے بہر طور بہت جامع، گہرا اور مکمل ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ایک مخصوص دورانیے اور مخصوص صورت حال کا نتیجہ اور آئینہ دار تھی۔

تاہم جو دیکھنے میں آیا، اس کی تصویر کشی اور احوال کو کسی قدر ضرور بیان میں لایا جاسکتا ہے۔ پی ٹی وی کے ملازمین کے برس ہا برس کے تجربات کے برخلاف بالکل نئی ( اور کسی قدر ناقابل یقین ) صورت حال مقابل تھی۔ کم و بیش ہر روز موبائل فون پر کسی پر غصہ، بلکہ انتہائی غصہ کے عالم میں بلند آواز گفتگو، پھر جھنجھلاہٹ، اپنی بعض خواہشات کے لئے ادھر ادھر ٹہل کر کسی سرکاری اہلکار کے ساتھ سخت ناراضگی کا اظہار، بسا اوقات گفتگو کے دوران موجود احباب واقعتاً گھبرا جاتے کہ کہیں بلڈ پریشر شوٹ نہ کر جائے۔ ہمدردی کے ساتھ اس درجہ غصے سے احتراز کے لئے بار بار اشارے کیے جاتے۔

اس سارے عرصے میں، ہر نئے دن کا آغاز، ڈیوٹی پر موجود ٹیم کی اس دعا کے ساتھ ہوتا کہ آج بھی ٹرانسمیشن کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے۔

اب تصویر کا دوسرا رخ اور وہ ہے سکرین۔ کمال کی انرجی، کمال کی برجستگی، بات کو آگے بڑھانے اور اپنا حصہ ڈالنے کے لئے کمال کی تحقیق اور تحقیق کا بر محل اور بر جستہ استعمال۔ ( ذہانت اور یاداشت کا یکجا ہونا شاید اسی طرح کے ملاپ کو کہتے ہیں ) سکرپٹ سے بالا ہو کر، جملوں کی کمال کی بنت اور الفاظ کی معنویت کو سمجھتے ہوئے ان کا خوب صورت استعمال، حاضر دماغی اور حاضر جوابی کے ساتھ لائیو ٹرانسمیشن کو لائیو جتانے کی کمال کی صلاحیت جس سے پروگرام کے دوسرے شرکا اور فنکاروں کو بھی متحرک اور منہمک رہنے کی ترغیب ملے، حس مزاح کمال کی ( کہیں کہیں حد سے گزر جانے پر ، اس کی موزونیت پر اصرار بھی۔ )

مختصراً اگر کوئی بات کی جا سکتی ہے تو شاید یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی زندگی کا نچوڑ، توجہ کا مرکز بننا تھا اور اس میں دو رائے نہیں کہ بلاشبہ وہ پوری توانائی کے ساتھ توجہ کا مرکز بنے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ ہمارے ملک میں عصر حاضر کی کم ایسی شخصیات ہوں گی جنہیں اتنی ہمہ گیر توجہ حاصل ہوئی۔ اس شناخت میں ان کی کم عمری کا عنصر بھی اس انفرادیت اور امتیاز کو اور بڑھاوا دیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جس میدان میں لوگ ضعیف العمری میں جاکر کوئی مقام حاصل کر پاتے ہیں، ان کی کامیابی ہے کہ وہاں کم عمری میں ہی اپنی دھاک بیٹھا دی۔

عروج کے مختلف مدارج پر رہتے ہوئے اپنی حیثیت اس طرح منوائی کہ لوگوں کی آنکھوں اور ذہنوں سے کبھی اوجھل نہ ہوئے اور کسی نہ کسی طور میڈیا پر مسلسل موضوع بحث رہے۔ یہ شخصیت کا دلچسپ پہلو رہا کہ انھیں صرف چاہنے والوں کی ہی توجہ حاصل نہ رہی، ان سے اختلاف رکھنے والے اور انھیں وہ درجہ نہ دینے والے جس کے یہ خود متلاشی ( اور دعوی دار ) تھے، ہمیشہ اس تلاش میں دلچسپی لیتے رہے کہ وہ ان دنوں کہاں ہیں اور کن سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔

انھیں بجا طور پر پاکستان کے ٹیلی وژن اور میڈیا کی دنیا کی ایک ایسی شخصیت قرار دیا جاسکتا ہے جن کی باتیں، قصے، تذکرے، دیکھنے، سننے اور پڑھنے والوں میں اس قدر عام ہوئے جو کم لوگوں کا مقدر ہوں گے۔ پوری فراخدلی سے یہ بھی مان لینا چاہیے کہ ان کی شخصی مقناطیسیت کا کرشمہ، اپنے عہد پر چھایا رہا۔ ان کی شخصیت کے جتنے پہلو ہیں، اتنے ہی ان کی شخصیت کے حوالے سے سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔

دراصل شہرت کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ یہ لوگوں کے ذریعے، لوگوں کے لئے ہی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ وہ سکہ ہے جس کے دونوں طرف حقیقتاً عوام موجود ہوتے ہیں، مگر شبیہ صرف شخصیت کی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ فریقین کا عمل اور ردعمل اس کے پھیلاؤ اور سمٹاؤ میں یکساں کردار ادا کرتا ہے۔ عوام کا جھکاؤ کیوں کسی کی طرف ہوتا ہے اور کیوں بعض اس جھکاؤ سے لبھاؤ نہیں رکھتے۔ یہ واقعی تضاد ہے یا فطری رویہ! یقیناً یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ ہر شخصیت، خیال یا تخلیق سے، سب کا ایک سطح پر متفق لازم نہیں مگر یہ بھی فکر انگیز سوال ہے کہ ایک ممتاز شخص کے لئے دو انتہاؤں پر کیسے رائے تشکیل پاتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ ایک ممتاز شخصیت عہد سے متاثر ہوتی ہے یا عہد کو متاثر کرتی ہے۔ یہ بھی سوچا جانا چاہیے کہ کیا متاثر ہونے والے اور متاثر کرنے والے کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جاسکتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ زندہ معاشرے کو زندہ ہونے کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ اس کے لئے مختلف معاملات اور صورت حال میں جو سوالات جنم لیتے ہیں، ان کے جوابات کی تلاش کی سنجیدہ اور ٹھوس کوشش کی جاتی ہے۔ ان وجوہات اور امکانات کا تعاقب کیا جاتا ہے جس کے سبب ایسے حالات ہوئے۔ اس کے برعکس ہمارے معاشرے میں پچھلے چند برسوں میں ایک تسلسل سے ایسے ایسے واقعات ہو چکے ہیں جو جواب طلب بھی تھے اور تشویشناک بھی مگر ہمارے معاشرے میں ان کے لئے بھی روایتی سلوک کا مظاہرہ کیا گیا اور وقت کے ساتھ وہ سب، سب کی یاداشت سے اوجھل ہوئے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری معاشرت میں جانب داری، اقربا پروری، منافقت، مفاد پرستی، خوش آمد، چاپلوسی، مکاری، عیاری اور اس قسم کی اور دوسری خصوصیات نے اتنی گہری جڑیں بنا لی ہیں کہ ہم سوچنے، جاننے اور سمجھنے کی تخلیقی عادت سے محروم ہو چکے ہیں اور ان ہی خصوصیات میں لپٹ کر اپنی پسند کے نتائج اخذ کر لیتے ہیں کیوں کہ ہم محض اس پہلو میں دلچسپی لے کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ میرے لئے کسی بھی واقعے میں کیا پوشیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واقعات ( اور حادثات ) کو جانچنے سے نہ ہمیں دلچسپی ہے اور نہ شاید اب اہلیت!

سوال یہ ہے کہ شہرت، شناخت اور شان و شوکت کا حصول اگر انسانی جبلت میں شامل ہے تو اس کی حد کہاں ختم ہوتی ہے اور کہاں زندگی سے وابستہ بعض مثبت چیزیں، بہ قول رومی منفی ہو کر زہر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ان سب انسانی خواہشات کے لئے اخلاقیات نے کیا معیار مقرر کیے ہیں۔ پھر وہی سوال کہ کیا ایک ممتاز شخص اپنے عہد کا عکس ہوتا ہے یا وہ بذات خود عہد کی تشکیل کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے متاثرین، اس سے متاثر ہو کر معاشرے میں کیا منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔ کیا ہر واقعہ ایک انفرادی واقعہ ہوتا ہے اور معاشرہ، اس میں حصہ دار نہیں ہوتا۔

شاید، اور کسی پر واجب نہ ہو مگر عمرانیات، سماجیات اور سب سے بڑھ کے نفسیات کے ماہرین کی، ان امور پر نشان دہی معاشرے کو بہتر اور صحت مند شکل دینے میں معاون ہو سکتی ہے کہ ہمارا کب کیسا طرزعمل ہونا چاہیے جس سے منافقت، ملمع کاری اور دہرے پن کی حوصلہ شکنی ہو اور اعلی انسانی اقدار کو ترجیح ملے اور حتمی طور پر اس سارے عمل میں کسی قسم کی چشم پوشی سے بھی احتراز کیا جا سکے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments