ذہنی الجھنوں میں جکڑے دوست کے نام لکھا گیا خط

پیارے دوست!
امید ہے خیریت سے ہو گے۔ آج سوچا کہ وہ باتیں جو آپ سے کہنا ضروری ہو چکا ہے، ایک خط میں درج کر کے آپ کو بھیج دوں۔
عزیزان من میں جانتا ہوں آپ کو ذہنی الجھنوں نے پوری طرح جکڑ کر جینا محال کر رکھا ہے۔ ایسے میں آپ مجبور اور قوت فیصلہ سے محروم ہوئے بیٹھے ہو۔ ہر حاصل اور لاحاصل شے آپ کے شکوک و شبہات کے دائرے میں آ چکی ہے۔ ”کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے“ اس سوال نے زندگی اجیرن کر دی ہوئی ہے۔
تو بصد خلوص و محبت یہ مشورہ ہے کہ کہ اپنی سوچوں کو لگام دیجیے۔ زیادہ سوچنا، مسلسل سوچنا وقتی طور پہ خوش گوار اور متاثر کن لگتا ہے لیکن یہ زندگی سے اس کے رنگ چھین لیتا ہے۔
”Overthinking kills“
اپنی سوچوں کو محدود کیجیے۔ حاصل کو پہچانیے، جو میسر ہے، اسے محسوس کیجیے اور اس پہ شکر کیجیے۔ جو نہیں حاصل، اس کے لیے محنت کیجیے لیکن۔ حاصل کی خوشی کو لاحاصل کی آرزو میں مت گنوائیے۔ اپنی سوچوں کی شدت کو اپنی خوشیاں برباد مت کرنے دیجیے۔ زندگی ہر مقام ہر عہدہ اپنے وقت پہ ہی دیا کرتی ہے۔ وہ وقت جس کا ہمیں انتظار ہے اس کے آنے تک اس سے پہلے ملنے والے سارے اعزاز، سارے مرتبے بھی زندگی کو خوشگوار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لمحہ حاصل کی خوشی کو اپنی بے بنیاد سوچوں کی نذر مت ہونے دیجیے۔ غیر ضروری سوچوں کو بروقت جھٹک کر انھیں آسیب بننے سے روک لیجیے۔
غیر ضروری اور غیر اہم چیزوں کی پہچان بھی بہت ضروری ہے، ان کا ہونا مزاج کو مزید منتشر کرتا ہے۔ انسان کو الجھائے اور اپنے ہدف سے بھٹکائے رکھتا ہے۔ بعض اوقات جو چیزیں ضروری لگ رہی ہوتی ہیں، وہ ضروری ہوتی نہیں ہیں۔ اپنے کندھے ہلکے کرنے کے لیے، اپنے ہدف کو چھونے کے لیے اور زندگی کو سہل کرنے کے لیے ایسی چیزوں کو ڈھونڈ کر اپنی زندگی سے الگ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔
ایک بات یہ بھی یاد رکھنا کبھی کسی سے اپنا موازنہ نہیں کرنا، سب کی راہیں الگ ہوتی ہیں، منزلیں جدا ہوتی ہیں۔ سب کی شخصیت مختلف ہوتی ہے۔ کوئی ہمارے لیے بہتر ہو گا تو کسی کے لیے ہم بہتر ہوں گے۔ کڑی سے کڑی ملتی چلی جاتی ہے اور اس میں کسی کڑی کو آگے ہونا ہوتا ہے، کسی کو پیچھے۔ نہ آگے والا برتر ہے نہ پیچھے والا کم تر۔ ہر کوئی اپنی جگہ پہ ہے تبھی یہ کڑی قائم ہے۔ کوئی بھی اپنی جگہ چھوڑ دے تو زنجیر ٹوٹ جائے گی۔ ہمیں آگے پیچھے کی کڑیوں سے اپنا موازنہ نہیں کرنا ہوتا، اپنی حیثیت اپنے مقام کو پہچاننا ہوتا ہے۔ جب تک نہ پہچانیں بے سکونی جان نہیں چھوڑتی۔ ہاں اپنے آپ کو، اپنے مقام کو بہتر کرنے کے لیے محنت ضروری ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ کرتے رہنا چاہیے۔ ہمارے اصل مقام کا تعین یہی محنت کرتی ہے۔
خود کو حاصل نعمتوں کو ایک ایک کر کے گنیے۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل، اس پہ چلتا انٹرنیٹ، سردی سے بچاتا گرم لباس، ماں باپ بہن بھائی دوست عزیز اور۔ میں!
یہ سب نعمتیں ہی تو ہیں، تھوڑی دیر کے لیے ان میں سے ہر ایک شے کو باری باری زندگی سے نکال کر زندگی کا تصور کیجیے۔ پھر دیکھیں کہ ہر شے کتنی اہم ہے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی نکلے تو زندگی کتنی بھدی اور کربناک ہو سکتی ہے۔ خدا نہ کرے کہ کبھی ان میں سے کسی نعمت سے محرومی ملے مگر کہنے کا مقصد یہی ہے کہ حاصل کی اہمیت کو پہچانو۔ زندگی میں اپنے لیے ہدف طے کرو، اپنے مستقبل کی تعمیر کرو، اس کے لیے جی جان لگا دو لیکن۔ کچھ کھانے سے، کچھ گانے سے، کچھ کہنے سے، کسی سے ملنے سے، کسی سے بات کرنے سے یا کسی کو دور دور سے دیکھنے سے ہی اگر خوشی ملتی ہو تو اپنے آپ کو اس خوشی سے یکسر محروم نہ کرنا۔
اپنی محنت سے وقت نکال کر یہ ساری خوشیاں باقاعدگی سے حاصل کرتے رہنا۔ عام سی چیزوں کو اہتمام سے خاص کیا جا سکتا ہے اور انھی عام سی چیزوں سے سرشاری اور شکرگزاری کا لطف لیا جا سکتا ہے۔ ہر گزرتا لمحہ ختم ہوتا چلا جا رہا ہے، اسے پلٹ کر نہیں آنا۔ اس میں سے جو جو لمحہ سکون اور خوشی دے سکتا ہے اس سے سکون اور خوشی وصول کر لینا۔ اصل زندگی وہ نہیں جو کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد حاصل ہوتی ہے، اصل زندگی یہی ہے جو ابھی ہر لمحے کے ساتھ گزرتی چلی جا رہی ہے۔ اسے ساتھ ساتھ نہیں جیو گے تو کامیابیاں ملنے کے بعد بھی کف افسوس ملنے کے سوا پاس کچھ نہیں رہے گا۔
معاف کرنا کہ بات طول پکڑ گئی، اجازت چاہوں گا اور امید رکھوں گا کہ خدا آپ کو ہر وہ نعمت عطا کرے گا جو آپ سوچ سکتے ہو اور جس کی خواہش رکھتے ہو۔

