انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک اور حر کیمپ


سندھ میں انگریزوں کے خلاف آزادی کی کئی تحریکیں متحرک تھیں ان میں سے حر تحریک بھی اہم ہے۔ پیر پگاڑا کے مریدوں کی آزادی کے لیے یہ تحریک انگریزوں کے خلاف متحرک ہوئی تو انہیں کنبوں (Families) کے ساتھ اجتماعی جیلوں میں قید کیا گیا جن کو سندھی زبان میں ’حرن جا لوڑھا‘ اور انگریزی میں حر کئپیں (Concentration camps) کہا گیا جن میں بال بچوں کے ساتھ حر مجاہد قید کیے گئے تھے۔ ان کیمپوں میں حروں کے مختلف قبیلوں کو ایک ساتھ رکھا گیا۔ یہ آزادی کی واحد تحریک تھی جس میں مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت حر مجاہد لڑے اور نتیجے میں ان کو اجتماعی جیلوں میں قید کیا گیا تھا۔

حر تحریک 19 ویں صدی کی آخری دہائی میں شروع ہوئی آہستہ آہستہ تیز ہوتی گئی۔ پہلے 1890 ء اور بعد میں 1898 ء میں پیر صبغت اللہ شاہ اول کے دور میں متحرک ہوئی۔ بعد میں 1930 ء میں پیر صبغت اللہ شاہ دوئم المعروف سوریہہ بادشاہ شہید کے ایام کاری میں تیزی سے پھیلی اور متحرک ہوئی۔ اس لیے پیر صبغت اللہ ثانی کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جیل بھیجا گیا۔ حروں نے شورش برپا کیا تقریباً 1936 ء میں پیر رہا ہوئے۔ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد پھر متحرک ہوئے تو انہیں دوبارہ گرفتار کر کے شہید کیا گیا اور آج تک اس کا مدفن معمہ ہے کہ اسے شہید کر کے کہاں دفن کیا گیا۔ حروں نے 1940 ء اور 1941 ء میں بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔ تو حروں کو اہل و عیال کے ساتھ گرفتار کرنا شروع کیا گیا۔ حر تحریک کا مرکز سندھ کے موجودہ ضلع سانگھڑ کا علاقہ تھا جہاں حروں نے ریل گاڑیاں بھی گرائیں۔

سندھ میں یہ حر کیمپیں ضلع قمبر۔ شہداد کوٹ کے شہر وارہ، ضلع دادو کے شہر جوہی اور حیدرآباد شہر میں تھے۔ اس کے علاوہ ضلع دادو کے شہر واہی پاندھی کے قریب کیرتھر پہاڑی سلسلے میں پہاڑی ندی نلی کے بہاء میں ایک پانی کے چشمے یا تالاب کا نام حر ڈھورو ہے جہاں پہاڑوں پر نقش نگاری (Rock Carving) بھی موجود ہے۔ قیاس قرین ہے کہ حر یہاں بھی قید تھے یا یہاں سرکش حر آ کر چھپے تھے اس لیے اس مقام پر حر ڈھورو نام پڑا۔

بہرحال حر ڈھورو کے مقام، شہر وارہ اور حیدرآباد کی حر کیمپس اور ان میں قید حروں کے حالات کی تفصیلی معلومات اب تک مل نہیں سکی۔ لیکن حر کیمپ جوہی اور اس میں قید حروں کے بارے میں میں نے کوشش کر کے معلومات حاصل کی۔ مجھے اس سلسلے میں معلومات میرے باپ سومر خان اور چچا اللہ بچایو کنگرانی سے ملی۔ چچا اللہ بچایو اریگیشن ڈپارٹمنٹ میں داروغہ تھا۔ حر کیمپ جوہی کا میں نے خود پہلی مرتبہ 35 سال پہلے مشاہدہ کیا تھا۔

خستہ حال جوہی حر کیمپ جوہی شہر کے شمال میں 5 کلومیٹر کے فاصلے پر جوہی۔ پھلجی روڈ کے قریب واقع ہے۔ یہ کیمپ بڑی اراضی پر محیط ہے۔ کیمپ دو حصوں میں تقسیم کی گئی تھی۔ ایک حصے میں قیدی حروں کی کنبے کے ساتھ جھونپڑیوں میں رہائش گاہیں تھیں۔ دوسرے حصے میں سرکاری عمل داروں کی رہائش تھیں۔ دونوں حصوں کے درمیان سرکاری عمل داروں کا آفس، مسجد، تھانہ اور سرکش حروں کے لیے جیل تھا۔ حروں کی جھونپڑیوں کو مٹی کا کوٹ یا قلعہ تھا جس کی بنیاد پکی اینٹوں کی تھی۔ کوٹ کی دیوار کو چاروں اطراف سے 4 بڑے دروازے تھے جو پکی اینٹوں اور سیمنٹ سے بنائے گئے تھے۔ کوٹ کے ہر کونے پر برج یا مورچے بنے ہوئے تھے۔

حر کیمپ جوہی کے اب صرف نشانات رہ گئے ہیں۔ تھانہ اور جیل پکی اینٹوں اور سیمنٹ سے تعمیر کیا گیا تھا جس کی تعمیر کا سال 1946 ء نقش ہے۔ تھانے کی چھت کے ایک کونے پر ایک مورچا یا برج ہے جو چوکی کے لیے تھا۔ بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد اس میں کچھ وقت پرائمری اسکول قائم کیا گیا تھا۔ جوہی تحصیل کا یہ سارا علاقہ حر کیمپ سے مشہور ہے۔ ساری حر کیمپ کو سیلاب سے بچاء کے لیے رنگ بند دیا گیا تھا جس کے نشانات اب بھی موجود ہیں۔

مقامی معمر لوگوں اور چچا اللہ بچایو کنگرانی کے مطابق پورے کیمپ کی تعمیراتی کام کی مزدوری کا کام قیدی حروں سے لیا گیا تھا۔ حر مجاہدین سے بہت کٹھن کام لیا جاتا تھا۔ کچھ حروں کے حوالے مال مویشی چرانے کا کام تھا۔ کن کو مختلف سرکاری کھاتوں میں دیہاڑی پر کام میں لگایا گیا تھا۔ چچا مرحوم اللہ بچایو نے بتایا تھا کہ کچھ حر اس کے پاس اریگیشن کھاتے میں مقدم یا بیلدار مقرر تھے کچھ کھیتی باڑی میں لگائے گئے تھے۔

حروں کے کنبوں کے سربراہ کو نمبر الاٹ کیے گئے تھے جس میں کنبے کے فرد درج تھے۔ صبح شام ان کی حاضری اور گنتی ہوتی تھی۔ اگر ان میں سے کمی ہوتی تھی تو سربراہ کو سخت سزا ملتی تھی۔ سارے مرد، عورتیں اور بچے قطار میں کھڑے ہوتے تھے اور ان کی گنتی کی جاتی تھی۔ جو مال مویشی کے چرواہے تھے ان کے مال مویشی کی بھی گنتی ہوتی تھی۔ اگر مال مویشی میں سے ایک بھی گم ہوتا تھا تو اس حر مجاہد پر سزا کے ساتھ جرمانہ ڈالا جاتا تھا۔

سرکاری عمل داروں کی تنخواہیں بھی قیدی حر مجاہدین کی کمائی سے کاٹی جاتی تھیں۔

حر مجاہدین مقامی لوگوں کے ساتھ گھل مل گئے تھے اور مختلف کھیلوں میں حصہ لیتے تھے۔ 1952 ء تک حر مجاہدین آہستہ آہستہ آزاد کیے گئے اور اپنے علاقوں کی طرف واپس بھیجے گئے تھے۔ حر کیمپ جوہی آج بھی انگریزوں کی غلامی سے نجات اور آزادی کے لیے حروں کے لڑنے کے نتیجے میں ان کے قید و بند اور عقوبتوں کی گواہ ہے۔

فوٹو:حر کیمپ جوہی کا مغربی مرکزی دروازہ
Facebook Comments HS