انسانی گدھ

قریب دو ماہ پہلے میرے قریبی رشتہ دار کام کی غرض سے لاہور شفٹ ہو رہے تھے۔ ان کی فیکٹری میرے گھر کے نزدیک ہے اور ان کو فوری گھر چاہیے تھا۔ میرے سامنے والا گھر چند ماہ پہلے ہی خالی ہوا تھا۔ میں نے ان کے لیے اس کا پتا کیا تو معلوم پڑا کہ وہ کسی بیوہ خاتون کا ہے اور دوبارہ کرائے پہ بھی ابھی نہی چڑھا۔ پچھلے کرایہ دار گھر کی حالت کافی خراب کر گئے ہیں اور ان ماں جی کے اتنے وسائل نہیں کے گھر کی مرمت کرا سکیں۔
جو بھی کوئی دیکھنے آتا ہے وہ اتنی بری حالت دیکھ کے واپس نہیں آتا۔ میں نے اپنے خالو سے کہا کہ دیکھ تو لیتے ہیں، کام آپ خود کروا لینا۔ اب دوسرا مسئلہ ٔ پڑا کہ ماں جی کو گھر لا کہ دکھانا تھا اور چابی لینی تھی۔ وہ لاہور کے ایک کونے میں تھیں اور وہ مکان شہر کے دوسرے کونے میں۔ میرا خالہ زاد بھائی خود ان کو ان کی رہائش گاہ سے لے کر اس مکان تک لایا۔ سب دکھایا اور پھر چابی لی۔ ماں جی بہت خوش ہوئیں اور بڑی تسلی سے گھر کی چابی حوالے کی۔ وہ لوگ شفٹ ہو گئے اور رہنے لگے۔
ڈیڑھ ہفتہ پہلے ہمارے دوسرے ہمسایوں نے کہا کہ آپ کے رشتہ داروں کے مالک مکان آئے تھے۔ کافی دیر انتظار کر کے گئے ہیں کہتے ہیں یہ لوگ فون نہیں اٹھاتے۔ ہم بھی گھر نہی تھے۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ وہ ماں جی کیسے آ گئیں۔ کزن سے پوچھا تو کوئی فون بھی نہیں آیا تھا۔ دن کے وقت وہ بھی گھر نہیں ہوتے اور ہم بھی۔ سب اپنے کام پہ۔ خیر ہم نے سمجھا کہ کوئی اور گھر کے ہوں گے۔ غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ اگلے دن پھر یہی ہوا۔ وہ لوگ آئے اور ارد گرد والوں کو کہہ کہ گئے کہ ہمارے گھر پہ قبضہ کر رہے ہیں۔ فون بھی نہی اٹھاتے اور گھر پہ تالہ لگا ہے۔ اب کل وہ نہ آئے تو ہم تالہ توڑ کہ ان کا سامان سب پھینک دیں گے باہر۔ اپنا فون نمبر بھی دے گئے۔ اب میرے کزن نے جن سے گھر لیا تھا ان کو فون کیا۔ ماں جی کے معاملات وہ دیکھتا تھا۔ اس کو سب بتایا تو حقیقت کھلی۔
اس نے بتایا کہ ماں جی کا چند روز قبل انتقال ہو گیا۔ کوئی ان کا تھا نہیں، تدفین کا انتظام بھی سب اسی نے کیا۔ اب ان کے شوہر کے بھائی اور بہن تک یہ خبر پہنچی تو وہ پاکستان آئے ہیں اور ان کے مکان اور باقی چیزوں پہ ہاتھ مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہی آپ کے گھر بھی آئے تھے اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس نے مکمل تسلی کرائی کہ آپ پریشان نہ ہوں۔ کزن نے اس نمبر پہ بھی فون کیا اور ان کو بھی سنائی کہ بھائی ہم نے جس سے گھر لیا ہے ہم اس کو کرایہ دے رہے ہیں آپ اپنی معاملات ان کے ساتھ نمٹائیں اور ہمیں تنگ نہ کریں۔ اس کے بعد وہ نہیں آئے۔
ہمیں ہمسائیوں نے بتایا کہ وہ برینڈ نیو گاڑی میں آئے تھے۔ پوری فیملی یہاں کی نہی لگتی۔ پڑھے لکھے بھی لگتے تھے اور ماڈرن بھی۔
یہ سب سننے کے بعد مجھے ان ماں جی کی حالت یاد آئی۔ وہ اپنے اس مکان کے کرائے سے گزارا کر رہی تھیں۔ ان کے اتنے بھی وسائل نہ تھے کہ اس مکان کے چھوٹے موٹے کام بھی کروا سکتیں۔ رہائش گڑھی شاہو کی بوسیدہ سی کالونی میں بہت اندر جا کہ تھی۔ جب کزن ان کو وہاں سے لے کر آیا تو وہ محلے کی ایک عورت کو اپنے ساتھ لائی تھیں کیونکہ ان کے ساتھ اور کوئی نہی تھا!
اب وفات کے بعد جو شوہر کے بہن بھائی جائیداد کے دعویدار نکل آئے تھے، وہ باہر کے ملک رہتے تھے۔ گاڑی بھی تھی۔ خوشحال تھے۔ کیا وہ اپنے بھائی کے بعد اپنی بھابھی کا خرچ نہی اٹھا سکتے تھے؟ وہ دعویٰ کر رہے تھے کی بھابھی کے بعد جائیداد کے حق دار بس ہم ہیں کیونکہ ان کے کوئی رشتہ دار نہی تھے، وہ ان کی زندگی میں اپنی بھابھی کو بھائی کی بیوہ سمجھ کے کبھی کبھی فون نہی کر سکتے تھے؟ کیا ایک اکیلی عورت کا خرچ اٹھانا اتنا مشکل تھا ان کے لیے؟
اتنی بے حسی انسانوں میں ہی کیوں پائی جاتی ہے؟ ابھی چند دن پہلے ملک کی ایک نامور ہستی ڈاکٹر عامر لیاقت کی اچانک وفات ہوئی۔ ان کی تیسری بیوی جو علانیہ اپنے شوہر پہ خلاع کا دعویٰ دائر کر چکی تھے، اس کی وفات کے بعد عدت میں بیٹھ گئی۔ اور دعویٰ کرنے لگی کے صلاح کی بات چل رہی تھی۔ اور یہ سب وہ متوفی کی جائیداد کے لیے کر رہی ہے۔
آپ اپنی ارد گرد نظر دوڑائیں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا یہ ہمارے معاشرے کی عام بات ہو چکی ہے۔ کسی کے مرنے کے بعد اس کے قریبی لوگ کس طرح جائیداد اور پیسے کے لیے چھینا چھپٹی شروع کرتے ہیں۔ لوگ بھول چکے ہیں کہ یہ دنیا عارضی پڑاؤ ہے۔ ہمیں ناحق کھائے ایک ایک روپے کے لیے اللہ کے روبرو جواب دینا ہے۔

