آگ لگاؤں تیری مجبوریوں کو
اک دوست نے دوسرے دوست سے پوچھا: ہاں بھئی! آج کل کیا کرتے ہو؟
اس نے جواب دیا: بڑے بھائی کے ساتھ ہوتا ہوں؟
پہلا دوست: تو بڑے بھائی کیا کرتے ہیں؟
جواب: ”جی، وہ فارغ ہوتے ہیں۔“
عمران خان صاحب کی تقریریں تو ہم سب سنتے ہیں۔ اور بار بار سنتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان میں اس وقت نوجوانوں کی تعداد 70 فیصد ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہماری آبادی کا تقریباً آدھا حصہ ’ویلا‘ (فارغ) ہے۔ اب یہ مت سمجھیے گا کہ میں کوئی زبردستی ایک رائے دے رہی ہوں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہم پڑھتے نہیں ہیں، کام نہیں کرتے، یا کھاتے پیتے نہیں ہیں۔ ہم پڑھتے بھی ہیں، کام میں محنت بھی ڈٹ کے کرتے ہیں اور کھانے پینے سے بھی نہیں گھبراتے۔ لیکن ایک مسئلہ ہے جو ہماری سب اچھائیوں پر بھاری ہے اور ہمیں آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔ وہ ہے ہمارا ’سوچنے سمجھنے کا زاویہ‘ جو کہ ہمیشہ 180 ڈگری پر رہتا ہے۔
ایشیا کے جس حصے میں ہم رہتے ہیں، یہ ایک ایسا حصہ ہے جو ابھی ترقی کی راہ نہیں دیکھ پایا۔ اس بات پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔ کیونکہ ہم وہ قوم ہیں جو آج تک اس دنیا کو کچھ نہیں دے سکے۔ کسی چھوٹی سی چھوٹی چیز جیسے ’بال پین‘ کی ہی مثال لے لیں۔ ’بال پین‘ کیا، اس جیسی کئی ایجادات انگریزوں نے بنا ڈالیں اور ہم صرف ان کو استعمال کرتے رہے۔ اور استعمال بھی کیسا۔ خیر! ایسی ایجادات، ایسے کارنامے تب ہی سامنے آتے ہیں جب آپ کے ذہن کھلے ہوں اور آپ کچھ سوچنے سمجھنے کے قابل ہوں۔ تعلیم سے زیادہ علم کا ہونا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔
ترقی میں رکاوٹ کے تمام پہلوؤں میں بنیادی چیز ’سوچ سمجھنے کا زاویہ‘ ہی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔ ہمارے ہاں نوجوان اپنے تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ اور ہمارے ہاں تعلیمی میدان میں ترقی کی سطح کو ناپنے کا طریقہ ہی بہت عجیب ہے۔ کسی نے امتحان میں اچھے نمبر لیے تو وہ ذہین۔ پھر انہیں نمبروں کی دوڑ میں سب بھاگے بھاگے، اور گرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں ایک یہ سوچ بھی ہے کہ انٹرمیڈیٹ میں داخلہ ہوتے ہی ہمارے پاس دو فیلڈز ہوتیں، ڈاکٹر یا انجینئر۔
اس چکر میں پڑے رہے تو ایک دن ان کی بھی کوئی وقعت نہیں رہے گی۔ یہ سوچنا اور سمجھنا ضروری ہے کہ شاہ رخ خان نے ٹھیک کہا تھا، ”کوئی دھندا چھوٹا نہیں ہوتا“ ۔ کوئی ڈگری، کوئی فیلڈ چھوٹی نہیں ہوتی۔ تعلیمی میدان کا یہ ایک زاویہ 100 میں سے 30 سے 40 فیصد کا ہے۔ باقی لوگ صرف مصروف رہتے۔ مصروف بھی ایسے کاموں میں کہ جن میں مصروف ہونا نہیں چاہیے یا کم ازکم ان کا مصروف ہونا نہیں بنتا۔ یہ مصروفیت پڑھائی اور پریکٹیکل ورک سے ہٹ کر دیگر ایسے کاموں کی ہوتی، جو آپ کو صرف کسی پر منحصر کر سکتی۔ نہ کہ آپ کو ایسی شخصیت بناتی، جس پر دوسرے لوگ منحصر ہوں۔
پھر آتی ہے پریکٹیکل زندگی، جہاں اور طرح کی مصروفیات آڑے آ جاتی ہیں۔ 9 سے 5 بجے والی نوکری کے چنگل میں پھنسنے کی عادت ڈال لینا۔ یہ عادت بھی ہمیں انگریز ہی ڈال گئے تھے۔ لیکن۔ کیا ہر بات کے قصوروار دوسرے لوگ ہیں؟ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ یہ ہم پہ منحصر ہوتا ہے کہ ہم خود کتنا شعور رکھتے ہیں۔ درحقیقت نوجوانی کا وقت وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کے ارادے اور قوت اپنی اونچائیوں پہ ہوتے ہیں۔ اگر ان جذبوں اور قوتوں سے ان کے ملک کو ہی فائدہ نہ ہو تو یہ انتہائی بڑا نقصان ہے۔
پاکستانی نوجوان وہ ہیں جو صلاحیتوں سے بھرپور ہیں۔ جن کے عزائم بلند ہیں۔ جن کو اپنے ملک سے محبت ہے اور اپنے مسلمان ہونے پر فخر۔ لیکن ضرورت اب صرف اس بات کی ہے کہ ہمارے سامنے ایک واضح منصوبہ بندی ہو کہ ہمارے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے کیسے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ کیسے انہوں نے اپنے سوچنے کا زاویہ تبدیل کرتے ہوئے مسلسل مشقت کے ساتھ عقل کا استعمال بھی کرنا ہے۔
کیونکہ صرف محنت کا کوئی خاص اچھا نتیجہ دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اس محنت اور توانائی کا زیادہ بڑا حصہ بے ترتیبی اور ناقص منصوبہ بندی کی نظر ہو جاتا ہے اور آخر میں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جس پر کوئی آپ کی تعریف نہیں کر سکتا۔ آپ کو اپنی ذات کو بھی ایک اچھے نمونے میں ڈھالنے کی کوشش کرنی ہوگی، تب ہی یہ سب ممکن ہو سکے گا۔ یہ کام ہماری حکومت، والدین، اساتذہ اور خود نوجوانوں، سب کو مل کر کرنا ہے۔ اپنی سب مصروفیات جن کی ضرورت ہمارے ملک کو بالکل بھی نہیں، ان مصروفیات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ٹرک کے پیچھے لکھی یہ لائن بولنی ہے، ”اگ لاواں تیری مجبوریاں نوں“ (آگ لگاؤں تیری مجبوریوں کو) ۔


