کرکٹ، عمران خان کی سیاست اور استعاروں کی اہمیت

عمران خان کی بنیادی وجہ شہرت برطانوی نوآبادیاتی دور کے یادگار کھیل کرکٹ سے وابستگی ہے۔ برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد ، اکثر غیر سفید فام ریاستوں میں جہاں کرکٹ مقبول تھا، وہاں یہ کھیل نسل پرستی اور ’صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم‘ کے سوالات سے جڑ کر سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ ان ریاستوں نے کرکٹ کو اپنے سابقہ آقاؤں پر صرف برابری ہی نہیں بلکہ برتری ثابت کرنے کے لئے بھی استعمال کیا۔ اس طور کے کرکٹ کی ایک مثال انگلستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین انگلستان میں کھیلی گئی 1976 کی Grovel Test Series ہے جب ویسٹ انڈیز کے کرکٹرز نے دنیا کو دکھایا کہ مزاحمت اسلحے کی محتاج نہیں ہوتی اور شاعری لفظوں کی۔
اس کے برعکس پاکستان میں کرکٹ اور سامراج کے مزاج کا بندھن برقرار رہا۔ یہ بات اس دور کے بارے میں زیادہ درست ہے جب عمران خان کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ کرکٹ سے پیوستہ یہ احساس تفاخر تکبر کی حدوں کو چھوتا تھا۔ یہاں تک کہ جب سائیکل کی دکان والوں اور گاڑیوں کی مرمت کرنے والوں کے بچوں نے کرکٹ سے نام اور پیسہ کمانا شروع کیا تو برطانوی، امریکی اور عسکری انگریزی بولنے والوں کو کرکٹ میں مہارت نہیں بلکہ انگریزی زبان پر عبور زیادہ اہم محسوس ہونے لگا۔
پاکستان کی حقیقی آزادی کے مجاہد اور مبلغ عمران خان اسی مزاج کی ہی ایک جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران وہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی بجائے انگلستان میں کاونٹی کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کے بارے میں ان کی رائے وہی تھی جو لارڈ میکالے کی ہندوستان کی علمی و تہذیبی تاریخ کے بارے میں تھی یعنی پسماندہ، غیر معیاری اور احقر۔ اکثر پاکستان کی ہوم سیریز کھیلنے کے لئے بھی وہ انگلستان میں اپنی گونا گوں نصابی و غیر نصابی مصروفیات میں سے وقت نکال کر افتادگان خاک پر احسان فرمایا کرتے تھے۔
انگلستان میں اپنے قیام کے دوران سیکھے گئے داؤ پیچ آزماتے ہوئے عمران خان نے کرکٹ کے میدان میں اور میدان سے باہر وہ معرکے سر انجام دیے کہ کرکٹ کے موجد بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا کر رہ گئے۔ ان کی کرشمہ ساز شخصیت اور خود اعتمادی کا عالم یہ تھا کہ ’دا گارڈین‘ اور ’دی اٹلانٹک‘ جیسے اخبار اور میگزین بھی ان دنوں ان کے وزیر اعظم بننے کے بارے میں کالم چھاپ رہے تھے جب ان کے پاس میانوالی کی فون کال یافتہ واحد انتخابی نشست ہوا کرتی تھی۔
ان کا ہر دلعزیز ہونا صرف ان کی فن کرکٹ پر دسترس اور کامیابیوں کا مرہون منت نہیں تھا۔ قلب و نظر کی فتوحات ان کے یونانی فنون لطیفہ کے دور عالیہ کے مجسموں سے پیکر کا بھی کمال تھیں۔ سب مرد ان جیسا ہونا چاہتے تھے لیکن ستم یہ تھا کہ تمام خواتین کسی ان جیسے کو نہیں، صرف انہیں کو چاہتی تھیں۔ ان کی زندگی اور کرکٹ کیرئیر کے بارے میں لکھنے والے بجا کہتے ہیں کہ کرکٹ کے میدان میں وہ دلکشی و دلبری جس نے ان گنت ’آہوئے رم خوردہ‘ کو اپنے ’سحر و اعجاز‘ سے ’رام کیا‘ انہی کا خاصہ تھی۔ عثمان سمیع الدین نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ ان کا باؤلنگ رن اپ در حقیقت نصف نوع انسانی کے لئے وصل کا پیغام ہوتا تھا۔ اس پیغام کا نشہ آج بھی ایسا دو آتشہ ہے کہ ان کی حمایت میں ہونے والے جلسوں میں اس کے ثبوت جا بجا نظر آتے ہیں۔
درویشی دیکھیے کہ عمر بھر کا حاصل سیاست کے لق و دق صحرا میں جھونک دیا۔ اور سیاست بھی اس احسان فراموش زمین کی جس کے بد دیانت لوگوں کے بارے میں بحیثیت وزیر اعظم پاکستان اس مجسم صداقت و امانت نے بار ہا اپنی راست گوئی سے مجبور ہو کر ساری دنیا کو خبردار بھی کیا۔ میدان سیاست میں قدم رنجہ فرمانے کے بعد انہوں نے دلجمعی سے کرکٹ کے مختلف النوع استعاروں اور کھیل کے میدان کی رنگا رنگ لغت سے اس خرابے کو آباد کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ یہ طرز گفتگو سیاست کے خیمے کے لئے عرب کا اونٹ ہو گیا۔ رفتہ رفتہ سیاست کرکٹ سے وابستہ استعاروں کی بازاری تشریحات کے بوجھ تلے سسکنے لگی۔
بظاہر استعارے محض لفظ ہیں لیکن اپنے جوہر میں وہ اسرار سمیٹے ہوئے ہیں جو دوام بخشنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ فرد کا ہے کہ وہ دوام موسیٰ کے استعارے کے طور پر چاہتا ہے یا فرعون کے۔ جو انہیں محض لفظ سمجھ لے وہ ضیا ہو تو بھی ظلمت کا استعارہ بن جاتا ہے۔ جو ان کے جوہر تک رسائی پانے کا لگان اپنے لہو سے بھرنے کا حوصلہ رکھتا ہو وہ خاک ہو کر بھی خاک نہیں ہوتا۔ یہ استعارے کی ہی طاقت ہے کہ جو کل تک چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ ’سارا ملک مر گیا لیکن بھٹو پھر بھی زندہ ہے‘ آج اپنے ’قائد‘ کی سیاست کو معنی دینے کے لئے بھٹو سے تقابل کی بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔
عمران خان نے میدان سیاست میں تو جو دھول اڑائی سو اڑائی، وہ تو اس کھیل سے جڑے استعاروں کی بھی تحقیر کرتے رہے جس سے انہوں نے شہرت پائی تھی اور پھر اپنی سیاست چمکائی تھی۔ کرکٹ کا کھیل بھی باقی کھیلوں کی طرح کھلاڑیوں کی بہادری اور قوت ارادی کا امتحان لیتا ہے۔ جو چیز اسے باقی کھیلوں سے منفرد بناتی ہے وہ یہ ہے کہ جب ایک بیٹسمین دس حریف کھلاڑیوں میں گھرا ایک باؤلر کا سامنا کرتا ہے تو وہ ایک جنگجو کی طرح دشمنوں کے نرغے میں ہوتا ہے۔
اس وقت دکھائی گئی جرات اور بز دلی ہی بیٹسمین کے کردار کا پیمانہ بنتی ہے۔ عمران خان نے کرکٹ کے اسی بنیادی وصف کو جھٹلا دیا۔ اپنے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے اور اپنی پارٹی کی قیادت کرنے کی بجائے وہ یوں دبک گئے جیسے ان کے سکول کے عزیز دوست ویسٹ انڈیز کے باؤلر پیٹرک پیٹرسن کا سامنا کرتے ہوئے دبک جاتے تھے۔ پشاور میں قیام، قبل از گرفتاری ضمانت اور بنی گالہ میں اپنی ہی نظر بندی اس تاثر کو تقویت دیتی ہے۔
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے وقت پی ٹی آئی کی طرف سے اکیلے علی محمد خان کو اسمبلی میں حریفوں کا سامنا کرتے دیکھ کر وہ قصہ یاد آ گیا جب وسیم اکرم اپنے کیرئیر کے اوائل میں اپنے کپتان عمران خان کی شہ اور ہدایات پر ویسٹ انڈیز کے عظیم بیٹسمین ویوین رچرڈز کو جارحانہ باؤلنگ کرنے کے ساتھ ساتھ بد تمیزی بھی کر رہے تھے۔ ویوین رچرڈز کو یہ بات اس حد تک ناگوار گزری کہ وہ میچ کے بعد پاکستان کے ڈریسنگ روم میں وسیم اکرم سے دو دو ہاتھ کرنے آ گئے۔ وسیم اکرم کی گھگھی بندھ گئی۔ عمران خان سے مدد چاہی تو انہوں نے اپنی لڑائی خود لڑنے کی نصیحت پر اکتفا کیا۔
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حتمی فیصلہ 9 اپریل کو ہوا۔ لیکن انہوں نے اس آئینی عمل کو 10 اپریل تک کھینچنے کی حتی الامکان کوشش کی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں 10 اپریل کی تاریخ خاص اہمیت رکھتی ہے۔ یہ آئینی اور جمہوری جد و جہد کا استعارہ بھی ہے اور اپنی بداعمالیوں کی پردہ پوشی کا بھی۔ 10 اپریل کو ہی پاکستان کا پہلا متفقہ آئین منظور ہوا تھا اور 10 اپریل کو ہی شہید بے نظیر بھٹو ضیا آمریت کو للکارنے پاکستان لوٹ کر آئیں تھیں۔ اسی تاریخ کو راولپنڈی میں سانحہ اوجڑی کیمپ بھی ہوا تھا۔ عمران خان اپنی کرسی تو ایک اور دن کے لئے نہ بچا سکے لیکن انہوں نے پاکستان کے آئین، سیاست اور جمہوری عمل پر وہی وار کیے جو سانحہ اوجڑی کیمپ کے نتیجے میں اپنے ہی لوگوں پر کیے گئے تھے۔
معلوم نہیں کہ عمران خان کا ائرکنڈیشنڈ اور منرل واٹر انقلاب کا شور و غوغا بجھتے چراغ کی بھڑکتی لو ہے یا ’کہتے ہیں جس کو عشق‘ سی کوئی کیفیت۔ لیکن یہ طے ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی فیصلوں سے خود کو ان کرداروں کے برابر لا کھڑا کیا ہے جو سانحہ اوجڑی کیمپ میں ملوث تھے۔ وہ کردار تاریخ میں یوں بے نام و نشان رہیں گے جیسے وہ پتھر جو اپنے ہی وزن سے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ اور اگر کسی کا نام یاد رہا بھی تو وہ موسیٰ کے استعارے کے طور پر نہیں ہو گا۔

