انسان کو انسان ہونے کا مارجن دیں – دعا زہرا کیس کی روشنی میں


دعا زہرا کے کیس نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا رکھا ہے۔ عوام کی رائے ان کی پسند کے مطابق بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

والدین نے ایک الگ ڈرامہ لگائے رکھا اور دعا صاحبہ اور ان کے مجازی خدا نے انٹرویوز دے کر ایک الگ انٹرٹینمنٹ لگائے رکھی غرض دونوں نے اپنے اپنے طریقے سے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

اور عوام جذبات کی رو میں بہہ کر سوچ رہے ہیں کسی کو دعا زہرا سہی لگ رہی ہے کسی کو ماں باپ پر ترس آ رہا ہے۔ لیکن اب ضرورت ہے پریکٹیکل سوچ کی۔

کیا کسی نے یہ سوچا کہ یہ واقعات اکثر و بیشتر پاک و ہند میں ہی کیوں پیش آتے ہیں؟ ایسا کیا ہے کہ آج تک بھاگ کر شادی کرنا، پسند کی شادی پر قتل و غارت وغیرہ وغیرہ جیسے واقعات مشرق میں یا بالخصوص پاک و ہند میں ہی کیوں پیش آتے ہیں؟

اس کی وجہ نہ نافرمان اولاد ہے نہ والدین کی تربیت، نا ہی دینی تعلیم یا دین سے دوری۔

دیں کی بات کی جائے تو اسلام مرد اور عورت کو پسند کی شادی کا حق دیتا ہے اور زبردستی کی شادی یعنی لڑکے یا لڑکی میں سے کسی ایک یا دونوں کی رضامندی شامل نہ ہو تو نکاح فسخ تصور کیا جاتا ہے۔

بات کی جائے والدین کی تربیت کی یا اولاد کی نافرمانی کی تو کسی کو پسند کرنا فطری عمل ہے اس میں تربیت کا کوئی لین دین نہیں نا ہی کسی کو پسند کرنا اور اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے۔ بنانے والے نے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے ایک اٹریکشن رکھی ہے جب آپ قدرتی چیزوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں انہیں زبردستی اپنے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تو اس ایکشن کا ری ایکشن تو لازمی ہو گا نا! اب آتے ہیں ان واقعات کی اصل وجہ پر۔ اصل وجہ ہے کمزور رشتے، انسانی کیفیت کو نہ سمجھنا، اپنی رائے مسلط کرنا یا زبردستی کرنا اگر دریا کو کوزے میں بند کروں تو یہ سب ”جنریشن گیپ“ کی وجہ سے ہے۔

میں نے دیکھا ہے اپنے ارد گرد، دوستوں کے گھروں میں بچوں کو سپیس نہیں دی جاتی، انہیں گھر میں دوست نہیں ملتا اور میرا ماننا ہے کہ والدین اور دادا، دادی یا نانا، نانی سے زیادہ اچھا اور مخلص دوست پوری دنیا میں نہیں مل سکتا۔ لیکن یہ دوستی بنانا پڑتی ہے یہ عمل آٹومیٹک نہیں ہے لیکن یہ عمل تمام معاشرتی برائیوں کا سب سے بہترین اور جامع حل ہے۔

مجھے یاد ہے میرے والدین نے مجھے بچپن میں ہی گڈ اور بیڈ ٹچ کے بارے میں بتا دیا تھا جب میں آٹھویں، نویں جماعت میں آئی تو میری نانی جان (اللہ انہیں غریق رحمت کرے ) اور میرے والدین نے مجھے کہا کہ تم بڑی ہو رہی ہو کچی یا بالغ عمر میں لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے کو پسند کرنا بالکل فطری عمل ہے اگر کبھی بھی کسی کی طرف اٹریکشن ہو کوئی پسند آئے یا کوئی لڑکا پسندیدگی کا اظہار کرے تو بلا جھجک ہمیں بتانا ہم تمہاری مرضی کے مطابق ہر کام کریں گے۔

وہ دن تھا اور آج کا دن ایسا اعتماد پیدا ہوا کہ ہر بات گھر آ کر نانی جان کو بتاتی، کو ایجوکیشن میں پڑھنا شروع کیا بہت لڑکے لڑکیاں دوست بنے ہر دوست کا گھر بتایا۔ نانی، دادی، یا ماں کو بتانے میں پھر جھجک محسوس نہیں ہوتی لیکن والد کو ایسی باتیں بتانا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا لیکن میرے والد محترم نے ایسی دوستی قائم کی کہ ان سے کبھی کچھ چھپانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی

انہیں میرے ہر دوست کا پتہ ہوتا ہے، کبھی میں نا بتاؤں تو وہ خود پوچھ لیتے ہیں، تمام دوستوں کو جانتے ہیں کئی سے بات بھی کر چکے ہیں کوئی پسند آئے یا کوئی پسندیدگی کا اظہار کرے گھر میں سب سے پہلے بنایا۔

یہی وجہ ہے کہ کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا۔

گھر والے میری اور میں ان کی پسندیدگی و رائے کا احترام کرتی ہوں اور ایسے کم ہی دوست ہیں جن کا ایسا ہی تعلق ہے۔

دعا زہرا اور اس طرح کے دیگر واقعات کی بات کروں تو کیا بیشتر گھروں میں کبھی والدین نے پوچھا کہ تم ایک انسان ہو انسانی جذبات رکھتے ہو کوئی پسند ہو تو بتانا ہم ہیں ہم کرائیں گے نکاح، کسی نے غلط چھوا تو بتانا ہم اس سے دیکھ لیں گے، کوئی غلطی ہو جائے تو گھٹنے کہ بجائے ہمیں بتانا ہم ساتھ ہیں ٹھیک کر دیں گے۔ اگر یہ اعتماد اور ساتھ کی یقین دھانی کرائی جائے تو بے شمار واقعات پیش ہی نہ آئیں، اگر ہمارا معاشرہ نکاح کو آسان بنائے تو دعا زہرا جیسے واقعات نہ ہوں، لڑکے لڑکیاں بھاگ کر نکاح کرنے پر مجبور نہ ہوں۔

یہاں بچوں کو کوسنے اور برا بھلا کہنے کے بجائے انہیں گنجائش دی جائے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو زندگیاں بہت آسان اور خوشگوار ہو جائیں گی۔ بات صرف نظریات بدلنے کی ہے، رشتے وہی رکھیں لیکن سوچ بدلیں، انسان کو انسان ہونے کا مارجن دیں۔

Facebook Comments HS