دیوتا کا نیا جنم!


پہلے ایک بلاگ میں لکھا تھا کہ دیوتا کی آمد ہو گئی، لیکن جادو کی چھڑی اس کی زنبیل سے نہیں ملی جس وہ ہمارے سارے دلدر جنتر منتر کے ذریعے فوری دور کر سکتا۔ بہرحال جیسے تیسے حکومتی ڈھول بجتا رہا، ایک پیج والی محبت پروان چڑھتی رہی اور ایسا لگتا تھا کہ یک جان دو قالب نہیں ایک ہی پرتو کا عکس ہے جو ہر طرف دھوم مچائے منعکس ہو رہا ہے۔ اس کی روشنی میں رنگ و نور کی بہار ہے، قوس و قزح کے رنگ کا ایک حسین پیراہن ہے جو اس پیج نے اوڑھ رکھا ہے۔

اس عشق کی انتہا اس وقت دیکھنے کو ملی جب دیوتا نے بیک جنبش قلم دلدار کو 3 سالہ مدت عطا فرما دی، ہر طرف ہاہاکار مچ گئی، کھوسہ صاحب شاید اسی تاک میں بیٹھے تھے، شاید انہیں بھی سنہری موقع نظر آیا کہ تاریخ میں اپنا نام مزید روشن کر سکیں، انہوں نے اس سارے قضیے میں خوامخواہ ٹانگ اڑا کر عشق پیچا کی تاروں کو چھنکا ڈالا۔ حالانکہ عشق میں ایسے نکتے کون دیکھتا ہے، لیکن کیا کریں یہ قانونی نکتہ تھا۔ ایک چیف دوسرے چیف کے خلاف کھڑا ہو گیا ”یہ مدت نہیں بڑھائی جا سکتی“ ۔ کھوسہ کے کھڑاک کی خبر جب خانہ دلدار تک پہنچی تو بھونچال آ گیا۔

اس کے بعد ”سب ایک پیج“ پر والا تماشا ہوا اور جمہوری طریقے سے آمریت کو فروغ دیا گیا۔ ادارے مضبوط کرنے والے، افراد کو طاقت بخشتے رہے اور ڈیلیں ہوتی رہیں۔

دیوتا اور اس کے پیروکاروں نے کبھی اپنے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں کی، جس کا نقصان انہیں حکومت کے چل چلاؤ کے وقت ہوا مگر اب پچھتائے کیا ہوت۔ جس احتساب کا ڈنکا بجایا گیا اس کی قانونی ہیرا پھیریوں اور منہ شگافیوں سے لوگ بچتے رہے، نکلتے رہے۔

دیوتا ماضی کی طرح گرجتا برستا رہا، کبھی مسلم دنیا کا لیڈر بنا تو کبھی اسے وقت کا ایوبی کہا گیا۔ لگتا تھا خلافت عثمانیہ کا احیاء یہی کریں گے۔ اسلامک فوبیا پر دنیا کو وہ درس دیا کہ پوری مسلم امہ عش عش کر اٹھی۔ حرمت رسولﷺ پر دنیا کو جگایا اور ایسی تقاریر کیں جن کا رہتی دنیا تک ذکر رہے گا۔ ملکوں ملکوں اپنی شعلہ بیانی کا ڈنکا بجایا اور منوایا۔

اب ساڑھے تین سال کا وقت آن پہنچا، پاکستان کی موجودہ جمہوری تاریخ میں یہ بہت نازک وقت ہوتا ہے۔ مدارالمہام خود کو ”اصلی“ سمجھنا شروع کر دیتا ہے، پشت پناہی کرنے والے پہلے وارننگ دیتے ہیں پھر اپنی چالیں چلنا شروع کر دیتے ہیں جس کا انجام کبھی بھی بخیر نہیں ہوتا۔ دیوتا بھی کچھ ایسی ہی ڈگر پر چل نکلا تھا، خفیہ والا بندہ چونکہ اپنا تھا اس لئے اسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، لیکن طاقت کا اصلی منبع والی سرکار اپنا بندہ لگا چکے تھے۔

اس کھینچا تانی نے سب کی خوب بھد اڑائی۔ لیکن کیا ہو سکتا تھا وہی جو ان کو منظور تھا۔ یہ شاید اس عشق میں پہلی دراڑ تھی۔ ملکی معیشت جو تھوڑی بہت سنبھل چکی تھی وہ ایسے تماشوں کے نذر ہونے لگی۔ ایک پیج والا تانگہ ”لیر و لیر“ ہونے والے سفر کی شاہراہ پر چل پڑا تھا۔ شکوک و شبہات نے سب کچھ اجاڑ ڈالا۔ دیوتا جس کو یہ زعم تھا کہ میرے علاوہ ان کے پاس کوئی چوائس نہیں، اسے اداروں نے رپورٹس دینا شروع کر دیں کہ آپ کا متبادل چن لیا گیا ہے اور خدا کی کرنی دیکھیں بعد میں یہ وہی بندہ نکلا جس نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ آپ نے تو ہم کو دیواروں میں چن دیا ہے۔ آج اسی کو انہوں نے چن لیا، جنہوں نے دیوتا کو چنا تھا۔

تلخیاں اس حد تک بڑھ گئیں کہ دیوتا ایک دن عوام پر پل پڑا، فرمایا:
”مجھے آلو ٹماٹر کی قیمتوں سے کیا، میں تو آپ کو قوم بنانے آیا ہوں“

یعنی غصہ کسی اور کا کہیں اور نکال دیا، 11 ستمبر 1948 ء کے بعد سے آج تک سب لیڈران ہمیں قوم بنانے آتے رہے، لیکن ہم ہی نا اہل، نکمے، نکھٹو، کرپٹ ہیں کہ قوم نہ بن سکے۔ اب ہم اس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ خود کو قابل رحم سمجھتے ہیں خود کو ہی برا بھلا کہتے ہیں لیکن ان لیڈران کی آج بھی واہ واہ ہے۔ یہ اس سیاہ۔ ست کے چمکتے دمکتے ستارے ہیں اور ہم خود کو آج بھی نیچ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ہر کسی کا لیڈر ایک دیوتا ہے جو کسی بھی خطا اور غلطی سے مبرا ہے۔

آمریت و جمہوریت کے ڈھول پیٹتے پیٹتے ایک نسل چل بسی، ایک بوڑھی ہو گئی اور ایک جوانی کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے لیکن کسی نے آج تک اس قوم کو یہ نہیں بتایا کہ آپ کتنے اچھے ہیں آپ میں کیا خوبیاں ہیں آپ میں کتنی صلاحیتیں ہیں۔ جب سب کچھ اچھا ہو رہا ہوتا ہے تو ان لیڈران کی واہ واہ ہوتی ہے اور جب کچھ برا ہو تو پھر یہ عوام نکمی ہے نا اہل ہے۔ شاباش!

اس عوام کے لئے، ہمارے لئے، غالب کیا خوب فرما گئے ہیں
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اک تیز رو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہ بر کو میں

1985 ء سے اس کھیل تماشے کو دیکھ رہے ہیں بلکہ بھگت رہے ہیں، اس سے پہلے جو کچھ ہوتا رہا اسے کتابوں سے جانا بلکہ جانچا۔

میرا ذاتی نقطہ نظر ہے، اس قوم کو قوم مت بنائیں۔ یہ جیسی ہے ویسی ہی رہنے دیں، خود کو قائد جیسا لیڈر بنا لیں قوم خود بخود بن جائے گی۔

بہرحال پھر وہ دن آ گئے جب حلیف حریف بن گئے، جن کو گلے میں مفلر ڈال ڈال کر اپنا بنایا تھا انہوں نے دھوکا دے دیا۔ چاہے جیسے بھی ہوا لیکن دیوتا نے آخری سیکنڈ تک مقابلہ کیا مگر سب رائگاں گیا۔ لگتا تھا زمین و آسمان سب دیوتا سے روٹھ گئے، اس نے جاتے ہوئے یہ ضرور کہا کہ اب میدان کارزار میں سب سے مقابلہ کروں گا۔ اور پھر ہم نے دیکھا اس کی ایک پکار پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے کوئی لیڈر کوئی راہنما ان کے ساتھ موجود نہیں تھا مگر دیوتا کی پکار ہی ان کی راہنما تھی۔

اب دیوتا نے جلسے شروع کیے ، سازشوں کے پول کھولنے شروع کیے ، ہر جلسے میں اس کا استغاثہ نئے نئے قضیے ڈھونڈتا اور عوام کو بتاتا کہ کیسے اس کے ساتھ دھوکا کیا گیا۔ جلسوں کی چمک دھمک نے دیوتا کو لانگ مارچ پر اکسایا، اسے لگتا تھا لانگ مارچ حکومت اور نیوٹرلز کو الٹ کر رکھ دے گا۔ مگر شاید وہ یہ بھول چکا تھا کہ طاقتیں کسی اور کی طرف تھیں۔ لانگ مارچ کا نتیجہ حسب توقع نہ نکلا، پھینٹا پروگرام خوب چلا لیکن اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ دیوتا کے پیروکار اس قسم کے شو کے لئے تیار ہیں۔ حالات جس ڈگر پر چل رہے ہیں دیوتا کا اگلا شو دیکھنے کے قابل ہو گا۔ اسے اب نیوٹرلز سے مدد نہیں مانگنی چاہیے بلکہ عوام الناس کے ساتھ چلنا چاہیے۔ اب اگر اس نے دوبارہ سمجھوتہ کر لیا تو وہ تمام جدوجہد اور بیانیہ ختم ہو جائے گا جس کے لئے عوام نے پھینٹا کھایا ہے۔

Latest posts by سید تصور عباس، باکو - آذربائیجان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید تصور عباس، باکو - آذربائیجان کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments