گلگت بلتستان کے تاریخی شہر خپلو کی سیر
سفری، ڈسٹرکٹ اپر چترال بونی کے مقامی ہم خیال دوستوں کا سیاحتی گروپ ہے۔ جو وقتاً فوقتاً پاکستان کے اندر مختلف سیاحتی مقامات کی سیر کرتے رہتے ہیں۔ اس بار سفری کا منصوبہ گلگت بلتستان کی تاریخی مقامات کو دیکھنے کا تھا۔ 5 مئی 2022 کو سفری گروپ ٹور کے تیسرے دن دو پھر 12 بجے گلگت شہر سے اسکردو کی طرف روانہ ہونے سے پہلے یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ آج ہمارا بسیرا سدپارہ جھیل کے ساتھ کہیں ہو گا۔ سدپارہ اسکردو شہر کے قریب ایک بہت ہی خوبصورت سیاحتی مقام ہے یہاں پر ایک جھیل کے ساتھ قدرتی مناظر موجود ہے، کھانے پینے اور رات گزارنے کے لیے تمام ضروری سامان پاس تھے۔
سفری گروپ ٹور کا احوال کسی طرح سے ہمارے چترال کے سابق ایم پی اے سید سردار حسین شاہ صاحب، جو آج کل خپلو میں مقیم ہیں، کو ہو چکا تھا۔ راستے میں ہمارے گروپ لیڈر کو شاہ صاحب کا پیغام ملا کہ آپ لوگ سیدھا خپلو آئیں اسکردو میں نہ ٹھہریے اور ساتھ یہ بھی رہنمائی کی کہ اسکردو سے خپلو کا فاصلہ اتنا زیادہ نہیں ہے آپ کو سدپارہ میں جا کے ٹینٹ لگانے میں جتنا وقت لگے گا تب تک آپ خپلو پہنچ جاو گے۔ راستے میں ہم نے شاہ صاحب کو کوئی پیغام نہیں دیا، مصمم ارادہ یہیں تھا کہ آج ہم سدپارہ ہی جائیں گے۔
راستے میں استک ایک پیاری سی جگہ ہے یہاں پر اتر گئے، چائے پی اور اگے روانہ ہوئے۔ قصہ مختصر جب ہم تقریباً 5 بجے کے قریب اسکردو پہنچے، تو حیدری لال (گروپ لیڈر ) کی وساطت سے شاہی دیوان ہوٹل میں کھانے کا انتظام ہو چکا تھا (اصل میں یہ پروگرام دوپہر کا تھا لیکن ہم دیر سے پہنچے۔ ) شاہی دیوان پہنچ کر کھانا آنے تک دوستوں نے مشورہ کیا کہ آج ہم یہاں سے خپلو جائیں گے کیونکہ باہر تیز ہوا چل رہی تھی اور ساتھ بارش کا امکان بھی ظاہر ہو رہا تھا۔
تیز ہوا اور بارش میں کھلی جگے میں ٹینٹ نہیں لگایا جاسکتا۔ یہ بات طے ہو گئی کہ کل خپلو کی سیر کے بعد شام کو پھر سدپارہ پہنچیں گے اور یہاں پر قیام کریں گے۔ اس کے بعد شاہ صاحب کو کنفرم کیا کہ ہم ابھی خپلو آرہے ہیں۔ اس طرح شاہی دیوان سے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اوپر سے چائے پی کر تقریباً شام 7 بجے کے قریب اسکردو شہر سے خپلو کی طرف روانہ ہوئے۔ اسکردو سے خپلو تک کا فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کا ہے اور روڈ کی حالت نسبتاً بہتر ہے۔
اس طرح سفر کر کے جب ہم خپلو پولیس سٹیشن پہنچے تو پولیس چوکی والوں نے ہم سے پوچھا کہ آپ شاہ صاحب کے مہمان ہیں تو ہم نے خوشگوار حیرت کے ساتھ ہاں میں جواب دیا۔ تو یہاں سے ایک پولیس والا بندوق لیے ہماری رہنمائی کے لیے ساتھ ہو لیے۔ ہم تھوڑے اگے گئے تو بھابی (سردار حسین کی بیگم) خود خوش آمدید کہنے کے لیے بچوں کے ساتھ تشریف لائی تھی۔
اس طرح ہم تقریباً 9 بجے شاہ صاحب کے دولت خانے پہنچ گئے۔ شاہ صاحب گھر سے باہر ملنے آئے سب کا فرداً فرداً نام لے کر خیریت دریافت کی اور گھر آنے پر شکریہ بھی ادا کیا۔ خپلو میں شاہ صاحب کا گھر نہیں بلکہ لنگر خانہ ہے۔ لوگ آتے ہیں جاتے ہیں گھر میں خدمت کے لیے ہمہ وقت تین لوگ موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں خوشی اس بات پہ ہوئی کہ شاہ صاحب کے بچے اور بھابی کھوار بہت اچھی بولتے ہیں حالانکہ بھابی کی ماں بولی بلتی ہے اور ان کا زیادہ وقت خپلو میں گزارتی ہیں اور بونی کم ہی آتی ہیں۔
اس کے باوجود بھی شاہ صاحب نے اپنی بچوں کو اپنی زبان و ثقافت سے روشناس کر آیا ہے یہ اس کی اپنے علاقے اور زبان و ثقافت سے محبت کی ہے۔ رات کو کھانے کا وقت ہوا تو ہم حیرت زدہ رہ گئے خپلو شہر میں رہتے ہوئے بھی کھانے میں بہت ساری چیزیں دیسی تھی ان میں خپلو کے روایاتی خوراک بھی شامل تھے۔ انواع اقسام کے کھانے اور ساتھ ذائقہ ایسا کہ بندہ کھاتا ہی رہے۔
خپلو، ضلع گھانچے کا صدر مقام ہے یہاں پر بہت سارے تاریخی مقامات موجود ہیں ان میں خپلو کا تاریخی قلعہ، مسجد چقچن، اور خانقاہ عالیہ سید علی ہمدانی بہت مشہور ہیں۔ اگلی صبح ہم جب شاہ صاحب کی معیت میں ان تاریخی مقامات کی سیر کے لیے نکلے تو ہمیں پتہ چلا کہ بڑے لوگ جہاں بھی جاتے ہیں اپنا مقام خود بنا لیتے ہیں اس طرح شاہ صاحب (سید سردار حسین شاہ) بھی خپلو میں اپنا ایک مقام بنا چکا ہے۔ صبح سب سے پہلے ہم سید علی ہمدانی کا خانقاہ عالیہ پہنچے یہ 600 سال پرانی خانقاہ اور ساتھ خوبصورت مسجد بھی ہے، اس تاریخی مسجد کی اب مرمت ہو رہی ہے۔
سید علی ہمدانی مسلمانوں کے ایک فرقہ ”مسلک نور بخشیہ“ کا بانی ہے۔ اس مسجد کے بارے میں روایت ہے جو بھی یہاں پر آ کر دو رکعت نفل نماز ادا کر کے اللہ سے کوئی دعا مانگے تو وہ دعا فوراً قبول ہوجاتی ہے، دوستوں نے یہاں پر نفل نماز ادا کی۔ یہاں پر ہم نے خانقاہ کے مجاور صوبیدار میجر ریٹائر محمد بلال سے بھی ملے جو یہاں کے تعمیرات کا بھی نگراں ہے۔ اس نے ہمیں ایک پیارا سا پیغام بھی دیا کہ ”علاقے میں جہاں بھی جس فرقے کی طرف سے بھی اللہ کا گھر یعنی مسجد بن رہا ہوں تو اس کی تعمیر میں حصہ لینا چاہیے تاکہ علاقے میں ہم آہنگی کی فضا پروان چڑھے اور بھائی چارے کی فضا عام ہو۔“ ایک ریٹائر صوبیدار ہمارے گروپ میں بھی تھا دونوں پیٹی بند بھائی مل کر خوشی کا اظہار کیا۔
خپلو کا تاریخی قلعہ: خپلو میں یہ قلعہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمیں یہ بتایا گیا کہ یہ قلعہ تقریباً خستہ حال ہو چکا تھا ”آغا خان کلچرل سروس پاکستان“ نے اس قلعے کو اپنی حفاظت میں لے کر اس کی مرمت کچھ اس طرح سے کی کہ اس کی اصل شکل بھی برقرار رہی اور یہ استعمال کے قابل بھی ہوا۔ جو آج کل ایک ہوٹل کے طور پر بھی استعمال ہو رہا ہے۔ اس ہوٹل میں ایک دن کا کرایہ 3200 ہزار روپیہ ہے۔ اچھی بات یہ ہے اس کمائی میں یہاں کے مقامی کمیونٹی کا بھی حصہ ہوتا ہے، جو یہاں کی کمیونٹی کے بہبود پر خرچ ہوتا ہے۔
ہم یہاں پر شاہ صاحب کے مہمان کے طور پر آئے تھے اس لیے نہ صرف چائے سے تواضع کی گئی بلکہ آفیشلی ہمیں اس تاریخی قلعے کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی، اور ساتھ وہ جگہیں بھی ہمیں دکھائی گئیں جہاں تک عام سیاحوں کو رسائی نہیں۔ خپلو فورٹ کا داخلہ فیس فی کس 700 روپے ہے۔ آج ہم شاہ صاحب کے مہمان کے طور پر اس قلعے میں آئے تھے اس لیے 700 روپے کی بھی بچت ہو گئی۔ خپلو فورٹ کے صحن میں آفیشل کے ساتھ ایک گروپ فوٹو بھی اتاری گئی۔
اس کے بعد ہم علاقے کی سب سے پرانی اور یادگار مسجد چقچن کی زیارت کے لیے گئے۔ یہ خپلو شہر کے جنوب کی طرف کافی اونچائی پر واقع ہیں یہ تقریباً ہزار سال پرانی مسجد ہے۔ لوگ روایت کے مطابق اس مسجد کی ایک اہمیت یہ ہے علاقے میں دو فریقوں کے درمیاں کوئی تفرقہ ہوں تو کوئی ایک فریق اس مسجد کے مرکزی دروازے کی زنجیر پکڑ کر اپنی بے گناہی کی قسم کھاتا ہے تو اس کو تو اس کو بری کیا جاتا ہے کیونکہ کسی کی جرات نہیں یہاں پر اکر جھوٹی قسم کھالے۔ اگر کوئی یہاں پر اکر چھوٹی قسم کھالے تو اس کا کوئی بڑا نقصان ہوجاتا ہے ۔ اس بات کا یہاں کے لوگوں کی ایمان کی حد تک کا یقین ہے
خپلو میں یہ سارے تاریخی مقامات شہر کے اندر قریب قریب واقع ہیں اس لیے کم وقت میں ان ساری تاریخی مقامات کا سیر کیا جاسکتا ہے۔ شاہ صاحب نے نہ صرف ہمیں ان تاریخی مقامات کی سیر کرائی بلکہ ان تاریخی مقامات کے بارے میں ہمیں اگاہی بھی دی۔ اس لیے ہم نے کم وقت میں بہت ساری تاریخی مقامات دیکھیں۔
خپلو شہر کی ایک اور خوبی یہ ہے یہ بہت گنجان آباد ہے۔ راہ چلتے ادھر ادھر سے کچھ بھی نظر نہیں آئے۔ ہر جگہ بہت ہی پرانے درخت نظر آتے ہیں جیسا کہ یہاں پر درخت کاٹنے کا رواج نہ ہو۔ جب ہم نے ان کے بارے میں مقامی لوگوں سے پوچھا تو جواب یہ آیا کہ خپلو میں بجلی کا بل بہت سستا ہے، بجلی سستی ہونے کی وجہ سے درختوں کو کاٹ کر ایندھن کے طور پر استعمال کرنے کی نوبت نہیں آتی۔ اس لیے ہر جگہ درخت ہی درخت نظر آتے ہیں
جب ہم نے خپلو میں موسم کے حساب سے فصلوں کا مشاہدہ کیا تو یہاں کی فصل خاص کر کے گندم ابھی بہت پیچھے تھی، اس کے بارے میں بتایا گیا کہ خپلو میں لوگ مال مویشی بہت پالتے ہیں۔ وہ مال مویشی نومبر سے لے کر مارچ تک پہاڑی چراگاہوں میں برف ہونے کی وجہ سے گاؤں میں ہی ہوتے ہیں اور گاؤں کی رواج کے مطابق یہ جانور آزاد گھومتے ہیں۔ اس لیے جب تک وہ مال مویشی مارچ کے آخر تک چراگاہ منتقل نہ ہوں تو گندم کی فصل بونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے خپلو کے لوگ گندم کی فضل مارچ کے بعد بوتی ہے۔
خپلو میں ان تاریخی مقامات کی سیر کے بعد شہر سے باہر ایک اور سیاحتی مقام سپلنگ جانے پر اتفاق ہوا۔ تو معراج بھائی نے یہ عذر پیش کیا کہ گاڑی میں تیل کم ہے اور پمپ سے تیل مل نہیں رہا۔ یہ ہمیں اسکردو نہیں پہنچا سکے گی۔ کے کے ایچ روڈ کی بندش سے یہاں پر تیل کی سپلائی نہیں ہو رہی تھی۔ شاہ صاحب دوسرے گاڑی میں جاوید بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ اطلاع شاہ صاحب پہنچی تو بالائی حکام کے کسی اہلکار کو فون کر کے مسئلہ حل کروا دیا۔
اس طرح گاڑی میں تیل بھرنے کے بعد ہم سپلنگ نام کے ٹورسٹ سپاٹ کی طرف چل دیے۔ یہ خپلو سے تھوڑی فاصلے پر اگے دریا کے جنوب کی طرف پہاڑ کے ساتھ واقع ہے۔ یہ دیکھنے سے تو کوئی خاص جگہ نہیں ہے لیکن یہاں کے لوگ سیاحت کی اہمیت کو جانتے ہیں اور ان کو پتہ ہے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ اس لیے اس عام سی جگہ کو ایسے خوبصورت بناتے ہیں کہ ایک اعلی پیمانے کا ٹورسٹ سپاٹ بن گیا ہے ۔ یہاں پر فش فرم موجود ہے، پہاڑ پر چڑھنے کے لیے ٹریک بنائے ہیں جہاں پر خپلو شہر نظر آتا ہے۔
ساتھ تالاب اور باغ موجود ہیں۔ گیسٹ ہاؤس کی بلڈنگ کو مقامی رنگ دے کر بہت پیارا بنایا گیا ہے ۔ اس لیے دل چاہتا ہے اس گیسٹ ہاؤس میں ہی رہ کر قدرتی مناظر کا لطف اٹھائیں۔ بہت پیاری جگہ ہے۔ لیکن ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں تھا یہاں پر ٹھہرنے کے لیے، کچھ دیر یہاں پر قیام کیا، ساتھ والے دکان سے کچھ دوستوں نے دیسی شہد اور کچھ دیسی قسم کی دوائی لی اور یہاں سے روانہ ہوئے۔
شاہ صاحب کو دوبارہ خپلو میں اتارا اور سہانی یادیں دل میں سجا کر خپلو سے شگر کی طرف روانہ ہوئے۔ شگر خپلو اور سکردو روڈ سے ہٹ کے تقریباً 17 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شکر فورٹ کی سیر کے بعد دوبارہ اسکردو کے قریب سدپارہ کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن قسمت میں سدپارہ میں شب بسری نہیں تھی۔ جب ہم شام کے تقریباً 7 بجے سدپارہ لیک پہنچے تو تیز ہوا چل رہی تھی اور بارش کا امکان بھی تھا۔ ہم نے سدپارہ سے کافی آگے گاؤں تک گئے لیکن پھر بھی ہوا نے تھمنے کا نام نہیں لیا اس لیے دوبارہ اسکردو آ کر عوامی گیسٹ میں ٹھہرنے کا فیصلہ کیا، یہ ہماری گروپ کی طرف سے پہلی دفعہ تھا کہ ہم پیسے دے کے رات گزاری ہو یعنی کہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوں۔
شگر کی سیر کا احوال پھر صحیح۔ جب ہم نے اسکردو میں آ کر ہوٹل کے کمرے میں شفٹ ہوئے ہی تھے پھر شاہ صاحب کا فون آیا کہ اگر اسکردو میں رات گزارنی ہے تو میں نے ہوٹل کا انتظام کر لیا ہے۔ لیکن ہم نے شکریے کے ساتھ معذرت کرلی کہ ہم نے ہوٹل میں بل کی ادائیگی کرچکے تھے ورنہ کچھ دیر انتظار کرلیتے تو یہ رات بھی مفت میں گزاری جاسکتی تھی۔ یوں ہمیں سدپارہ جھیل کے ساتھ رات گزارنا نصیب نہ ہوا اور رات اسکردو میں گزار کر کے خوش گوار یادوں کے ساتھ یہاں سے کچورا کی طرف چل دیے۔


