لوگ بچے کیوں پیدا کرتے ہیں؟


آج آنٹی نسیم بہت پریشان لگ رہی تھیں۔ ٹھیک سے کام کی طرف بھی دھیان بھی نہیں تھا۔ جلدی جلدی سارے کام نبٹا کر امی سے کچھ ادھار پیسے مانگے۔ تو امی نے پوچھا۔ اتنے پیسوں کی کیا ضرورت آن پڑی۔ تو بتانے لگیں کہ بیٹی کی گود بھرائی کی رسم ہے۔ پہلا بچہ ہے۔ اسے سسرال سے لینے جانا ہے۔ اب بیٹی کی طرف خالی ہاتھ جاتے اچھا نہیں لگتا۔ دوسرا گود بھرائی کی رسم ہے۔ کچھ پھل، میوہ بادام کے ساتھ بیٹی اور داماد کے کپڑے بھی لے جانے ہیں۔

یہ رسم خیریت سے نمٹ گئی۔ تو آنٹی کو اسپتال کے خرچے کی فکر ہونے لگی۔ بیٹی کی ضد تھی وہ سرکاری اسپتال نہیں جائے گی۔ قریبی پرائیویٹ کلینک جائے گی۔ اس کے سسرال والوں کے حالات کچھ بہتر تھے۔ اس لیے وہ سرکاری اسپتال جا کر سسرال میں ناک نہیں کٹوانا چاہتی تھی۔ بیٹی شاید بھول گئی تھی کہ ماں دن بھر گھر گھر برتن صاف کر کے اور کپڑے استری کر کے کماتی ہے۔ باپ ایک مزدور آدمی ہے۔ جو اس مہنگائی کے دور میں مشکل سے اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرتے ہیں۔ ایسے میں بیاہی بیٹیوں کی فرمائشیں ماں باپ کا جینا دو بھر کر دیتی ہیں۔ یہ صرف آنٹی نسیم کے گھر کی کہانی نہیں۔ یہ کہانی گھر گھر کی ہے۔ غریب اور متوسط طبقے کے ہزاروں درد اور مسائل اپنے پیدا کردہ ہیں۔ ہر وقت بات بات پر ناک کٹنے اور عزت کی خاطر طرح طرح کے روگ پالے رکھتے ہیں۔

ہمارے یہاں عجیب سی رسم ہے کہ ساتواں مہینہ لگنے کی دیر ہوتی ہے۔ تو ہر طرف ایک ہی سوال ہوتا ہے۔
بہو ابھی تک میکے کیوں نہیں گئی؟
میکے والوں نے کہا نہیں کب لینے آئیں گے؟

میرے تو سب بچے امی کی طرف ہوئے۔ خوب مزے کیے۔ ماں بہن نے خوب خدمت کی۔ بھلا سسرال میں اتنے ناز نخرے کون دیکھتا ہے۔ ہمارے ہاں رواج ہے۔ پہلا بچہ میکے ہوتا ہے۔ یہ ساتواں مہینہ لگ گیا ابھی تک یہیں ہے۔ پہلا بچہ میکے ہونا چاہیے اور اسپتال کا بل وغیرہ بھی بیٹی والوں کے ذمے ہی ہوتا ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ پھر سسرالی عزیز بچہ دیکھنے آتے ہیں اور خوب دعوتیں اڑاتے ہیں۔ ساتھ جتانا بھی نہیں بھولتے کہ ہمارے جگر کا ٹکڑا آپ کے پاس ہے۔ بہت خیال رکھیے گا۔

ماں باپ بیٹی کو رخصت کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بیٹی کی شادی کے بعد والدین رسم و رواج نبھاتے ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔

بچے بیٹیاں پیدا کرتی ہیں اور ماں باپ قرض تلے دب کے رہ جاتے ہیں۔ ابھی وہ بیٹی کے شادی کے اخراجات کا قرض اتار نہیں پاتے کہ اس کے بچے کی آمد کی نئے سرے سے پیسے جمع کرنے لگتے ہیں۔ کافی گھروں میں تو بات ایک بچے کی پیدائش تک نہیں رہتی۔ دوسرا تیسرا بچہ بھی میکے ہی ہوتا ہے۔ ہمارے ہمسائے ہیں۔ اتنے بے حس ہیں۔ اپنی بہو کو ہر بچے کی دفعہ میکے بھیج دیتے ہیں۔ جب بہو پریگننٹ ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی بات بنا کر گھر میں لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔

چار بچے انہی لڑائی جھگڑوں میں پیدا ہو گئے۔ آس پاس سب ہی کہتے ہیں۔ یہ لوگ جان بوجھ کر بہو کو ساتویں آٹھویں مہینے لڑ جھگڑ کر گھر نکال دیتے ہیں۔ تاکہ اسپتال کے اخراجات سے بچا جا سکے۔ حالاں کہ ان کے گھر کے حالات بھی اچھے ہیں۔ کسی طرح کی معاشی تنگی کا بھی مسئلہ نہیں۔ جس آدمی کے بچے ہیں وہ اچھا خاصا کماتا ہے۔ لیکن بچوں کی پیدائش کے وقت اس کی کمائی نظر نہیں آتی۔ جب بچہ ہو جاتا ہے۔ تو باپ، دادی پھپھیاں بھاگی بھاگی چلی جاتی ہیں۔ پھر بیٹی والے بھی شکر ادا کرتے ہیں۔ چلو ننھی جان کی آمد پر بیٹی کا گھر بس گیا۔

اگر ایک شادی شدہ جوڑا بچہ پیدا کرنے کے اخراجات نہیں اٹھا سکتا۔ تو پھر وہ بچے کیوں پیدا کرتے ہیں؟ بیوی کے گھر والوں پر بوجھ ڈالنے کی خاطر؟

لوگ اپنے بچوں کو دوسروں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑتے ہیں؟ پہلا بچہ تو اتنا عزیز اور جان سے پیارا ہوتا ہے۔ اس کی اتنے دن کی دوری کیسے برداشت کر لیتے ہیں۔ صرف اور صرف اسپتال کے بل سے بچنے کی خاطر؟ آخر ایک شادی شدہ جوڑے کو معاشی لحاظ سے اس قابل تو ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بچے کی پیدائش کے اخراجات خود اٹھا سکے۔ اور اگر وہ اس قابل ہے تو اس میں اتنا احساس تو ہونا چاہیے وہ اپنے بیوی بچے دوسروں کے لیے بوجھ نہ بنائے چاہے وہ اپنا سسرال ہی کیوں نہ ہو۔

Facebook Comments HS