ذات پات کے نظام کے معاشرے پر نفسیاتی اثرات
بھارت میں ذات پات پر مبنی نظام سے ہم سبھی واقف ہیں۔ یہ نظام ہندو سماج میں طبقاتی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ذات پات کا یہ رواج آریا اپنے ساتھ لے کر آئے، جو وقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں تشکیل پاتا رہا۔ یہ نظام نام نہاد اونچی ذاتوں ( برہمن، کھشتری اور ویش) کے ارکان کے حق کو مزید مضبوط کرتا ہے جب کہ نچلی ذاتوں ( شودر، دلت) کے ساتھ برے سلوک کو جائز قرار دیتے ہوئے ان کے لیے نیچ اور کم اہمیت کے حامل پیشوں کو مخصوص کرتا ہے۔
جدید دور میں بھی اس نظام کی تعریف کے مطابق ہندووں کو چار مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں سب سے اونچا درجہ برہمنوں کو دیا گیا ہے۔ تنزلی کے اعتبار سے کھشتری (جنگجو اور حکمران) دوسرے، ویش (کسان اور تجار) تیسرے جب کہ شودر (مزدور) چوتھے درجے پر ہیں۔ یہ تعریفیں ہندووں کی مقدس کتابوں خاص طور پر ’منوسمرتی‘ سے لی گئی ہیں۔ ”شودر“ جو سب سے نچلی ذات ہے اور ان کو اچھوت بھی کہا جاتا ہے ان کے ساتھ نہایت غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
آج کل ان کو ”دلت“ بھی کہا جاتا ہے اور یہ ایک اقلیت کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ان کی آبادی تقریباً بیس کروڑ ہے۔ یہ ایسی اقلیت کی نمائندگی کرتے ہیں جسے مختلف طریقوں سے دبایا جاتا ہے، ان کی سماجی ترقی کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں اور تعصب برتا جاتا ہے۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی جہاں اپنی ملکی تاریخ کو مسخ کرنے کے درپے ہے وہیں ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ہر روز ان نیچ ذات (دلت) کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ان کو معمولی پیشے دیے جاتے ہیں تاکہ یہ کبھی طاقتور بن کر نہ ابھر سکیں۔ دلتوں کو انسانی غلاظت ہاتھ سے صاف کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، قانونا پابندی کے باوجود بھی مختلف علاقوں میں یہ سلسلہ تاحال جاری ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کی موت واقع ہوئی۔ ہاتھوں کے ذریعہ غلاظتوں کی صفائی کے دوران انسانوں کے فضلہ کو نالوں، سیوریج یا سیپٹک ٹینکوں سے نکالا جاتا ہے۔ یہ کام اسی نچلے ہندو فرقے کے لوگوں سے ہی کروایا جاتا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جو لوگ غلاظت اٹھانے کا کام کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں اعلٰی ذات کے لوگوں کی طرف سے دھمکی اور زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مزید برآں ان نچلی ذات کے لوگوں کی کسی سیاسی جماعت میں نمائندگی نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کے بھی مسائل کی شنوائی نہیں ہوتی۔ ان کے ساتھ کھانا، شادیاں کرنا مذہبی طور پر غلط مانا جاتا ہے۔ اس اقلیت کو اعلی تعلیم کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، اس وجہ سے ان کو اعلی عہدوں تک رسائی نہیں ملتی۔ اگر کبھی کوئی ایسی جرات بھی کرے تو ہندو انتہا پسند اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ڈالتے ہیں۔
ہندو انتہا پسندوں کی درندگی سے تنگ یہ لوگ یا تو دیگر ممالک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں یا پھر اپنے بچاؤ کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اونا کے نواحی گاؤں سمادھیالہ میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق اور تشدد سے تنگ و مجبور تقریباً 300 ہندوؤں نے اپنے مذہب کو خیرباد کہہ دیا ہے اور اب وہ باقاعدہ طور پر بدھ مذہب میں داخل ہو گئے ہیں۔
2020 میں بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک دلت عورت کے ریپ اور قتل نے بھارتی معاشرے میں ذات پات کی تقسیم کی حدوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ خواتین کے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کے تحت اتر پردیش ’بھارت کی ریپ ریاست‘ بن چکی ہے۔
ہندو انتہا پسند تنظیمیں اس نچلی ذات کے لوگوں اور باقی اقلیتوں سے غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں، بھارت کی سرکاری پالیسیاں اور اقدامات مسلمانوں، عیسائیوں، بدھ متوں اور دلتوں کو بربریت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان اقلیتوں سے منظم طور پر امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے اور اس ظلم و ستم کا اختیار یہ ذات پات کا نظام ہی سونپتا ہے۔
اس ذات پات کے نظام نے بھارتی سماج کو ایک نفسیاتی بیمار معاشرتی بنا دیا ہے جہاں کسی کار آمد سوچ کے جنم لینے کے امکان دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک معاشرے کے پھلنے پھولنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔ وہ عورتیں جن کے ساتھ جنسی زیادتی اس لیے جائز قرار دے دی جاتی ہے کیونکہ وہ ایک نچلی ذات سے تعلق رکھتی ہیں وہ جس نفسیاتی ڈپریشن سے گزرتی ہیں وہ کیسی اولاد کو جنم دیں گی؟ وہ بچے جنہیں دلت ہونے کی بنا پر تعلیم کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے اور ان سے غلاظتیں صاف کروائی جاتی ہیں وہ بڑے ہو کر کیسے ایک مفید شہری بن سکتے ہیں؟
ان کی ذہنی نشوونما کو پنپنے سے پہلے ہی روک دیا جاتا ہے۔ وہ دلت وہ شودر جنہوں نے اچھوت کے لفظ کو اپنے ساتھ بڑے ہوتے دیکھا اور صرف لاشیں اٹھانے، سڑکیں صاف کرنے، نالیاں اور گٹر کھولنے، برہمنوں کے چاکری کرنے میں زندگی گزاری ہے وہ کیسے محب وطن ہو سکتے ہیں؟ ان سے بغاوت کا گلہ کیسے کیا جا سکتا ہے جب ان کو جائز اور بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہو؟ یہ تمام غیر انسانی کھیل حکومتی جماعت کی ناک تلے کھیلا جاتا ہے اور ہندو پسند تحریکیں اس کھیل کو اپنے انتہا پسندانہ عمل اور نعروں سے اور ہوا دے رہی ہیں۔
بھارتی سماج کو انتہا پسندی سے نکل کر انسانیت کی بنیادوں پر معاشرتی تشکیل دینے کی ضرورت ہے اور اس میں سب سے پہلا قدم اس ذات پات کے نظام کو مسترد کرنا ہے یا کم از کم اس پر مبنی نا جائز اور غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ کچھ ایسی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں جو اس مشکل سچائی کا سامنا کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ ان کوششوں میں 2019 میں ایوشمان کھرانا کی فلم ’آرٹیکل 15‘ شامل ہے جو بالی وڈ کی پہلی بلاک بسٹر فلم تھی جس نے ذات پات پر مبنی مظالم کو کھل کر للکارا ہے۔ جنوبی بھارت میں زیادہ تر لوگ خود کو ایک ہی نام سے پکار کر ذات پات کی نفی کر رہے ہیں۔ اس کا مقصد ذات پات کے اس نظام کو مسترد کرنا ہے جو خاندانی نام سے منسلک ہوتا ہے۔


