جھونک ڈالا جیون سارا آتش میں


یہ مضمون برطانیہ میں سکونت پذیر محمد سلیم کی کتاب ”زندگی، کرائے کی سائیکل“ کے متعلق ہے۔ ہم سب کے پاس ایک کرائے کی سائیکل ہے جس کا کرایہ عمر کی نقدی ہے۔ اس سائیکل والے دکاندار کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ نہ سائیکل دیتے ہوئے نہ لیتے ہوئے۔ سائیکل کب چھن جائے، کب واپس دینی پڑ جائے، کوئی اس سے بھی باخبر نہیں۔ ہر سائیکل چلانے والا خود کو طفل تسلیاں دیتے ہوئے سفر کے نام پر مقدر کو روئے جاتا ہے اور اس وقت تک سائیکل چلاتا رہتا ہے، جب تک ٹانگیں شل نہ ہو جائیں اور ہمت جواب نہ دے دے۔

زاد راہ ہر ایک کا اپنا ہوتا ہے۔

مگر ایک بات طے ہے، گرنا سب کو ہے اس سائیکل سے۔ اس سفر میں سب کو کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔ کوئی مقسوم سمجھ کر وہ کردار ادا کرتا ہے تو کوئی اپنے تئیں نئے راستے دریافت کرنے کے زعم میں مبتلا ہو کر ایک نیا راستہ چنتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ کچھ نیا دریافت کر رہا ہے۔ آخرکار جب وہ ہانپتا کانپتا، اس طویل راستے کے آخری سرے پر پہنچتا ہے، اور خود کو فاتح تصور کرتا سائیکل سے اترتا ہے تو یہ انکشاف اس کی جان لینے کے لیے کافی ہوتا ہے کہ وہ تو واپس وہیں کھڑا ہے جہاں سے چلا تھا۔

محمد سلیم صاحب بھی خود پر گزرنے والے دنوں، ہفتوں اور سالوں کو لفظوں کی ریزگاری سے جمع تفریق کرنے لگے۔ مشغلہ تو چاہیے، عمر کرنے کو ۔ سو اب الفاظ کی گودڑی سے لفظوں کے لعل نکال کر اسے کاتب کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔ تجربات زندگی سے گزرتے ہوئے، بعض اوقات ایک اک دو جملے ذہن میں جھماکے کی طرح آتے ہیں، ہمیں ہمارے اندرون تک رسائی دیتے ہیں اور ہماری زندگی کا فلسفہ بن جاتے ہیں۔ بس انہی مقامات و کیفیات سے گزرتے ہوئے سلیم صاحب نے جو کچھ رقم کیا وہ آپ کے سامنے ہے۔

اس کتاب میں جا بجا آپ کو خوبصورت خیال اور سوچیں ملیں گی۔ مثلاً۔ ”دنیا کا پہلا تاج تنکوں اور تخت پتھر سے بنا ہو گا۔ اور آج کا تاج و تخت سونے، ہیرے جواہرات اور بیش بہا قیمتی قالین سے مگر ان دونوں کی خوراک نہیں بدلی۔ یعنی انسانی خون۔“

ڈینیل فو نے اٹھارہویں صدی کے آغاز میں رابنسن کروزو نامی ناول لکھا تو انگلستان میں لوگ حیران ہو گئے کہ کیا عام آدمی کی زندگی بھی اتنی اہم ہو سکتی ہے کہ اس پر ناول لکھا جائے۔ اس سے قبل بادشاہ، جنرل، جنگجو، ہیرو، شہزادے ہی کسی ناول یا ڈرامے کی مرکزی کردار ہوتے تھے۔ بڑے آدمیوں کے ان قصوں، کہانیوں اور داستانوں میں عام آدمی اہم اور ذہین نہیں دکھائی دیتا۔ اسے پیادہ، ملازم، غیر اہم شہری یا چھوٹا موٹا کاروباری دکھایا جاتا تھا۔ عام آدمی کے ”ہیرو“ بننے کے بعد ، ایک طرف تو اشرافیہ کا غم و غصہ عروج پر تھا تو دوسری جانب عام افراد کو یقین نہیں آیا تھا کہ ان کی زندگی کے شب و روز، ان کے ساتھ ہونے والے واقعات، حادثات یا سانحات بھی کسی طرح اہم ہو سکتے ہیں یا لوگ انہیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ ناول دراصل عوام کے لیے ایک پیغام ثابت ہوا کہ ان کی زندگی بھی ”Full of Events“ ہے جس کی انفرادی کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی اہمیت بھی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے تخلیق شدہ ادب نے عام آدمی کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ اپنے جذبات و احساسات کو خود زبان دے کہ اس کی خوشیاں، اس کے غم اور اس پر گزرنے والے حالات اور واقعات اہم ہیں کہ وہ انسان بیتی ہے۔ اور یہ کہ ان کی زندگی خود ان کے لیے اور ان کے پیاروں کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ کسی نواب، شہزادے یا بادشاہ کی ہے۔ سو، انہوں نے اپنی ذات کے حوالے سے لکھنا شروع کیا ایسا جیسا انہوں نے دیکھا، سہا اور جیا۔ جیسا کہ محمد سلیم نے کہا کہ:

بیٹھے بیٹھے جھونک ڈالا
جیون سارا آتش میں

جنہیں زندگی افسانے لکھنے کی مہلت نہیں عطا کرتی وہ دل میں کہانیوں کا بار اٹھائے پھرتے ہیں۔ جو ناول نہیں لکھ سکتے، وہ ناول نگار ہوتے ہیں۔ اور جو شاعر ہوتے ہیں ان میں سے بہت سوں کو شاعری کرنے سے زیادہ کئی ضروری کام کرنے ہوتے ہیں۔ مگر ایسے بہت ساروں کی زندگی میں کسی شخص کو وہ ایک لمحہ ایسا میسر آتا ہے جب وہ دل کے درد کو زبان دینے کی ٹھان لیتا ہے۔ کچھ ایسی ہی فضا اس کتاب کی تحریروں نے تخلیق کی ہے۔ نظم ”آخر وہ کتنا انتظار کرتی؟“ پوسٹ ماڈرن آدمی کا المیہ ہے۔ محبت کو سمجھ کر بھی نہ سمجھنے والے لوگوں کا کرب ہے۔ عمر کے آخری حصے کا دکھ ہے۔ زندگی کے تجربات کا کفارہ ڈھونڈنے والوں کی الجھن ہے۔

میرے ساتھ گزارے دن
جو تو نے اتار پھینکے ہیں
میں اب وہ روزانہ چن چن کر پہنتا ہوں
یا یہ کہ:
میں اب تمہاری محبت کا
عزادار ہوں جو میرے
سینے میں مانند کربلا ہے

نظم ”فطرت“ نے فرانسیسی ادیب اور فلسفی روسو کی یاد دلا دی جو انقلاب فرانس کا نقیب کہلاتا ہے اور جس نے انسان کے بے حساب مسائل کا حل فطرت کی قربت میں تلاش کیا تھا۔ محمد سلیم کا بھی ماننا ہے کہ ”فطرت ماتا“ میں فلاح ہے۔ ”پرندوں کی آواز میں نغمے سنیں۔ وہی اصل گیت گاتے ہیں۔“

زندگی خود تضادات کا مجموعہ ہے۔ شاید اس لیے آغا جان کے لیے جو دو نظمیں کہی گئی ہیں دونوں کا الگ تاثر ہے۔ دونوں میں بالکل مختلف بات کہی گئی ہے۔ مجموعی طور پر محمد سلیم کی یہ کتاب اس بوڑھے ہوتے شخص کی داستان ہے جو ایک دن اچانک خواب سے باہر آ گیا اور اسے ناسٹلجیا نامی بھوت چمٹ گیا۔ وہ پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہے تو امیگریشن کے انتظار میں اسے ایک جوش سے بھرا لڑکا دکھائی دیتا ہے، جس کی آنکھوں میں سات سمندر پار کے خواب جھلملا رہے ہیں۔ اور ایک ایک لمحہ اسے اپنے پیاروں کے ساتھ گزارنا مشکل ہے۔ مگر پھر وہی لڑکا، ایک زمانے کے گزر جانے کے بعد سوچتا ہے۔

ایک دن جو نکلا تھا
دراصل اندھیرا تھا
اب جو دن نکلتے ہیں
دراصل اندھیرے ہیں

اور بنام ”ہجرت“ نظم لکھتا ہے۔ نظم ”ہجرت“ ہر اس فرد کا المیہ ہے جو بے چینی سے ”انگریزی بولنے والے ملک کی امیگریشن“ لینے کا منتظر ہوتا ہے۔ اپنے خوابوں اور تصورات میں ایک ایسی دنیا بسائے پھرتا ہے جو زمین پر موجود ہی نہیں ہوتی۔ اسے معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا چھوڑ کر جا رہا ہے۔ بن مانگے ملنے والی دھوپ چھاؤں، محلہ پڑوسی، رشتے ناتے، ہنسی ٹھٹھول اور ہر عمر کے بے شمار ہنستے بولتے کردار۔ اک عمر پردیس میں گزار کر جب وہ اس گھونسلے میں واپس آ کر منہ سر لپیٹ کر مامتا کی آغوش میں چند گھڑیاں بتانا چاہتا ہے تو نہ وہ گھونسلا ہوتا ہے نہ ممتا، نہ وہ آغوش نہ چین!

سب کچھ بدل چکا ہوتا ہے۔ پرواز کی مہلت ہے ہی کتنی!
میں ایک راہ بھولا پرندہ ہوں
میرے گھر کا آخری بوڑھا شجر بھی ڈھے چکا
اور وہ تھک ہار کر سوچتا ہے :
”گھر اور محفلیں جدا ہو جائیں تو امیر ترین آدمی بھی غریب ہو جاتا ہے۔“
اور پھر یہ کہ:
”یار میرا تو گھر ہی نہیں رہا“

کیا ہی اچھی نظم ہے ”یاد آیا“ ۔ بار بار مجھے اپنا آپ یاد آیا۔ انسان بھی اک عجیب کائنات بسائے پھرتا ہے اپنے اندر۔ خوشی چھوڑ کر خوشی کی تلاش میں اندھادھند بھاگتا ہے۔ رشتے چھوڑ کر رشتوں کی تلاش میں گام گام بھٹکتا ہے۔ گھر چھوڑ کر ، گھر بنانے کی فکر میں غلطاں رہتا ہے۔ یہاں تک کہ قوی ٰمضمحل ہو جاتے ہیں۔ یاد ماضی اس کے ذہن کے گوشے گوشے میں قیام پذیر رہتی ہے۔ اور وہ آنکھوں میں نمی لیے کہتا ہے :

وہ دوستوں کی محفل
وہ کچھ خالی چائے کے کپ
کچھ بجھے سگریٹ اور ایک اکلوتی ماچس
وہ کرائے کی سائیکل
مجھے لا دے کوئی
دوسری نظم میں بھی یہی کیفیت ہے کہ:
ایک درد ہے جو شراب کی صورت
چپ چاپ پیتا ہوں
کچھ یادیں ہیں جو گھونٹ کی صورت
گلاس میں بچی ہیں
دو سطریں اور ملاحظہ فرمائیں کہ:
ہم سے پوچھو عذاب رستہ
ہمارا ہمسفر سفر میں بچھڑا

کتاب ختم ہو گئی ہے اور آج کی ڈوبتی شام مزید اداس ہو گئی۔ محمد سلیم کی اس کتاب میں رومانس، اداسی اور یاروں کے قافلے سے بچھڑے لوگوں جیسی نثری نظمیں ہیں۔ کچھ انشائیے ہیں، آنسو ہیں، محبت ہے، تنہائی ہے، احساس زیاں ہے اور بھی بہت کچھ۔ نقاد جانے اور اس کا کام جانے کہ یہ کتاب فن کے کس معیار پر پوری اترتی ہے مگر ایک بات طے ہے کہ کتاب پڑھتے ہوئے کہیں کہیں آپ کو بھی ایسا لگے گا کہ۔

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے (غالب)

یہ نظم ”ٹائم مشین“ پڑھیے، جسے عمر کا حاصل یا متاع کل کہہ سکتے ہیں۔ اب یہ آپ پر ہے کہ ہنس کے ٹال دیں یا رو کر بھول جائیں۔

کاش کہ یادوں کو واپس بلایا جا سکتا
انہیں اپنے سامنے بٹھایا جا سکتا
پھر سینے سے بھی انہیں لگایا جا سکتا
ماں باپ کے قدموں میں خود کو بٹھایا جا سکتا
بچھڑے بہن بھائیوں کو ملایا جاسکتا
کاش کہ یادوں کو واپس بلایا جاسکتا
اسکول میں پھر سے خود کو داخل کرایا جاسکتا
اور بچپن کی بارش کو ایک بار پھر سے برسایا جا سکتا
پھر اس پانی میں کاغذ کی کشتی کو بہایا جا سکتا
کالج کی دھوپ ہو کے شام پھر سے انہیں بچھایا جا سکتا
شادی نہ کی اگر مجھ سے مر بھی سکتا ہوں
ایسا کسی کو کہہ کر ڈرایا جاسکتا
کاش کے یادوں کو واپس بلایا جاسکتا
آخری دن اپنا نتیجہ جاننے کے بعد
یو نیورسٹی میں پھر الوداعی گیت گایا جاسکتا
وہ چائے کا ڈھابا پھر سے سجایا جا سکتا
بسکٹ پھر چائے میں ڈبویا جا سکتا
کھاتے میں پھر اس کے اپنا ادھار لکھایا جا سکتا
ہوٹل میں دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا جاسکتا
بیرے دوست سے تھوڑا سالن مفت منگوایا جا سکتا
کھانے کے پیسے دینے کے لئے چندہ پھر سے کرایا جا سکتا
کاش کہ یادوں کو واپس بلایا جا سکتا
ماچس کی ڈبیا کی تال پر دوستوں کے لئے گانا گایا جاسکتا
اور پھر آخری سگریٹ کے حصول کی خاطر بہت سے دوستوں کو نچایا جا سکتا
اور پہلی نوکری کی پہلی تنخواہ پا کر
ایک بار پھر سے باپ کے کہنے پر
اسے ماں کی ہتھیلی پر ر کھا یا جاسکتا
اور جب بھی یادیں واپسی کا ذکر چھیڑتیں
میں کیسے جی پاؤں گا ان سب کے بغیر
کاش کے انھیں یہ سمجھایا جا سکتا
کاش کے یادوں کو واپس بلایا جاسکتا
(محمد سلیم)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments