جنسی تشدد کیا ہے؟
یہ دن تمام انسانی حقوق کی عالمگیریت کے اصول کی توثیق کرتا ہے، جو تنازعات والے علاقوں اور مقبوضہ علاقوں میں یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگوں کی کمزوریاں ان کے مخصوص حالات کی وجہ سے کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں، بین الاقوامی برادری کو اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کرنا، جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت تصور کیا گیا ہے۔ یہ تاریخ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 19 جون، 2015 کو A/RES/ 69 / 293 کے ذریعے تنازعات میں جنسی تشدد سے متعلق جرائم اور ان کے روک تھام کے لئے بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ متاثرین، جنسی تشدد سے زندہ بچ جانے والوں کے تقدس کو پامال نہ ہونے دینے کے لیے قائم کی گئی تھی۔
اور وہ لوگ جو ان کے روک تھام کی سعی کر رہے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اس دن کو عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ 19 جون کی تاریخ کا انتخاب سلامتی کونسل کی قرارداد 1820 کی منظوری کی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔ جنسی تشدد کو جنگ کی ایک تباہ کن ہتھیار اور جنگی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
جنسی تشدد ایک عالمی دنیا میں سنگین صحت عامہ کا مسئلہ ہے جو کہ جسمانی اور ذہنی صحت پر گہرے، مختصر یا طویل مدتی اثرات مرتب کرتا ہے اور جنسی اور تولیدی صحت کے مسائل کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کی وجوہات کو اقوام متحدہ نے ایک اصطلاح کے طور پر بیان کیا ہے کہ جس سے مراد ”عصمت دری، جنسی غلامی، جبری جسم فروشی، جبری حمل، جبری اسقاط حمل، جبری نس بندی، جبری شادی، خودکشی یا ایچ آئی وی انفیکشن کا بڑھتا ہوا خطرہ، جنسی حملے کے دوران یا جنسی حملے کے جواب میں غیرت کے نام پر قتل کے نتیجے میں ہونے والا قتل بھی جنسی تشدد کا ایک عنصر ہے۔
جنسی تشدد کے واقعات کو روکنے کے لیے اعلیٰ سطح کی انسانی سفارت کاری، بنیادی وجوہات کو حل کرنا اور اسلحہ برداروں کے ساتھ بات چیت کو برقرار رکھنا ہے۔ ان وجوہات کے فائدوں کو حاصل کرنا اور اس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا کہ متاثرین/لواحقین کو تمام ضروری اقدامات تک رسائی حاصل ہو، اور جب بھی ممکن ہو متاثرین/لواحقین کو معیاری امداد اور تحفظ فراہم کیا جائے۔
اگرچہ خواتین اور لڑکیوں کو ان پہلوؤں سے غیر متناسب طور پر زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لیکن اس میں بچے، مرد اور خاص کر تیسری جنس کے افراد کو بھی کثرت سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جنسی تشدد کسی بھی عمر میں کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تشدد کا ایک ایسا عمل ہے جس کا ارتکاب والدین، دیکھ بھال کرنے والے، جاننے والے اور اجنبیوں کے ساتھ ساتھ مباشرت کے شراکت دار بھی کر سکتے ہیں۔ یہ ایک جارحانہ فعل ہے جس کا مقصد اکثر شکار پر طاقت اور تسلط کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔
عام طور پر، یہ ایک وسیع پیمانے پر کم رپورٹ شدہ حساس مسئلہ ہے، اس سے دستیاب ڈیٹا مسئلے کے حقیقی پیمانے کو چھپاتا ہے۔ جس کی وجہ سے جنسی تشدد تحقیق کا ایک نظرانداز شدہ شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے خلاف ایک مربوط تحریک کو فروغ دینے کے لیے اس مسئلے کی گہرائی سے ادراک ضروری ہے۔ گھریلو جنسی تشدد کو دوسرے جنسی تشدد سے زیادہ بڑھاوا نہیں دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اکثر، وہ لوگ جو اپنے شریک حیات کو جنسی عمل پر مجبور کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ ”ان کا یہ عمل جائز ہے کیونکہ وہ شادی شدہ ہیں اور شریک حیات میں یہ سب چلتا ہے۔“
اسی ایک جملے کی وجہ سے عورتیں اس ناگفتہ بہ فعل میں اپنے کیے کے جرم میں تادم مرگ جنسی زیادتی کا شکار رہتی ہیں۔ عورتوں اور مردوں کی عصمت دری کو اکثر جنگی طریقہ کار (جنگی عصمت دری) کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے، دشمن پر حملے کی ایک شکل کے طور پر ، (اس کی عورتوں یا مردوں ) یا پکڑے گئے مرد یا خواتین جنگجوؤں کی فتح اور تنزلی کو ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون، رواجی قانون (customary law) ، بین الاقوامی انسانی قانون (international humanitarian law) اور اس کے نفاذ کا طریقہ کار اب بھی دنیا بھر کے بہت سے کونوں میں نازک یا غیر موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق عصمت دری اور جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں 91 % خواتین اور 9 % مرد ہیں۔ تقریباً اس میں 99 فیصد مجرم مرد ہیں۔
جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کی ایک رپورٹ میں جنسی تشدد کے واقعات کی تصدیق کچھ یوں ہے کہ بنگلہ دیش کی ایک تہائی خواتین اپنے کام کی جگہ میں اپنے ساتھ ہونے والا ایک واقعہ رپورٹ کرتی ہیں۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں دہلی میں ایک سروے کیا گیا کہ انڈیا میں عوامی مقامات پر لڑکیاں اور خواتین ہراسمنٹ اور جنسی تشدد کا شکار نظر آتی ہیں، جس میں سے صرف بس اڈوں میں 90 ٪ خواتین 2018 کی رپورٹ میں اس کا شکار نظر آئی ہیں۔ اسی طرح نیپال میں 98 ٪ جنسی ہراسانی اور 71 ٪ جنسی تشدد کا شکار رہی ہیں۔ 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 90 % خواتین نے کم از کم ایک ہی قسم کے گھریلو تشدد کا تجربہ کیا ہے، 17 % کو جنسی تشدد اور 52 % نے جسمانی تشدد کا سامنا کیا ہے۔
پاکستان کے عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر جنسی ہراسانی سے نمٹنے کے لئے مجرمانہ سزائیں نفاذ کی گئیں ہیں۔ تاہم، ان قوانین کو نافذ کرنے میں اب بھی اہم رکاوٹوں کا سامنا ہے، جن میں زیادہ تر خواتین میں بیداری کی کمی بھی شامل ہے۔
ڈیلی ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چار سالوں کے دوران پاکستان بھر میں 14،456 خواتین کی ملک بھر میں جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ پنجاب میں اس سلسلے میں سب سے زیادہ تعداد کی اطلاع موصول ہوئی ہیں۔ 16,153 مقدمات درج کیے گئے ہیں جو خواتین کی طرف سے اپنے کام کی جگہ پر ہراساں کیے جانے کے خلاف درج کرائے گئے ہیں۔ پچھلے سال کی نئی قانون سازی کے بعد ، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے زیادہ تر کارکنوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا، لیکن ساتھ میں جنسی تشدد کے شکار افراد کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے بہتر پالیسی میکنگ اور پراسیکیوشن کی ضرورت پر زور بھی دیا گیا۔
اسی طرح بلوچستان بھر سے جنسی تشدد، جنسی ہراسانی، عصمت دری اور غیرت کے نام پر قتل کے کیسز میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میں ڈان نیوز کی ایک رپورٹ اور کچھ آرٹیکلز کے علاوہ بلوچستان سے اب تک کی جنسی تشدد کی فیکٹس اور فیگرز سے اس بات کو تصدیق کر نہیں پائی کہ بلوچستان میں اب تک جنسی تشدد کی کیا صورت حال ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق 2020 میں 47 کیسز خواتین کے درج ہوئے ہیں جس میں 16 خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اور سات خواتین کو عصمت دری کے ساتھ ساتھ ان کا بے دردی سے قتل بھی ہوا ہے۔
اور 10 کیسز غیرت کے نام پر قتل کے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ڈان کی یہ رپورٹ 2021 کو شائع ہوئی تھی۔ 2021 سے 2022 تک کی مجھے کوئی ایسی رپورٹ نہ مل سکی جو باقاعدہ کسی رجسٹرڈ ادارے یا بالخصوص گورنمنٹ کے اپنے ادارے کے پاس جا کے درج کروائی گئی ہو۔ حالانکہ ڈائریکٹ کچھ کیسز تک رسائی حاصل کرنے میں ہم خود بھی کامیاب ہو پائے جو ہمارے لیے خوش آئند بات ہے۔
ہمارے بلوچ معاشرے میں اس بات پر بات کرنا اور آواز اٹھانا ایک بہت بڑی مصیبت بن کر سامنے آتی ہے۔ ایک عورت خواہ ایک مرد یا تیسری جنس سے تعلق رکھنے والا انسان اگر کبھی جنسی تشدد کا شکار ہو جاتا ہے تو اپنے رواجی قوانین کی وجہ سے اپنے معاشرے میں اس بات کو کہہ نہیں پاتا، پدر شاہی نظام اس کی مضبوطی کو اور مزید بڑھاوا دیتا ہے اور بلوچ سماج تو اس بات کو ماننے کو بھی تیار نہیں کہ ہاں میرے چاگرد (معاشرے) کے اندر اس قسم کی برائیاں پائی جاتی ہیں۔
جو سماجی غلطیاں ہم پدر شاہی نظام کے اندر ہزاروں سالوں سے کرتے آرہے ہیں ان کو ترک کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ گھریلو تشدد میں بلوچستان سے شازو نادر کوئی واقعہ رپورٹ ہوتا ہے۔ ایک دوست کے کہنے کے مطابق وہ ماسٹرز کے ریسرچ ورک میں گھریلو تشدد سے متعلق بلوچستان سے ہی اپنے تھیسس کے لیے مواد اکٹھا کرنا چاہ رہی تھی، اول تو اس کو اس سلسلے میں حکومتی نظام کے تحت کچھ نہیں ملا اور سطحی لحاظ سے بھی ایک دو آرگنائزیشنز کی رپورٹ کے علاوہ کوئی خاطر خواہ رپورٹ نہ ملی، جس کی وجہ سے اس نے مجبوراً ملکی سطح پر اپنا ریسرچ شروع کر دیا۔
اور یہاں دلچسپ بات یہ آتی ہے کہ ٹیچر صاحب نے بھی اس بات کو قبول نہیں کیا کہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ یا کے میاں بیوی کے درمیان گھریلو سطح پر کسی بھی قسم کا کوئی جھگڑا تشدد کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا یہاں پورے پاکستان میں اس پر شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو واضح کرنے ضرورت ہے کہ ”تشدد کیا ہے؟“ اسی طرح بلوچستان بھر میں اس سلسلے میں کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ جنسی تشدد کے بارے میں صوبائی سطح پر اس پر بات چیت ہو سکے اور اس پر قانون سازی کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
تاکہ آگے چل کر تشدد کے مسئلے کو اٹھایا جائے۔ رپورٹس تشکیل دینے کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عورتوں اور تیسری جنس سے تعلق رکھنے والوں کے حقوق کی پامالی ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس پر ہم کہنے کو مجبور ہیں کہ جنسی تشدد چاہے جس بھی شکل میں ہو اس پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے خواہ وہ بلوچستان ہو یا کوئی بھی دوسرا صوبہ، کیونکہ یہ عالمی سطح پر ایک سنگین مسئلہ ہے۔


