فری سٹائل پولو: ڈپٹی کمشنر اور پولو ایسوسی ایشن چترال کے نام خط


چترال ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے ساتھ شاہانہ مزاج رکھنے والوں کا شہر بھی ہے۔ ان کے شاہانہ مزاج کا اندازہ ان کے فری سٹائل پولو سے والہانہ محبت سے لگایا جا سکتا ہے۔ مہنگائی نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا لیکن گھوڑا پالنے کے شوق اور پولو کھیلنے میں کمی نہیں ہوئی۔ بلکہ پچھلے اس دہائی میں اس شوق میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ شوق اپنی جگہ لیکن اس سے جڑے مسائل اور زمینی حقائق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

کل مجھے پتہ چلا کہ حالیہ پولو ٹورنامنٹ کے منتظمین جنہوں نے اپنے قیمتی وقت سے وقت نکال کر اس ٹورنامنٹ کو کامیاب بنایا تھا، ان کو محض پانچ ہزار روپے دیے گئے۔ یہ رقم آج کل ایک مزدور کی بھی مزدوری سے بھی قلیل رقم ہے۔ اسی طرح پولو کے کھلاڑیوں کو جو ہارس الاونس ملتا ہے وہ بھی انتہائی کم ہوتا ہے۔ پورا سال گھوڑا پالنا، اس کی دیکھ بھال کرنا اور اس کے لئے خوراک کا بندوبست کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا ہے۔ ان سب مشکلات کے باوجود ان حضرات کا گھوڑا پالنا اور اس روایت، ثقافت اور کھیل کو زندہ رکھنا ایک کارنامہ ہے۔

ان سب مشکلات کے حل کے لئے ہر وقت حکومت کی طرف دیکھنا بھی انصاف نہیں۔ جہاں کھلاڑیوں کے لئے مشکلات ہوتی ہیں وہیں حکومت کی بھی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ شوق ایک ایسی چیز ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ شوق کو پورا کرنے کے لئے حکومت کی عدم دلچسپی کے لئے بھی کئی دلیل دیے جا سکتے ہیں۔ ان مسائل پر سب بات کرتے ہیں۔ ہر کوئی سہولیات کی عدم دستیابی اور الاونس کی کمی کا رونا روتا ہوا نظر آتا ہے لیکن ان مسائل کے حل کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کے بارے میں کوئی بھی سنجیدہ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ان چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چند تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں :

1۔ چترال پولو گراؤنڈ ایک تاریخی پلے گراؤنڈ ہے۔ اس کو ایک تاریخی ورثہ قرار دے کر اس کو پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کی بنیاد پر چلایا جائے۔

2۔ عام اوقات میں بھی اس میں ہر کسی کے داخلے کی اجازت کو ممنوع قرار دے کر لوکل فٹبال اور کرکٹ میچز اور ٹورنامنٹس پر پابندی لگائی جائے۔

3۔ پورے پولو گراؤنڈ کی فینسنگ کرائی جائے۔ اس سلسلے میں شہزادہ سراج الملک صاحب اور ایس آر ایس پی کے سی ای او جناب شہزادہ سراج الملک صاحب کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں کیونکہ ان کو حکومتی اور نجی سطح پر اس طرح کے ترقیاتی کام کرانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

4۔ فی الحال پولو سے شغف رکھنے والے لوگ اور کھلاڑی مل کر رضاکارانہ طور پر اس میں پتھروں کو نکال کر اس میں گھاس لگائیں اور باری باری سب کی ڈیوٹی لگا کر پانی دینے کا بندوبست کیا جائے۔ دو سال تک کسی قسم کے پولو میچ پر پابندی لگائی جائے تاکہ اس میں گھاس آگ سکے۔ اس دوران ٹورنامنٹ کے لئے سکاوٹس کے گراؤنڈ کو استعمال کیا جائے۔

5۔ شاہی چبوترہ اور دیگر تاریخی ورثوں کو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں تعمیر کیا جائے۔ اس سلسلے میں ماہرین تعمیرات کی خدمات بھی حاصل کی جائیں تاکہ ان کو تاریخی اور اصلی حالت میں بحال کیا جائے۔

6۔ لوگوں کی ریفریشمنٹ کے لئے فوڈ کارنر یا ٹک شاپ تعمیر کر کے اس کو ٹھیکے پر کسی اچھی فرم کو دیا جائے۔

7۔ گھوڑوں کے لئے جدید طرز کے اصطبل تعمیر کرائے جائیں اور لوکل جوانوں میں ہارس رائڈنگ کو بطور ذریعہ معاش متعارف کرایا جائے۔

اگر ان چیزوں پر عمل کیا جاتا ہے تو ان سے درجہ ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔

1۔ فینسنگ کے ذریعے غیر متعلقہ افراد کا اندر آنا اور اس جگے کو محض لفنگے لڑکوں کی آماجگاہ بننے اور چرس پینے کے لئے استعمال کرنے پر قابو پایا جا سکے گا۔ البتہ فینسنگ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس فینسنگ کا وہ حال نہ ہو جو اسی جنالی میں موجود کنویں اور حالیہ تعمیر شدہ لیکن خستہ حال باؤنڈری وال کا ہوا ہے۔

2۔ اس کو ایک تاریخی ورثہ قرار دینے سے سیاح اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ان سے ٹکٹ لے کر پولو گراؤنڈ کے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔ اس سلسلے میں چترال میوزیم کے عملے کو بھی آن بورڈ لے کر اس عمل مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

3۔ ٹورنامنٹ کے دوران بھی ہر ایک کو 10 روپے کا ٹکٹ دے کر اندر جانے کی اجازت دی جائے۔ اسٹیج/چبوترہ میں بیٹھنے والوں سے بھی سیٹ کے حساب سے چارج کیا جائے۔ یہاں تک کہ کسی بھی افسر کو بھی اس سے مستثنی قرار نہ دیا جائے۔ ان کے دفاتر سے یہ پیسے وصول کیے جائیں چاہے ان کا تعلق ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سے ہو یا پھر فورسز سے۔ اس آمدنی کو پولو کے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کیا جائے۔ یہ دس روپے ایک فرد پر اتنا بوجھ نہیں ہو گا جبکہ اس آمدنی سے پولو کے فروغ میں بہت بڑی مدد ملے گی۔ یہ کوئی انہونا کام نہیں ہے۔ ملک بھر میں تاریخی مقامات، پارک، وغیرہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

4۔ دو سال بعد بھی اگر کسی کو فٹبال یا کرکٹ ٹورنامنٹ کی اجازت دی جائے تو اس کو این او سی دیتے وقت پارٹنرشپ کی جائے اور اس آمدنی کو پولو ایسوسی ایشن کے فنڈز میں جمع کرایا جائے۔ لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس فنڈ میں کوئی ہیر پھیر نہ کی جائے۔

5۔ اصطبل بنانے اور ہارس رائڈنگ کی سہولت سے سیاحوں کے ساتھ ساتھ عوام اس طرف آئیں گے۔ اس میں لوکل گھڑ سواروں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے گھوڑوں کو لا کر شوقین حضرات کو ہارس رائڈنگ اور پولو کھیلنا سکھائیں۔ ان کو ان کا معاوضہ ملے گا اور لوگوں کا شوق پورا ہو گا۔ اس سے ان کو الاونس کے لئے منت سماجت یا پھر گلہ شکوہ کرنا نہیں پڑے گا۔ اس کے لئے ضلعی انتظامیہ این جی اوز کے ساتھ مل کر باقاعدہ ایک منظم پلان تیار کر کے دے۔

6۔ دو سال بعد جب گھاس اگے گا اور فوڈ سٹریٹ اور ٹک شاپ ڈیویلپ ہوں گے تو لوگ اس طرف آئیں گے۔ سیاح اس کا رخ کریں گے۔ اتوار کے دن کو صرف فیملیوں کے لئے مختص کیا جائے۔ اس کے لئے باقاعدہ عملہ موجود ہو جو اس کے انتظام کا ذمہ دار ہو۔

7۔ اس سے جو آمدنی حاصل ہو گا وہ پولو کی ترقی کے لئے خرچ کیا جا سکے گا۔ اس آمدنی کو مناسب طریقے سے خرچ کر کے ان تمام مسائل پر قابو پایا جا سکے گا جو اس کھیل کے فروغ میں حائل ہیں۔

اس کے بعد نہ کسی ادارے کی طرف دیکھنے کی ضرورت ہوگی نہ ہی حکومت سے التجا کرنے کی۔ اس سے نہ صرف مقامی کھلاڑیوں کو فوائد حاصل ہوں گے بلکہ چترال پولو ایسوسی ایشن ملکی سطح پر بھی اس کھیل کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہو گا۔ چترال میں فری سٹائل پولو لیگ منعقد کرا کے ملکی سطح پر اس کی پذیرائی کی جا سکے گی۔ شندور جیسے ایونٹ کو بھی خود سے کرانے کا نہ صرف اہل ہو گا بلکہ شندور پولو فیسٹیول، جو کہ فری سٹائل پولو کا ورلڈ کپ سمجھا جاتا ہے، میں کھلاڑیوں کی اس سطح پر حوصلہ افزائی کرنے کا اہل ہو گا جس کی کھلاڑی توقع کر رہے ہیں۔

سال میں ایک دفعہ چترال آ کر میچ کھیلنے کے بعد الاونس لینے کے لئے انتظار کرنا کسی طور بھی دانش مندی نہیں۔ ان میں سے چند خوش قسمت (جن پر اللہ کے بعد کمیٹی مہربان ہوتی ہے) کھلاڑی شندور جاتے ہیں اور بمشکل ایک لاکھ تک الاونس ملتا ہے جو کہ ایک گھوڑے کے تین مہینوں کا بھی خرچہ نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے یہ وقت کی ضرورت ہے کہ اس سلسلے میں کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جس کے ذریعے یہ کھلاڑی محض parasites کی بجائے اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں اور اس کو محض شوق سے ایک قدم آگے لے جا کر ذریعہ معاش اور ضلع کی آمدنی کا ذریعہ بنا سکیں۔ اس میں ڈپٹی کمشنر صاحب کی ذاتی دلچسپی اس لئے بھی اہم ہو گا کیونکہ اس سے ڈپٹی کمشنر صاحب کا ایک فرض منصبی بھی پورا ہو گا جو کہ ضلع کے لئے revenue اکٹھا کرنا ہے جو کہ چترال میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس سلسلے میں ضروری ہے کہ یہ چند لوگوں پر مشتمل ایک گروپ نہ ہو بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اس میں شامل کیا جائے کیونکہ ثقافت سب کی مشترکہ چیز ہے۔ اس میں ضلعی انتظامیہ، فورسز، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، میڈیا، سوشل ایکٹیوسٹس، وکلا، علما اور اساتذہ کو شامل کر کے ایک جامع اور متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ اس پر سب کا ”اجماع“ ہو اور بعد میں کوئی اعتراض یا اختلاف نہ کر سکے۔

 

Facebook Comments HS