قوموں کی ترقی کے رہنما اصول


کسی بھی فرد، ادارے یا ملک کی ترقی کے کچھ رہنما اصول ہوتے ہیں۔ یہ چند اصول اگر کسی بھی قوم میں ہوں تو اس ملک کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کے ملک میں جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام ہو تب ہی آپ ترقی کریں گے۔ آپ کے ملک میں قدرتی وسائل ہوں تب ہی آپ ترقی کریں گے۔ جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا میں تو قدرتی ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ وینزویلا تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور وینزویلا پھر بھی ایک غریب ملک ہے۔

اگر ترقی یافتہ اقوام کی بات کی جائے تو ایک طرف یورپ کی جمہوریت ہے اور دوسری طرف چین، کیوبا اور روس ہیں جہاں نیم سوشلزم کا نظام رائج ہے جبکہ تیسری طرف عرب ممالک میں خاندانی بادشاہت کا تسلسل دکھائی دیتا ہے۔ اور ترقی کا انحصار نہ اس بات پر ہے کہ آپ گورے ہیں یا کالے۔ کوئی بھی نظام اپنے آپ میں مکمل نہیں ہوتا مگر یہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نظام کو درست سمت پر گامزن کرتے ہیں۔

ان اصولوں میں سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اس ملک میں آئین اور قانون کی کتنی حکمرانی ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ حکمران سے لے کر عوام تک کوئی کتنا قانون کو فالو کرتا ہے۔ اس بارے میں اگر مثال دی جائے دبئی کی تو جن دنوں میں کرونا وائرس کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن لگا تھا تب تمام مصروف ترین شاہراؤں پر مکمل طور پر پن ڈراپ سائلنس تھا حد تو یہ تھی کہ پولیس کی کار بھی نظر نہیں آتی تھی۔ قانون کی حکمرانی کی بات کی جائے تو اسی طرح امریکہ میں صدر کلنٹن کو بھی عدالت میں پیش ہو کر عوام سے معافی مانگنا پڑی تھی تب کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ صدر کو استثنا حاصل ہے یا جمہوریت کو خطرہ ہے۔

وہاں کوئی بھی حکمران آئین کو نہ تو کاغذ کا ٹکرا کہتا ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے۔ جہاں جہاں نظریہ ضرورت لاگو ہو گا وہاں وہاں ترقی کا عمل کمزور ہوتا دکھائی دے گا۔ چاہے کوئی وزیر ہو یا دیہاڑی دار مزدور دونوں کو ایک جیسے جرم میں ایک جیسی سزا ملنی چاہیے۔ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے این آر او دینا ترقی کے خواہشمند لوگوں کے لیے محض ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔

‌دوسرا اصول وقت کی پابندی ہے۔ اگر ہم فطرت کے قوانین کو دیکھیں تو ہر چیز وقت پر کام کرتی ہے۔ فرض کریں کہ اگر کسی دن سورج اپنے وقت سے دو گھنٹے لیٹ طلوع ہو تو دنیا کا کیا بنے گا یا پھر جون جولائی میں برف باری شروع ہو جائے تو گرمیوں کی سب فصلیں خراب ہوجائیں گی۔ صرف درسی کتابوں میں وقت کی اہمیت پڑھا کے کوئی وقت کی قدر کرنا نہیں سیکھتا۔ آپ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کا سروے کر لیں آپ کو ہر ملک وقت کی قدر کرتا ہوا دکھائی دے گا۔ جاپان میں ٹرین صرف دو منٹ لیٹ ہو گئی تھی تو وزیر کو معافی مانگنا پڑ گئی تھی جبکہ دنیا کے باقی تمام ترقی یافتہ ممالک میں بھی ایسے ہی ہوتا ہے۔

‌تیسرا اصول کہ کسی انسان، کسی ادارے یا کسی ملک کی ترقی کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ اپنی ذاتی گروتھ کے لیے اپنی تعلیم پر کتنا پیسہ خرچ کرتا ہے۔ آپ چاہے روایتی تعلیم کی بات کر لیں یا پروفیشنل ٹریننگ کی جب تک آپ دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چلتے تب تک ترقی ہونا ناممکن ہے۔ جب تک آپ سائنس و ٹیکنالوجی میں ایکسل نہیں کرتے تب تک آپ ترقی نہیں کر سکتے۔

‌چوتھا اصول کہ جب تک آپ اشرافیہ اور عوام کے درمیان حائل معاشی خلیج کو کم نہیں کرتے تب تک آپ ترقی نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ تھامس مور کی یوٹوپیا یا کارل مارکس والی خیالی جنت کے خواب دیکھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر پیزا کھا کے اپنا پیٹ بھرتا ہے تو غریب کو بھی تین وقت کی روٹی میسر ہو۔ اگر امیر کا بچہ ایچی سن کالج میں پڑھ رہا ہو تو غریب کو بھی یہ حق حاصل ہو کہ وہ بھی اپنی قابلیت کی بنا پر ان اداروں میں داخلہ لے سکے۔ اگر لندن میں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا صادق خان لندن کا مئیر بن سکتا ہے تو پاکستان میں بھی یہ ہونا چاہیے۔

‌پانچواں اصول اپنی رہنے والی جگہ کی اور اپنی ذاتی صفائی ستھرائی۔ یورپ، چائنا، عرب ممالک میں ہر جگہ آپ کو صفائی ستھرائی کا ایک زبردست مربوط نظام نظر آئے گا۔ یہ انسان کی نفسیات ہے کہ جب وہ ایک صاف ستھرے ماحول میں رہتا ہے تو اس کے کام کرنے کی پروڈکٹیویٹی ایک غیر محسوس انداز میں بڑھ جاتی ہے اور وہ بیماریوں سے بھی محفوظ رہتا ہے۔

‌چھٹا اصول کہ جو انسان، ادارہ، معاشرہ یا ملک اپنی پرانی سوچ اور اپنی تاریخ کے متنازعہ موضوعات اور اپنی لا حاصل بحثوں سے ہر وقت چمٹا رہے گا وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر پاکستان میں اکثر لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی یا عورت کی کمائی کھانے کا ہماری برادری میں رواج نہیں ہے اپنے اس جملے سے اپنے آپ کو غیور، عزت دار ثابت کیا جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف اسی گھر میں ایک کمانے والا اور دس لوگ کھانے والے ہوتے ہیں۔

ہم شادی اور فوتیدگی پر اپنی حلال کی کمائی صرف دکھاوے کے لیے پانی کی طرح بہا دیتے ہیں۔ اسی طرح جو افراد یا معاشرہ بلا وجہ کی مذہبی، سیاسی اور خاندانی تعصبات جیسی لا حاصل بحثوں میں الجھے رہتے ہیں یا پھر جو لوگ جادو ٹونے، ستاروں کی چالوں اور ہر وقت اپنی تقدیر کو کوستے رہتے ہیں وہ بھی ترقی نہیں کر پاتے۔

‌حاصل کلام یہی ہے کہ جو قوم اپنی حالت خود نہیں بدلتی اللہ بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا۔ جب تک ہر بندہ انفرادی طور ان اصولوں کو نہیں اپناتا تب تک اجتماعی طور پر وہ قوم کبھی بھی اپنی پہچان نہیں بنا سکتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments