ایلف شفق کا ناول: اپنے ہی گھر میں غیرمحفوظ ایک بچی کی کہانی
کوئی اگر غلطی کی طرف توجہ دلائے تو دو طرح کے رد عمل ظاہر ہوتے ہیں، پہلا یہ غلطی کو تسلیم کیا جائے اور پھر اس کی تلافی کی راہ تلاش کی جائے، دوسرا یہ غلطی تو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے اور غلطی کو محض توجہ دلانے والے کی ذہنی اختراع سمجھا جائے۔
ہم بحیثیت فرد اور قوم دوسرا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ غلطی ماننا تو ایک طرف رہا، غلطی کی نشان دہی کرنے والا ہی ہمارا نشانہ بن جاتا ہے۔ کبھی وہ لبرل ٹھہرتا ہے تو گاہے اسے این جی اوز کا کارندہ کہا جاتا ہے۔ کبھو اس کو روایات کا باغی تصور کیا جاتا ہے تو کبھی فحش نگار۔ مگر توجہ دلانے والا ہی در اصل طبیب حاذق ہوتا ہے جو مرض کی تشخیص کر کے علاج کا مشورہ دیتا ہے، جسے گھٹن زدہ ماحول کی وجہ سے قبول نہیں کیا جاتا۔
منٹو، عصمت، اور ڈاکٹر کاظمی سمیت کتنے ہی بڑے ناموں کے ساتھ فحش نگاری کا لاحقہ لگا دیا گیا۔ ضرورت اس بات کی تھی توجہ اصل مسئلے کی طرف مرکوز کی جاتی مگر توجہ شخصیات کی جانب موڑ دی گئی۔ پچھلے دنوں ڈاکٹر کاظمی نے لکھا تھا کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لڑکیاں بھائیوں کی جنسی ہوس کا شکار ہو جاتی ہیں تو کئی باپ اپنی بیٹیوں کا جنسی استحصال کر دیتے ہیں۔
پہلا رد عمل تو اکثریت کا یہی ہو گا کہ یہ ایک لغو بات ہے، ہمارا معاشرہ جو مشرقی اور پاکیزہ روایات کا حامل ہے، اس میں ایسی بے راہ روی کس طرح ممکن ہے، یہ سرا سر جھوٹ ہے۔ ہاں اگر ڈاکٹر کاظمی ایسی بات مغربی معاشرے کے بارے میں کہتیں تو اسے تسلیم کرنے میں کوئی امر مانع نہ ہوتا کیوں کہ مغربی معاشرہ آخری درجے میں جنس پرستی کا شکار ہے۔ اس ضمن میں خرد مندوں کی دوسری دلیل یہ ہو سکتی ہے کہ باپ اگر بیٹیوں کا اور بھائی بہنوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں تو ایسے واقعات پھر رپورٹ کیوں نہیں ہوتے۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں ریپ کیسز کے رپورٹ نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ”عزت“ ہے کہ اگر لوگوں کو پتہ چل گیا کہ فلاں عورت کے ساتھ ریپ ہوا تو پورے خاندان کی عزت مٹی مل جائے گی۔ ریپ کے کیسز رپورٹ نہ ہونے کی وجہ ہمارا سماجی رویہ ہے۔ یہاں تو طلاق یافتہ عورت سے عورت ہونے کا اعزاز چھین لیا جاتا ہے اور اسے عمر بھر اچھوت سمجھا جاتا ہے، سوچیئے کہ جنسی استحصال کا شکار عورت کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہو گا۔ دوسری بات یہ کہ ایک بیٹی اپنے باپ اور ایک بہن اپنے بھائی کے خلاف جنسی استحصال کی شکایت کیوں نہیں کرتی؟
اس کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ایک لڑکی کو بچپن سے ہی یہ سبق پڑھانا شروع کر دیا جاتا ہے کہ وہ لڑکے کے مقابلے میں کم درجے کی مخلوق ہے، اس لیے اسے ہر حال میں مردوں کی خوشنودی کی تگ و دو کرنی چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر ایک لڑکی اپنے بھائی کے خلاف ایسی شکایت لگائے تو سینے پر ہاتھ رکھیے اور صدق دل سے بتائیے کہ کیا اس کے والدین اس کا یقین کریں گے، اور ہمارے معاشرے میں عورت کو اس حد تک مضبوط ہی نہیں ہونے دیا جاتا کہ وہ مرد کے ناروا سلوک کے خلاف آواز بلند کر سکے۔
ہمیں لگتا تھا کہ یہ روایت صرف ہمارے معاشرے میں ہی پنپی ہے کہ عورت اگر کسی قریبی عزیز کے خلاف جنسی استحصال کی شکایت کرے تو اس کی طرف توجہ نہیں دینی، لیکن اس وقت حیرانی کی کچھ انتہا نہ رہی جب ایلف شفق کا ناول ”اس عجیب دنیا میں دس منٹ اور اڑتیس سیکنڈز“ زیر نظر کیا۔
اس ناول کا مرکزی کردار لیلیٰ ہے، لیلیٰ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہے کیوں کہ اس کے بعد پیدا ہونے والا بھائی وفات پا چکا ہے۔ لیلیٰ کا باپ استنبول میں ایک درزی ہے جو عورتوں کے کپڑے سلائی کرتا ہے۔ بیٹے کی وفات پر کوئی عاقل اسے بتاتا ہے عورتوں کے تنگ کپڑے سلائی کرنے پر اسے یہ سزا ملی ہے کہ اس کا بیٹا وفات پا گیا ہے۔ یہ بات اس کے باپ کے دل کو لگتی ہے اور وہ اس عورتوں کے کپڑے سلائی کرنے جیسے گناہ کبیرہ سے توبہ کر لیتا ہے۔
اب وہ سارا دن اپنے مرشد کے ہاں گزارتا ہے یا اپنی بیویوں اور بیٹی کو با حیا لباس پہننے کی ترغیب دیتا ہے۔ چند برس قبل جب لیلی کی عمر سات سال تھی تو لیلی اپنے ماں باپ، چچا چچی، اور کزنز کے ساتھ کسی دوسرے شہر چھٹیاں گزارنے گئی۔ تمام خاندان کا قیام ایک ہوٹل میں تھا۔ لیلیٰ اپنے کزنز کے ساتھ ایک کمرے میں سو رہی تھی، جب کہ والدین اور چچا چچی دوسرے کمروں میں تھے۔
لیلی کے کزنز سو چکے تھے اور وہ ابھی سونے کی تیاری کر رہی تھی جب اس کا چچا اس کے ساتھ آ کر لیٹ گیا اور اس کے جسم کو چھونے لگا، جب لیلی نے مزاحمت کی کوشش کی تو چچا نے اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیا اور وہ ہو گئی کہ آخر سات سال کی ایک بچی تھی۔ دوسری رات کو بھی کو چچا آیا اور پھر وہی ہوا جو پہلی رات کو ہوا تھا۔
تین دن کے بعد جب لیلی اپنے والدین کے ساتھ گھر آئی تو بجھی بجھی سی تھی، باپ نے توجہ نہ دی لیکن ماں کے کہنے پر بھی اس نے کچھ نہ بتایا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہونے لگی، لیکن وہ زیادہ عرصہ نارمل رہ نہ سکی کیوں کہ چچا اپنی بیگم کے ساتھ ساتھ کچھ عرصے بعد اپنے بھائی کے گھر آتا اور مختلف بہانوں سے لیلی کے سارے جسم کو ٹچ کرتا۔
ایک دفعہ جب لیلی کے باپ کا آپریشن تھا تو اس کی ماں ہسپتال میں تھی اور وہ گھر میں اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ تھی، سوتیلی ماں بیماری کے سبب سو رہی تھی جب چچا رات کو گھر میں داخل ہوا اور لیلیٰ کو ایک کمرے میں لے جا کر اس کا ریپ کر دیا۔ کچھ دنوں بعد جب باپ ہسپتال سے واپس آیا تو لیلی نے نا چاہتے ہوئے بھی اپنے باپ کو اس واقعے کے بارے میں بتا دیا۔
باپ نے پہلے تو اس بات پر یقین کرنے سے انکار کر دیا لیکن جب اس کا اصرار حد سے بڑھا تو فقط یہ کہا کہ وہ اپنے بھائی کو بلا کر اس معاملے میں بات کرے گا۔ اس کے بعد لیلیٰ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اب اپنے باپ کے گھر میں نہیں رہے گی، اور وہ پھر بھاگ کر استنبول چلی گئی، مگر استنبول میں بھی تیرگی نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا اور اس کو دھوکے کے ساتھ طوائفوں کو فروخت کر دیا گیا۔
اس کے بعد کیا ہوا، آپ ناول خرید کر پڑھنے کے بعد جان سکتے ہیں، انگلش میں ناول کا نام ہے ”ٹین منٹس تھرٹی ایٹ سیکنڈز ان دس سٹرینج ورلڈ“


