نفی کی برکت


ظاہری جمع نفی یا ضرب تقسیم کا عمل کریں تو حاصل جواب مختلف ہی ملے گا۔ لیکن اگر کسی بھی چیز میں سے کچھ نفی کریں تو حاصل جواب ہمیشہ اپنے اصل سے کم ہو جائے گا۔ یہ سیدھا سیدھا حسابی سا کلیہ ہے ’اس میں الجبرے کی کوئی ایسی مساوات ملوث نہیں کہ بات کہیں اور نکل سکے۔ یعنی اگر سو میں سے دس نکالیں گے تو باقی ہر صورت نوے ہی بچیں گے‘ چاہے دس یکمشت نکال دیں یا ایک ایک کر کے۔ آخر میں جواب وہی نوے ہی رہے گا۔

لیکن اس فانی دنیا میں ایک اور طرح کی پائیدار ”نفی“ بھی پائی جاتی ہے ’جو محبت کے بعد اس دنیا میں دوسری آسمانی چیز لگتی ہے۔ اللہ کریم حکم فرماتے ہیں کہ اپنے مال میں سے نصاب کے مطابق زکوٰۃ ادا کرو۔ اس سے مال پاک ہو جائے گا اور مال میں برکت ہو گی۔ بات کو سمجھنے کے لئے ہم برکت کا ترجمہ فی الحال کثرت زیادہ ہونا کر لیتے ہیں۔ نفی کی یہ کہانی عجب ہے‘ پہلے خود ہی مال عطا کرتا فرماتا ہے ’پھر حکم ہے کہ اس میں سے کچھ مال نفی کرو اور ساتھ ہی وعدہ ہے کہ اس نفی سے مال کم نہیں ہو گا بلکہ برکت حاصل ہو گی یعنی مال اور بھی زیادہ ہو گا۔

قرآن مجید میں اللہ کریم نے بیشتر مقامات پہ نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ایک ساتھ فرمایا ہے۔ نماز حکم ربی میں آتی ہے اور دانائے راز بتاتے ہیں کہ نماز ہی مومن اور غیر مومن میں فرق کا ذریعہ ہے۔ نماز کے جہاں بہت سے دینی اور دنیاوی فائدے ہیں وہیں نماز انسانی زندگی اور انسانی رویوں میں سے بہت کچھ نفی بھی کرتی ہے۔ مثلاً نماز فسق و فجور کی نفی کرتی ہے ’نماز غرور و تکبر کی نفی کرتی ہے‘ نماز لایعنی بے مقصدیت کی نفی کرتی ہے۔

وہ لوگ ’بقول صوفی نورالدین المعروف صوفی جی نورجہاں والے‘ جنہوں نے میٹرک میں سائنس پڑھنے کی تہمت اپنے ذمے لی ہو وہ اس رمز کو بخوبی سمجھیں گے کہ جب دو ’نفی‘ کو آپس میں ضرب دی جاتی ہے تو حاصل جمع نا صرف زیادہ ہو جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ علامت بھی مثبت آتی ہے۔ دونوں ”نفیاں“ مل کے کیسے سارے نفی کو مثبت کر دیتی ہیں ایسے ہی بدنی اور مالی عبادات سے حاصل شدہ ”نفیاں“ ضرور مثبت تبدیلی لاتی ہیں۔

جتنی بھی نفی کرنی ہو ’خود سے کرنے میں ہی زیادہ فائدہ ہے۔ بعد میں نفی کروانے سے نفی ہو تو جاتی ہے لیکن اس کا اثر اتنا کم ہو چکا ہوتا ہے کہ دوسری نفی تک پہنچ کے مثبت ہی نہیں ہو پاتی۔ نفی چاہے مال کی ہو یا ذات کی‘ ہر دو صورتوں میں سودمند ہے۔ مال کی نفی سے اور مال و متاع ملے گا ’کئی نسلوں تک ملتا رہے گا‘ اپنی ذات کی نفی سے اور طرح کی متاع ملے گی ’عزت و توقیر ملے گی‘ اپنے ہنر کی پذیرائی ملے گی ’عشق کا گیان ملے گا‘ دینے والے کا مان ملے گا۔

جیسے کامیابی کا معیار ہر کسی کا اپنا اپنا ہے ’ایسے ہی دینے کی صلاحیت بھی اپنی اپنی ہوتی ہے۔ بہت کمیاب ہیں وہ‘ جنہیں دینے کا ہنر ودیعت کیا جاتا ہے۔ صرف اپنے مال میں سے دینا ہی دینا نہیں ہے ’یا ضرورت سے زائد میں سے دینا ہی دینا نہیں ہے‘ بلکہ حتی المقدور محض اس سچے رب کی رضا کے لئے خود سے دینا ہی دینا ہے۔ دانائے راز کہتے ہیں مالدار ہو تو اپنے مال سے دو ’غریب ہو تو اپنے دل سے دو۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments