حوا کی بیٹی اور ہمارا معاشرہ


گزشتہ دنوں پنجاب کے ضلع سرگودھا میں ایک لڑکی کو اس بنیاد پر سسر نے قتل کر دیا کہ وہ سسرال میں رہنے کے بجائے اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے واپس آسٹریلیا جانا چاہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی آسٹریلیا میں ملازمت کرتی تھی جبکہ اس کا شوہر بحرین میں ملازمت کر رہا ہے۔ شوہر نے بیوی کو یہ کہہ کر دھوکے سے پاکستان بھیجا کہ میرے ماں باپ اپنے پوتے پوتیوں سے ملنا چاہتے ہیں، لڑکی شوہر کی بات مان کر پاکستان آئی تو سسر نے اس سے پاسپورٹ لے کر واپس آسٹریلیا بھیجنے سے انکار کر دیا اور سسر کی بات نہ ماننے پر کلہاڑی مار کر قتل کر دیا۔

پچھلے ماہ 21 مئی 2022 کو بھی سپین سے آئی دو بہنوں کو گجرات میں قتل کر دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے چچازاد لڑکوں سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا جو ان سے شادی کر کے سپین جانا چاہتے تھے۔

ایسے ظلم کے واقعات ایک طرف دکھی کر دیتے ہیں اور دوسری طرف انسان یہ سمجھنے پر غور شروع کر دیتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خرابی کی جڑ کہاں ہے؟ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے عورتیں مظلوم سے مظلوم تر بنتی جا رہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ عورت ظلم سہنے میں برابر ہے پر اس ظلم کا طریقہ واردات ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ آئے دن ان دونوں کو شادی سے انکار پر گولی اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے پر کلہاڑی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اتنا تعفن زدہ اور عورتوں پر ظلم کے معاملے میں اتنا سنگ دل اور بے خوف کیوں ہے؟

اب یہ سوال آپ کسی قانونی ماہر کے سامنے رکھیں تو وہ عورتوں کے حقوق کے بارے میں اسمبلی سے پاس ہونے والے قوانین اور عدالتی فیصلوں کی لمبی فہرست سے آپ کو خاموش کرا دے گا کہ قانونی نظام میں تو تعلیم کے حق سے لے کر گھریلو تشدد کی روک تھام تک ہر چیز پر قانون اور فیصلے موجود ہیں، اب ہمارا قانونی نظام مزید کون سے حقوق عورتوں کو دلا دیں۔

اب یہی سوال آپ کسی عالم دین یا مفتی سے پوچھیں تو وہ قرآن کریم کی آیات اور احادیث مبارکہ سے ایک بڑا ذخیرہ نکال کر آپ کے سامنے رکھ دیں گے کہ اسلام نے تو ہم جنس پرستی کے علاوہ وہ سارے حقوق عورتوں کو دیے ہیں جس کا مغرب پرچار کرتا ہے (واضح رہے کہ ابارشن کو بطور حق تمام یورپی ممالک تسلیم نہیں کرتے)، بلکہ مغرب سے زیادہ حقوق دیے ہیں کہ عورت کو معاشی بوجھ سے بھی آزاد کر دیا ہے کہ وہ اگر اپنی مرضی سے نوکری کرنا چاہے تو کرے وگرنہ گھر چلانا اس کی نہیں بلکہ شوہر کی ذمہ داری ہے۔

لیکن اسی مذکورہ سوال پر سماجی پہلو سے غور کرنے پر شاید ہم کسی ممکنہ جواب پر پہنچ سکیں کہ خرابی کی جڑ کہاں ہیں؟

پاکستان کی ٹوٹل آبادی میں سے 64 فیصد لوگ دیہات جبکہ صرف 36 فیصد شہروں میں رہتے ہیں۔ تو بہتر صورت یہی ہے کہ عورتوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے ہمیں اس تقسیم اور دونوں جگہ کے مخصوص حالات کو ذہن میں رکھنا چاہیے تاکہ ہم کسی فیصلہ کن نتیجے پر پہنچ سکیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں دائیں اور بائیں بازو کی تنظیمیں عورتوں کے حقوق اور ان پر ہونے والے مظالم کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بجائے سارا زور اپنے منشور و نظریات کو پھیلانے اور مخالف کو زیر کرنے پر صرف کرتے ہیں۔

بائیں بازو کا سارا زور عورتوں کو گھروں سے نکالنے پر ہوتا ہے گویا کہ عورت گھر سے نکل کر تعلیم حاصل کرنے اور نوکری کرنے کے بعد بالکل محفوظ ہو جائے گی اور پھر کوئی سپین اور آسٹریلیا سے آنے کے بعد پاکستان میں قتل نہیں ہوگی، اور دوسری طرف دائیں بازو کا زور انہیں سات پردوں کے اندر اور مشترکہ خاندانی نظام جیسے فرسودہ سسٹم سے باندھے رکھنے پر ہے، کہ اگر کسی عورت نے سسرال سے باہر جانے کی بات کی تو ہمارا معاشرہ بھی یورپ بن جائے گا۔

افراط و تفریط کے ان دو انتہاؤں پر بیٹھنے کے بعد اس بات پر کوئی سوچنے کو تیار نہیں کہ اگرچہ بحیثیت پاکستانی ہم ایک قوم ہیں لیکن پاکستان کے ہر علاقے کے قبائل اور نسلیں جدا جدا ہیں جن کی اپنی ثقافت اور اپنے اپنے روایات ہیں۔ ان کے مخصوص ثقافت اور روایات میں موجود غلطی کی نشاندہی کر کے اس پر تو بات کی جا سکتی ہے لیکن اگر مجموعی طور تخصیص کیے بغیر روایات کی مخالفت کی جائے اور کچھ الگ لایا جائے تو انسان فطری طور پر اس کی مخالفت ہی کرے گا، کیونکہ انسان نے ابتدائی طور پر ہر چیز سے انکار ہی کیا ہے۔

اگر کوئی وزیرستان، ژوب، پسنی، مٹھیاری اور سخی سرور میں لڑکیوں کی تعلیم کے بجائے ان کی نوکری اور آزادی کے لئے عورت مارچ کرے تو کم از کم درجہ میں بھی اسے بے وقوف کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہر علاقے کے اعتبار سے مخصوص مسائل اور ظلم کی نشاندہی کر کے ہی قدم بقدم ترقی کی جانب سفر کیا جا سکتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں جنس کی بنیاد پر کسی پر بھی ظلم نہ ہو سکے۔ لیکن اگر دیہی علاقوں کے بجائے شہروں کی بات کی جائے تو وہاں کے ایشوز بالکل مختلف ہیں اور وہاں عورتوں کو تعلیم کے بجائے پسند کی شادی اور گھریلو تشدد جیسے مظالم کا سامنا ہے۔

ہم ایک طرف ہمارے معاشرے کو مکس کر دیتے ہیں اور دوسری طرف عورتوں کے مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم کو بھی مکس کر کے آواز اٹھاتے ہیں جس سے نہ تو مقصد واضح ہو سکتا ہے اور نہ ہی عورتوں پر ہونے والے مظالم ختم ہو سکتے ہیں۔

ملکی قوانین اور اسلام نے بے شک خواتین کو سارے حقوق دیے ہوں لیکن کیا ہمارا معاشرہ وہ حقوق دیتا ہے؟ کیا بحیثیت فرد ہم نے کبھی ان مظالم پر آواز اٹھائی ہے؟ اگر ہم آواز اٹھا بھی لیں تو ہماری آواز یا تو دائیں اور بائیں بازو کے بیانیہ میں کہیں دب جاتی ہے یا پھر کلچر اور مذہب کے ٹھیکیدار سامنے آ کر دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ہمارے معاشرے نے عورت پر ہر وہ ظلم کیا جو وہ سہ سکتی تھی، اور اگر کہیں اس نے ظلم سہنے اور مظلوم بننے سے انکار کیا تو ہم نے ثقافتی اور مذہبی حوالے سے اسے بلیک میل کرنے سے بھی گزیر نہ کیا۔ وہ گھر میں رہی تو ہم نے ثقافت اور مذہب کی آڑ لے کر اس پر ذہنی اور جسمانی تشدد کیا اور اگر وہ تعلیم حاصل کرنے یا اپنی زندگی خوبصورت بنانے گھر سے باہر نکلی تو ہم نے اپنی ہوس زدہ نظروں سے اس کی زندگی اجیرن کر دی۔

ہم نے اس سے شادی کرنی چاہی تو انکار پر اس کے سینے میں گولیاں اتار دی اور اگر اس نے کسی سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو غیرت کے نام پر کلہاڑی سے قتل کر دیا۔ مردوں کے اس معاشرے میں اسے اب ہر کسی سے خوف آتا ہے، وہ نہ استاد پر اعتماد کر سکتی ہے اور نہ ہی کسی قریبی رشتہ دار کو اپنی مجبوری بتا سکتی ہے، اسے پتہ ہے کہ استاد بھی اسے ہراساں کرے گا اور قریبی رشتہ دار تو شروع سے ہی غیرت کے نام پر اس کا خون اپنے لئے حلال سمجھے بیٹھا ہے۔ وہ اگر کسی مسئلہ میں داد رسی کے لئے خاندان کی طرف دیکھے تو وہاں اس کے ہی چال چلن کو مشکوک قرار دے کر سوالات اٹھا دیے جاتے ہیں اور اگر وہ سرکاری اداروں سے مدد لینے کی کوشش کرے تو وہاں پھر معاشرے کے انہی مردوں سے واسطہ پڑتا ہے جو اسے اپنے لئے بطور نیا شکار ڈیل کرتے ہیں۔

ان سب مظالم سے نکلنے کے لئے اگر کبھی اس نے خود آواز اٹھائی تو ہم نے اسے بھی مختلف رنگ دے دیا، لیکن خود سے کبھی سوچنے کی زحمت نہیں کی۔

میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ ان سب مظالم کی بنیادی وجہ ہمارے معاشرے کا وہ مکسچر ہے کہ ہم نے ثقافت اور مذہب کو ملا کر ایک اچار کی شکل دے دی ہے جس میں نہ ثقافتی اقدار کی وضاحت ہے اور نہ ہی مذہب کی نشاندہی یا باؤنڈری موجود ہے، اور ہم ثقافتی جہالت کو بھی مذہب کا لبادہ اوڑھا کر اس سے چمٹے ہوئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم نے اسی مکس ملغوبے کو ”اسلامی معاشرہ“ کہہ دیا، جہاں حوا کی بیٹی اپنی محنت سے آسٹریلیا پہنچنے کے بعد بھی اپنی جڑیں اس فرسودہ معاشرے سے نہیں کاٹ سکتی۔ جب تک ہم اس مکس اچار سے مذہب اور ثقافت کو الگ الگ کر کے اچھی چیزوں کو برقرار اور خودساختہ و فرسودہ ”مشرقی روایات“ کو روند کر آگے نہیں بڑھتے تو یہ ظلم ہمارے معاشرے میں ہوتا رہے گا اور ہم اقوام عالم میں شرمندہ اور ذلیل ہوتے رہیں گے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد صادق کاکڑ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments