ایک عطائی ڈاکٹر کا معاملہ


آج کا صفحہ
2018 کی اپریل/ مئی کی گرمیوں میں چیف جسٹس کے آرڈر سے عطائیت کو پکڑ نے کے مہم پر نکلے۔

ایک شہر میں ہم اپنا ٹاسک پورا کر رہے تھے۔ جمعہ کی نماز کے بعد ساتھی نے کہا ڈاکٹر صاحب صرف ایک یا 2 شکار اور مل گے تو واپسی شروع (ٹارگٹ جو دیا ہوتا ہے ) ۔ شکار کی تلاش میں سرگرداں تھے آخر کار ایک جگہ جہاں چھوٹا سا بازار تھا وہاں ایک ڈسپنسری نظر آ گئی کولیگ نے کہا میں دیکھ کر آتا ہوں وہ گیا تو 5 منٹ کے بعد آ کر کہتا ہے ڈاکٹر وہ تو آپ کے کالج کا گریجویٹ ہے

میں نے اچھا مل کر آتا ہوں
میں نے اس سے بڑی گرمجوشی سے سلام کر کے پوچھا کہا کہ
کہاں کہ گریجویٹ ہو؟
اس نے کالج کا نام لیا

کون سی بیچ ہے؟
بیچ سے کیا مراد ہے
میں نے کہا اگر اس کالج کے فارغ ہوئے ہو تو بیچ پتہ ہونا چاہیے؟
اس نے کہا سن 1999 (مثال)
پھر کون سی بیچ ہوئی؟
کوئی جواب نہیں

اس وقت ایک بزرگ بھی تشریف فرما تھے انہوں اپنا تعارف کرایا کہ میں اس ڈسپنسری کا دیکھ بھال کرنے والا ہوں اور اصل مالک بیرون ملک مقیم ہیں

وہ یہ سوال جواب سن کر چہرے سے کچھ پریشان لگ رے تھے اور سمجھ رہے تھے بات ٹھیک نہیں ہے
پھر میں نے اس سے پوچھا کون سے ہوسٹل میں تھے؟
جواب ابن سینا (مثال)

میں سمجھ گیا سب جھوٹ ہے اور جو بتاتا جا رہا تھا وہ لکھتا بھی جا رہا تھا تا کہ بعد میں مکر نہ جائے اور سند بھی رہے

لیکن حیرت تھی وہ پھر سچوایشن کو سمجھ نہیں پایا۔
آخری سوال کیا کہ سرجری کے ایچ او ڈی کون تھے؟
جواب اب یاد نہیں شاید گردیزی صاحب
میں فوراً یہ تفصیل اپنے کولیگ کو بتائی کہ ٹوٹل فیک ڈاکٹر ہے
وہ فوراً آیا اور یہی سوال اس سے کیے
میرے کولیگ کے آنے سے پہلے وہ بزرگ نکل گئے تھے

اب ساتھی نے کہا کہ سچ بتاؤ تم کون ہو؟
وہ کہتا ہے سب سچ بتایا ہے

اس پر اس کے پیچھے سپاہی کھڑا تھا اس نے زوردار تھپڑ رسید کیا۔ یقین کریں میں کچھ فاصلے پر کھڑا تھا ہل گیا

ویٹنگ پر خواتین بیٹھی تھیں وہ بازار سے آدمی بلا لائیں۔ ہم نے کہا آپ سب چلے جائیں سرکاری کام میں مداخلت نہ کریں وہ سب چلے گئے لیکن وہ بزرگ رک گے۔

ان کو ساری حقیقت بتائی انہوں نے کہا مجھے تو پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا معاملہ خراب ہے اسی لیے باہر نکل گیا

ھم نے کہا اس پر آف آنی آر کٹوانے پرے گی
بزرگ نے کہا کہ یہ ہمارے ریفرنس سے ہیں اور اس کے دو بچے ہیں ہم کو کسی نے اس کا ڈاکٹر کا بتایا تھا
اس ڈاکٹر نے بتایا کہ میں چائنا کا گریجویٹ ہوں ابھی پی ایم ڈی سی پاس نہیں کیا

بہرحال اس ڈاکٹر کو کچھ نہیں کہا۔ باقی ڈسپنسری کے معاملے میں قانون کے مطابق عمل درآمد کیا گیا۔
آخری بات یہ اس بیچارے ڈاکٹر صاحب کو پھر بھی نہ بتا سکا کہ میں نے اسی کالج سے گریجویشن کی ہے
ڈاکٹر عبدالرحمن جنجوعہ
11 جون 22


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر عبدالرحمن جنجوعہ کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments