دعا زہرہ کیس: والدین کے نام کھلا خط


ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک بچی دعا زہرہ کے اپنے والدین کے ساتھ باغیانہ رویے اور ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ معاشقے کی داستان زباں زد عام ہے۔

دعا زہرہ کی عمر پندرہ سے لے کر بیس سال کی عمر کے گروپ میں آتی ہے۔ یہ لا ابالی کی عمر ہے۔ یہ وہ عمر ہے جب انسان جذباتیت، رومانیت اور احساسیت کے عروج پر ہوتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں لامتناہی خواب ہوتے ہیں۔ اور اسے لگتا ہے کہ وہ ساری دنیا کو اپنی شخصیت کے حصار سے فتح و گرویدہ کر سکتا ہے۔ وہ توانائی کا مبنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی جوانی کے بل بوتے پر ہر طرح کے خطرات مول لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔

لیکن اس کے برعکس اس کے والدین اسے اپنے تجربات زندگی کی بدولت خوف دلاتے ہیں، اسے ڈراتے ہیں کہ بیٹا آپ یہ کام نہیں کر سکتے، آپ وہ کام نہیں کر سکتے۔ اسے چاردیواری میں باہر کی دنیا سے چھپا کر رکھتے ہیں۔ کچھ تو اپنے بچوں کو کھل کر جینے کیا، ہنسنے بھی نہیں دیتے۔ وہ انہیں صرف اور صرف کتابوں کے ساتھ سر کھپاتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بول جاتے ہیں کہ کامیاب زندگی گزارنے کے لیے صرف کتابیں ہی ضروری نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی، معاشی، معاشرتی، روحانی، نفسیاتی اور جسمانی سرگرمیوں کا حصہ بننا بھی لازم ہے۔

بدقسمتی سے اکثر والدین بچوں کی سرگرمیوں کو اتنا محدود کر دیتے ہیں کہ کچھ بچے پھر ماماز بوائے اور پاپاز پری  بن جاتے ہیں۔ اور اکثریت بلاوجہ کی روک ٹوک سے چڑچڑی ہو جاتی ہے، جس سے والدین اور بچوں کے درمیان دراڑ پڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ جو کہ دھیرے دھیرے خلاء کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور پھر یہیں سے دعا زہرہ جیسی بچیاں اور بچے معاشرے میں جنم لینا شروع کر دیتے ہیں۔

معذرت کے ساتھ بچوں کے اس باغیانہ رویے کے لیے میں والدین کو ذمہ دار ٹھہرواں گا کیونکہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے والدین کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے اور وہ بذات خود اس اسٹیج سے گزرے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے اتار چڑھاؤ کو بھی زیادہ قریب سے دیکھا ہوا ہوتا ہے۔ انہیں چاہیے کہ بچوں کی پرورش کے لیے ہر پہلو کو مدنظر رکھیں۔ صرف کتابیں پڑھنا ہی کامیاب زندگی کی ضمانت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ بچوں کو تقریری مقابلوں، مضمون نویسی، بیت بازی اور کھیلوں کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے لیے متحرک کریں تا کہ وہ اپنے وقت اور توانائی کا بہترین استعمال کر سکیں اور معاشرتی لحاظ سے ایک متوازن شخصیت بن سکیں۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو دوستیاں کرنے دیں۔ انہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ گل ملنے دیں۔ انہیں دنیا کو اپنی نظر سے دیکھنے اور پرکھنے دیں۔ اللہ سبحان و تعالیٰ نے انہیں آزاد پیدا کیا ہے، انہیں آزاد زندگی گزارنے دیں۔

بلا وجہ ہر بات پر روک ٹوک کر کے ان کی زندگی اجیرن نا کریں، بلکہ اپنے عمل کے ذریعے ان کے سامنے صحیح راستہ رکھیں۔ ان کے ساتھ کھل ڈھل کر گپ شپ کریں۔ تمام سیاسی، معاشی اور معاشرتی پہلوؤں پر ان کے ساتھ مکالمہ کریں۔ جہاں ان کا نقطہ نظر بہتر ہو، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور جہاں وہ غلط ہوں، اس پر مناسب تنقید کرتے ہوئے ان کی اصلاح کریں۔ ان کی صلاحیتوں کو نکھاریں۔ ان کو مناسب ماحول مہیا کریں تا کہ وہ پھل پھول سکیں، بہترین انسان اور شہری بن سکیں۔

اس سب کے لیے والدین کو اپنے اعلیٰ کردار کے ذریعے بچوں کے سامنے عملی نمونہ پیش کرنا ہو گا۔ اور اگر ان کے اپنے ہی قول و فعل میں تضاد ہو گا تو پھر دعا زہرہ جیسے بچے ہی معاشرے کی عکاسی کریں گے، جنہیں نا تو اپنی عزت کا خیال ہو گا اور نا ہی اپنے والدین اور خاندان کی عزت کا احساس ہو گا۔

سوال یہ ہے کہ کتنے والدین اپنے بچوں کی معاشرتی، روحانی، نفسیاتی، سیاسی، معاشی اور جسمانی لحاظ سے تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ یہ ایک بہت اہم سوال ہے اور یہ سوال ان تمام والدین کے لیے ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بہترین انسان بن کر معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں۔

Facebook Comments HS