خواجہ سراؤں میں گرو چیلہ کلچر سے آزادی کی تحریک


دنیا میں آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہیں۔ انسان دنیا میں آزاد تشریف لاتا ہے۔ پھر مذہب اور معاشرتی حد بندیاں اسے قواعد و ضوابط کے پابند بناتے ہیں۔ آزادی کا مطلب رکاوٹوں کی غیر موجودگی ہے۔ یعنی رکاوٹوں کے نہ ہونے پر انسان کو آزاد تصور کیا جاتا ہے۔

انسان اس وقت آزاد ہوتا ہے جب وہ کسی کے ظلم و جبر کا شکار نہیں ہوتا، اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ آزادی کی حالت میں انسانی ذہن بھر پور کام کرتا ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ آزاد معاشرہ کم سے کم رکاوٹوں کے ساتھ اپنے شہریوں کو کام کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کم سے کم پابندیاں بہترین ذہنوں کو پنپنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

خواجہ سراؤں سے نفرت کرنے کی سب سے بڑی وجہ وہ شعبے ہیں جنھیں خواجہ سراء اپنا پیٹ بھرنے کے لئے اختیار کرتے ہیں۔ بھیک، ناچ گانا اور سیکس ورک کو ہمارے معاشرے میں اچھا تصور نہیں کیا جاتا اور خواجہ سراء انہی سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔

خواجہ سراء بھیک، ناچ گانا اور سیکس ورک سے اس لیے جڑتے ہیں کہ معاشرہ انھیں کوئی اور کام کرنے ہی نہیں دیتا۔ ہم اکثر جذبات میں آ کر سارا ملبہ یا تو معاشرے پر ڈال دیتے ہیں یا پھر خواجہ سراؤں کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان معاشرتی برائیوں میں ایک اور کردار بھی ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ خواجہ سراؤں کے گرو ہیں جو انھیں یہ سب کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ گرو چیلا سسٹم خواجہ سراؤں کو گھروں سے نکالنے کے بعد بننا شروع ہوا، اور اب یہ اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ اس سے آزادی مانگنے پر ”حقہ پانی بند“ اور مارنے کی دھمکیاں تک دی جاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں دو طرح سے خواجہ سراء گرو چیلا سسٹم کا حصہ بنتے ہیں۔ پہلا گروپ ان بد نصیب خواجہ سراؤں کا ہے جن کے والدین کو جیسے ہی پتہ چلتا ہے کہ بچہ خواجہ سراء ہے ایسے والدین معاشرتی دباؤ میں آ کر بچے کو کسی گرو کے حوالے کر دیتے ہیں۔

دوسرا گروپ ان والدین کا ہے جو بچے کو زمانے سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بچے کو مردوں والی حرکتیں کرنے کو کہتے ہیں۔ ایسے والدین معاشرتی دباؤ کا سامنا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن یہ دباؤ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بچے کو گلی، محلے، سکول اور رشتہ داروں ہر جگہ تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ بچے دباؤ اور تشدد سے تنگ آ کر گھروں میں قید ہو جاتے ہیں۔ کچھ خودکشیاں کر لیتے ہیں تو کچھ اپنے جیسے دوسرے خواجہ سراؤں سے مراسم بڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔

پھر ایک دن آتا ہے کہ ماحول سے تنگ آئے خواجہ سراء گھروں سے بھاگ جاتے ہیں۔ گھر سے فرار کے بعد یہ کسی گرو کے ڈیرے میں پہنچ جاتے ہیں۔ شروع کے دنوں میں ان کی خوب آؤ بھگت کی جاتی ہے۔ انھیں لڑکیوں کے کپڑے اور میک اپ کا سامان دیا جاتا ہے۔ یہ بال بڑھانا شروع کرتے ہیں انھیں ڈانس سکھایا جاتا ہے۔ نوجوان خواجہ سراء سمجھتے ہیں کہ شاید اب انھیں سختیوں سے آزادی مل چکی ہے اور بقیہ زندگی اسی طرح لاڈ پیار میں گزرے گی۔

تھوڑے دنوں کے لاڈ پیار کے بعد انھیں کسی بھی طریقے سے پیسہ کمانے کا کہا جاتا ہے۔ خواجہ سراء نوکری ڈھونڈنے کے لئے نکلتے ہیں تو کوئی انھیں باعزت روزگار نہیں دیتا۔ نوکری مل بھی جائے تو کم تنخواہ پر رکھا جاتا ہے۔ اگر خواجہ سراء کم سے کم تنخواہ پر بھی راضی ہو جائے تو دکانوں، کارخانوں اور دفاتر کا عملہ انھیں اتنا تنگ کرتا ہے کہ یہ کچھ ہی عرصہ بعد نوکری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں پھر تھک ہار کر بھیک، ڈانس یا سیکس ورک سے جڑ جاتے ہیں۔

ڈیروں پر ناجائز فروشوں، مجرموں اور غلط لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے جو خواجہ سراؤں کو نشے اور سیکس ورک پر مجبور کرتے ہیں یہ سارے کام گرو کی زیر نگرانی ہوتے ہیں۔

گرو چیلا کلچر میں بہت سی برائیاں پائی جاتی ہیں۔ چیلوں کی خرید و فروخت، انسانی اسمگلنگ، ناجائز فروشی، حقہ پانی بند، مار پیٹ، دھونس اور زبردستی وغیرہ جیسے جرائم گرو چیلہ سسٹم کا حصہ ہیں۔

صباء گل کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔ تڑپ اور انڈس ہوم کی بانی و صدر ہیں۔ صباء نے ساری زندگی محنت کر کے گزاری ہے۔ پچیس سال قبل راولپنڈی آئیں محنت مزدوری کر کے ایک بھینس خریدی، پھر محنت کرتی چلی گئیں اور بھینسوں کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ 2018 ء میں صباء گل کے ڈیرے میں تین سو سے زائد بھینسیں تھیں ساتھ ہی دیسی بکروں اور مرغیوں کی اچھی خاصی تعداد تھی۔

خواجہ سراء کمیونٹی کے مسائل کو دیکھتے ہوئے صباء نے دودھ کے کام کو خیر آباد کہا اور سوشل ورک میں قدم رکھ دیا۔ صباء گل کا ادارہ انڈس ہومز گھروں سے نکالے گئے بزرگ اور بے سہارا شہریوں کو رہائش کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ جبکہ تڑپ خواجہ سراؤں کے حقوق کے لئے کام کرتا ہے۔

صباء کہتی ہیں کہ جب انھوں نے خواجہ سراء کمیونٹی میں قدم رکھا تو کمیونٹی کا حصہ بننے کے لئے انھیں تیس سے پینتیس لاکھ روپے گرو کو دینا پڑے۔

صباء کہتی ہیں کہ گرو چیلہ سسٹم غلامی کا تصور ہے۔ اس کلچر میں پھنس جانے والا خواجہ سراء ساری زندگی گرو کی غلامی میں گزار دیتا ہے۔ گرو ذرا سی غلطی پر چیلے کو سخت سے سخت سزا دیتے ہیں، انھیں اخلاقیات سے گرے کاموں پر مجبور کرتے ہیں۔ گرو چیلے سسٹم کی سب سے بڑی برائی انسانی اسمگلنگ اور چیلوں کی خرید و فروخت ہے۔ چیلوں کی فروخت ہزاروں روپوں سے لاکھوں روپوں میں ہوتی ہے۔

چیلوں کی گروؤں سے آزادی اور اپنی مرضی سے جینے کے لئے صباء گل نے ایک تحریک کا آغاز کیا ہے جس کا نام ”آزاد دھڑا تحریک“ ہے۔ صباء گل کہتی ہیں گرو چیلہ کلچر سے آزادی چاہنے والا کوئی بھی خواجہ سراء ان کی تحریک کا حصہ بن سکتا ہے۔ صباء کا ادارہ ایسے خواجہ سراؤں کو قانونی معاونت فراہم کرتا ہے۔

چند روز قبل صباء گل نے بری امام کی زیارت پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ مختلف ٹی۔ وی چینلز کو انٹرویو دیتے وقت صباء گل نے کہا کہ ملک بھر سے کوئی بھی خواجہ سراء رجسٹریشن فارم فل کر کے ان کے دھڑے کا حصہ بن سکتا ہے۔ صباء اب تک چونتیس سو اڑتالیس خواجہ سراؤں کو گروؤں سے آزادی دلوا چکی ہیں۔

آزادی کی تحریک کے اعلان کے بعد ملک بھر کے گرو حضرات صباء گل کے خلاف ہو گئے۔ صباء کی گرو نے ان کا حقہ پانی بند کر دیا ہے۔ انھیں مختلف طریقوں سے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ہے۔

صباء کو ڈر ہے کہ گرو حضرات کا مضبوط نیٹ ورک انھیں نقصان پہنچا سکتا ہے اس لیے انھوں نے اپنے شاگردوں کے سر پر پگڑی رکھ کر نام بتا دیے ہیں۔ جو صباء کے بعد اس تحریک کو جاری رکھیں گے۔ صباء کہتی ہیں کہ وہ ملک بھر کے تمام خواجہ سراؤں کو گرو چیلہ سسٹم سے آزادی دلا کر دم لیں گیں۔

خواجہ سراء کمیونٹی میں گرو چیلا سسٹم کے حوالے سے سخت نفرت پائی جاتی ہے۔ جبکہ میں ذاتی طور پر اس کے خلاف نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ڈیروں کو حکومتی سرپرستی اور گروؤں کو سرکاری عہدے فراہم کر کے اس کلچر سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ گرو چیلہ سسٹم کے حوالے سے میرے ذہن میں کیا چل رہا ہے۔ آنے والی کسی تحریر میں بیان کروں گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments