صفدر ھمدانی کا کوئی ثانی نہیں (2)۔

محترم صفدر ہمدانی نے نشریات کی دنیا میں اپنی آواز کا خوب جادو جگایا۔ اسکرپٹ رائیٹنگ کی بنیاد پر ارباب علم و ادب سے خوب داد سمیٹی۔ لاہور
میں رہتے ہوئے بھی ہوا کے دوش پر ان کی آواز دیس دیس میں پہنچی اور یہ علم و عرفان کے دیپ جلاتے اور آگہی کی روشنی گھر گھر پہنچاتے رہے۔ یہ وہ ہستی ہیں، جنہیں کئی ممالک کے نشریاتی اداروں سے وابستگی کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کے جنوں نے زندگی کے کسی بھی موڑ پر انہیں فارغ بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔ سمندر پار بھی ابلاغیات اور نشریات کی دنیا ہی میں اپنے کمالات اور پیشہ ورانہ جوہر دکھاتے رہے۔ ریڈیو پالینڈ سے بھی وابستہ رہے۔
قریباً چار سال ریڈیو جاپان میں خدمات انجام دے کر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ محترم صفدر ہمدانی کے کیا کہنے۔ یہ دو دہائیوں تک بی بی سی اردو میں بھی اپنے جوہر دکھاتے رہے ہیں۔ اسی لئے جہاں جہاں اردو بولی، پڑھی، سنی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں کے رہنے والے ان کے نام، کام اور کلام سے خوب آشنا ہیں اور آشنا ہی نہیں، بہت سے ملکوں میں ان کے چاہنے والے ان کے گن گاتے نظر آتے ہیں۔
انہیں پاکستان سے ترک سکونت کیے 30 برس ہوچکے ہیں لیکن آج بھی اپنے وطن عزیز میں گزارا ہوا وقت ان کا گراں قدر اثاثہ ہے۔ آپ پورے مان کے ساتھ انہیں برطانیہ میں پاکستان کا خوبصورت چہرہ قرار دے سکتے ہیں۔ انہوں نے 1992 میں برطانیہ کو اپنا وطن ثانی بنایا تھا اور اب 2022 میں یہ دونوں ملکوں کے شہری ہیں لیکن وہاں رہتے ہوئے بھی ان کا دل پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ یہ مغرب کی چکاچوند روشنیوں میں بھی پاکستان کو نہیں بھولے اور ایسے راستے اپنائے کہ پاکستانیوں کی سرگرمیوں سے خود بھی آگاہ رہیں اور دیس دیس کے لوگوں کو ان کی سرگرمیوں کی خبر بھی دیتے رہیں۔
جی ہاں، آپ درست سمجھے ہیں۔ انہوں نے عالمی اخبار کا اجراء اسی لئے کیا تاکہ پاکستان اور پاکستانیوں کی خوبصورتیوں کی جھلک دنیا کو عالمی سطح پر دکھا سکیں۔ 2008 سے نیٹ پر یہ عالمی اخبار دستیاب ہے اور مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے محترم صفدر ہمدانی مستقل مزاجی کے ساتھ اسی ای اخبار کی بنیاد پر ضیافت طبع کا اہتمام کر رہے ہیں۔ یہ وہ پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے ہمارے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان بھی بہم پہنچایا جا رہا ہے اور مختلف شعبوں میں جو کارہائے نمایاں ہمارے پاکستانی انجام دے رہے ہیں، انہیں بھی اجاگر کیا جا رہا ہے۔ یا یوں کہیے کہ ہمارے معاشرے کی جیتی جاگتی تصویریں دنیا کو دکھائی جا رہی ہیں۔ اسی لئے یہ عالمی اخبار مقبولیت کے نئے ریکارڈ بنانے کا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ اخبار اتنے برسوں سے کسی ایک پیسے کے اشتہار کے بغیر شائع بلاناغہ شائع ہوتا ہے
محترم صفدر ہمدانی نے تصنیف، تخلیق اور تالیف کی دنیا میں بھی بڑے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’کفن پہ تحریریں‘ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں ان کی کتابیں ’فرات کے آنسو‘ ۔ مرثیوں کا مجموعہ۔ نور کربل اعزائی شاعری پہ تحقیق۔ اور ’معجزہ قلم‘ رباعیات، قطعات و قصائد کا مجموعہ۔ فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ ان کی تالیف اور تدوین ”کلیات حسین“ حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی۔
اگست 2006 میں ان کا پہلا سفر نامہ ”تہران اور گر عالم مشرق کا جنیوا“ شائع ہوا۔ 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک ”زینت ہستی“ ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا“ کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ”رو رہا ہے آسماں“ مرثیوں کا ایک اور مجموعہ اور غزلوں کے مجموعے ”بادل۔ چاند اور میں“ اور ”گونگی آنکھیں“ زیر ترتیب ہے۔
جہان نعت کے نام سے نعتوں کا ایک انٹرنیٹ مجموعہ اردو ادب کی عالمی ویب سائٹ ریختہ پر بھی موجود ہے
صفدر ہمدانی کی شخصیت و فن پر تحقیقی مقالات بھی لکھے گئے
2012 میں ایجوکیشنل یونیورسٹی لاہور سے ایم اے آر بی ایڈ فائنل کی ایک طالبہ مس مصباح اعظم نے جناب ہمدانی صاحب کی معیاری اور دل سوز ”مرثیہ نگاری“ پر تحقیقی تھیسس لکھ کر کامیابی حاصل کی ہے یہ تھیسس ایک کتاب کی شکل میں چھپ چکی ہے۔
اسکے بعد سیدہ ثمر جعفری نے سیشن 2016۔ 2018 میں اپنا ایم فل کا مقالہ بعنوان صفدر ہمدانی کی ادبی خدمات گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے مکمل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔
۔ ۔
اب گر چہ نہیں اس سے ملاقات مسلسل
برسوں سے تسلسل میں ہے وہ رات مسلسل
حیران ہوں کیوں اتنا مجھے چاہا ہے تم نے
دہراتی رہی وہ یہی اک بات مسلسل
ہے آج بھی تنہائی مری ذات کا حصہ
اس لمحے تلک ہیں وہی حالات مسلسل
بچھڑے ہوئے اس شخص کو گزرا ہے زمانہ
اب بھی ہیں مگر اس کی عنایات مسلسل
وعدہ تھا جدا ہوتے ہوئے رونا نہیں ہے
رہتی ہے مگر آنکھوں میں برسات مسلسل
کچھ درد ہے کچھ آہیں تو کچھ اشک سلگتے
ملتی ہے ترے نام پہ سوغات مسلسل
جس ہات کو صفدر کبھی اس شخص نے چوما
خوشبو سے معطر ہے وہی ہات مسلسل
۔ ۔
مجھ کو اکیلا کر کے بھی تنہا نہیں کہا
اپنا سمجھ لیا مگر اپنا نہیں کہا
بے شک بنایا اس نے ہدف مجھ کو رات دن
جیسا مجھے کہا اسے ویسا نہیں کہا
راہ حیات میں کئی چہرے حسیں ملے
جو کوئی بھی ملا اسے تم سا نہیں کہا
شکر خدا کا درس دیا ماں نے اس طرح
حالات بد پہ بھی کبھی نوحہ نہیں کہا
شطرنج کی بساط پہ کھا کر شکست بھی
بس تھا قصوروار پیادہ نہیں کہا
اک پیاس تھی اگی ہوئی ساحل کی ریت میں
تشنہ لبی کی حد ہے کہ پیاسا نہیں کہا
صفدر یہ میرا ظرف ہے اپنے غنیم کو
دشنام بھی نہ دی اگر اچھا نہیں کہا
۔
اور آخر میں صفدر ہمدانی کا یہ ایک قطعہ بطور خاص کہ یہ دو شعر ان کی قلمی، فکری، سماجی، سیاسی اور ادبی زندگی کے غماز ہیں اور ان دونوں اشعار میں ان کا مزاج اور فلسفہ صاف صاف نظر آتا ہے
حیات ساری میری عشق میں ہوئی ہے بسر
کٹے گا عشق میں باقی جو رہ گیا ہے سفر
گزر گئے ہیں جو بہتر برس مرے صفدر
کسی یزید کے آگے نہیں جھکا ہے سر
صفدر ہمدانی کا کوئی ثانی نہیں ( 2 )
صفدر ہمدانی کا کوئی ثانی نہیں
تحریر و تحقیق ظفر معین بلے جعفری


