فلم ریویو: کملی


لکھنا ایک فن ہے اور لکھاری ایک فنکار، جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے جذبات، احساسات اور نظریات کو الفاظ کا جامہ پہنا کر معاشرے کی تصویر کشی کرتا ہے وہ اپنے مشاہدے کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال کر کاغذ کے سپرد کرتا ہے لیکن اس فن کی معراج اسے پردہ سکرین پر پیش کرنا ہے کہ دیکھنے والا اس سحر سے نہ نکل پائے۔ ہر کردار کی تپش اس کے ذہن پر ثبت ہو جائے اور وہ پردہ سکرین پر رونما ہونے والے فن کا اٹوٹ حصہ بن جائے پردہ سکرین سیاہ رنگ اوڑھ لے لیکن وہ اپنی نشست پر جامد ہو جسم میں سنسنی دوڑ جائے تخیل کے آنگن میں کرداروں کا بسیرا ہو جائے رات کا اندھیرا دن کے اجالے میں بدل جائے اور وہ حقیقت و سحر میں فرق کرنے سے قاصر ہو جائے۔

اگر کوئی فلم دیکھتے ہوئے آپ ان تجربات سے گزریں تو یقیناً وہ فلم ایک لاجواب اور بے مثال آرٹ ورک ہے۔ فلم ”کملی“ بھی ”سرمد کھوسٹ“ کی تخلیقی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ایک ایسا شاہکار ہے جو ایک طویل مدت تک ناظر کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے یہ فلم ایک اچھا شگن ہے اور امید کا ایسا پھول جس کا زرد رنگ پاکستانی فلم بینوں کے انتظار کو ختم کرے گا اور سینماؤں کو آباد۔

مصنف و ہدایتکار:

اس فلم کی کہانی کو جس نے تخلیق کیا قابل داد اور باعث تحسین ہے محترمہ فاطمہ ستار نے اس فلم کے اسکرپٹ کو بڑی خوبصورتی سے لکھا ہے فلم میں استعاروں کا استعمال، مکالمے اور کردار باکمال ہیں۔ فلم میں ہر استعارہ ہمارے اردگرد موجود لاتعداد کہانیوں کی عکاسی کرتا ہے جس پر آگے چل کر تفصیل سے بات کروں گا۔ اس فلم کے ہدایتکار سرمد کھوسٹ ہیں جو پاکستان کا وہ روشن ستارا ہیں جو اس انڈسٹری اور اس سے جڑے ہر شخص کے لئے رہنمائی کا کام کر رہا ہے جس باریک بینی، محنت اور محبت سے سرمد اور ان کی ٹیم نے یہ فلم بنائی قابل داد ہے۔ سرمد نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک جان دار کہانی کو ایک ہنر مند دماغ ہی ایک شاہکار میں بدل سکتا ہے۔

کاسٹ:

اس فلم میں صبا قمر، ثانیہ سعید، نمرہ بچہ، عمیر رانا اور حمزہ خواجہ نے نمایاں کردار ادا کیے ہیں۔ ہر کردار نے سین میں حقیقت کا وہ رنگ پیش کیا ہے کہ بے ساختہ منہ سے داد جاری ہو جائے جذبات اور احساسات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ کردار کی خاموشی بھی ناظرین سے مخاطب ہے۔ ثانیہ سعید اور صبا قمر کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے دونوں نے اپنے کردار کے ساتھ انصاف کیا آپ اگر کوئی جھول تلاش کرنے کی کوشش بھی کریں گے تو بے سود ہے تنگ نظری ہے۔ نمرہ صاحبہ نے بھی اپنے کردار کو خوب نبھایا ہے ان کے تاثرات نہایت جاندار تھے۔ املتاس کا کردار ادا کرنے والے حمزہ کا گیٹ اپ عمدہ ہے گو کہ حمزہ نے اچھا کام کیا ہے لیکن اس کردار میں بہتری کی گنجائش موجود تھی۔

موسیقی، سینماٹوگرافی اور لوکیشن:

کسی بھی فلم کا اہم کردار اس کی لوکیشن ہے اور اس کردار کی روح رقص و موسیقی ہوتی ہے۔ اس فلم کی لوکیشن کا انتخاب نہایت عمدہ ہے اور یہی اس فلم کا سب سے جاندار تاثر ہے۔ سینماٹوگرافی اس قدر خوبصورت ہے کہ ہر سین قابل داد ہے اور اس پر فلم کا اسکور ( بیک گراؤنڈ میوزک ) نہایت متاثر کن ہے۔ ابتدا سے انتہا تک اسکور فلم کے واقعات اور جذباتی اثرات کو پردہ اسکرین پر دلفریب انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس فلم کے گانے آپ کو طویل مدت تک اپنے سحر میں جکڑے رکھیں گے۔

جیو پر انٹرویو میں جب سرمد کھوسٹ سے گانوں کے ناموں کے چناؤ پر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا۔ ”کہ کہانیاں زندگی کی عکاسی کرتی ہیں اور زندگی کی عکاسی کرنے کے لیے آپ کو عناصر چاہئیں، اس لیے آگ، ہوا، پانی اور مٹی کا کمال بھی آپ کو کملی میں نظر آئے گا“ ۔ یوں تو فلم کا ہر گیت ہی لاجواب ہے لیکن ریشماں جی کا گانا سنتے ہوئے جسم میں ایک سنسنی سی جاری ہو جاتی ہے۔ فلم ختم ہو جانے کے بعد بھی کئی منٹوں تک ان کی آواز کے اتار چڑھاؤ میں لپٹا سروں کا سنجوک آپ کے کانوں میں رس گھولتا ہے۔

فلم کی کہانی، بنیادی خیال اور استعارات:

حقوق نسواں کی ایک جرمن خاتون نے کہا تھا: ”میری تاریخ کی کتابیں جھوٹ بولتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میرا وجود نہیں تھا“ ۔ یہی بات اس فلم کا محور و مرکز ہے کہ عورت ایک مکمل تخلیق ہے۔ جس طرح فطرت کی خوبصورتی ہر انسان کو اپنی جانب مائل کرتی ہے اسی طرح عورت کی جبلت میں بھی فطرت کے تمام رنگوں اور مسرتوں کے لیے جذبہ کشش موجود ہے جسے فرسودہ رسم و رواج کی آڑ میں جابرانہ انداز میں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ فلم ہمارے معاشرے میں عورت کے ساتھ روا منفی رویوں اور درپیش مسائل کو بڑی خوبصورتی سے پردہ اسکرین پر پیش کرتی ہے فلم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ عورت ایک حاصل اور قبضہ کی گئی نجی ملکیت نہیں چاہے وہ شادی کے روپ میں ہی کیوں نہ ہو۔

فلم مطلقہ یا بیوہ عورت کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتی ہے کہ جوانی میں طلاق یا بیوہ ہو جانے والی عورت کس طرح اپنی تمام عمر کرب و اذیت میں گزارتی ہے۔ ہندو مت میں بیوہ کی ذات اور شناخت کو نذر آتش کر دیا جاتا تھا ستی کی رسم جس کا آغاز 510 ء میں مدھیا پردیش میں ہوا آج بھی اس کی راکھ سے اٹھتا دھواں ایسی بے شمار داستانیں سناتا ہے۔

ابو الفضل نے ”آئین اکبری“ میں ستی کے بارے میں لکھا ہے کہ ستی کی چار قسمیں ہیں پہلی عورت شوہر کی موت کے غم میں بے ہوش ہو جاتی ہے اور اسے آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔ دوسری وہ جو خود جلنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے تیسری وہ قسم ہے جس میں رسم و رواج کے دباؤ میں جل جاتی ہیں جبکہ چوتھی صورت میں خاوند کے خاندان والے زبردستی جلا دیتے ہیں ” ( تاریخ اور عورت صفحہ 40 )

یہی رویہ روپ بدل کر آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے جہاں ایک مطلقہ یا بیوہ کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور تاحیات وہ دوسروں کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اس کے جذبات، احساسات اور خواہشات کو یا تو دبا دیا جاتا ہے یا نفرت کی آگ میں جلا دیا جاتا ہے۔ لیکن کبھی نہ کبھی فطرت ہر روایت اور رسم و رواج کی زنجیر کو توڑ دیتی ہے اور حنا جیسی داستان جنم لیتی ہے۔

حنا ( صبا قمر) اپنی نابینا نند سکینہ ( ثانیہ سعید) کے ساتھ رہتی ہے اس کا شوہر روزگار کی تلاش میں انجان راستوں کی طرف سفر کرتا ہے لیکن آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اس کی کوئی خبر نہیں۔ حنا ہر سو اس کی تلاش میں دیوانہ وار بھٹکتی ہے اس کا نام پکارتی ہے لیکن اس کی صدا کائنات کی وسعتوں میں کھو جاتی ہے اور پھر وہ خود سے ہم کلام ہوتی ہے اپنے بھیتر من کی گہرائیوں میں پنہاں جذبات کو اجاگر کرتی ہے اور املتاس ( حمزہ خواجہ ) کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے جیسے اسے جینے کی نئی وجہ مل گئی ہو۔ یوں کہانی ایسا موڑ اختیار کرتی ہے کہ دیکھنے والا پلک جھپکنا بھول جاتا ہے اور املتاس کا ذرد رنگ سر جھڑ کر بولتا ہے۔

فلم میں محبت، انتظار، ہجر و وصال اور پچھتاووں کو بڑی خوبصورتی سے استعاروں میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسے ابتدائی سین میں خرگوش کا استعارہ جو جبر و الم کی زنجیروں میں قید حنا کی خاموش آنکھوں سے مخاطب ہو کر اسے محبت، خوشحالی اور نئے دور کی نوید سناتا ہے مادر ارض کی آغوش میں لیٹی حنا ”ناسس“ کی دیوی معلوم ہوتی ہے اس کی آنکھیں گویا قوائے فطرت کی مظہر ہوں۔ کریٹ کی دیوی نے جیسے حنا کا اوتار لے لیا ہو وہی پہاڑ، شیر، فاختہ اور پیڑ کی ڈالیاں اور ڈالیوں میں لپٹی حنا۔

کریٹ کے لوگ جس دیوی کی پوجا کرتے تھے اسے ایک پہاڑ پر کھڑا دکھایا جاتا ہے اور اس کے اطراف شیر پہرہ دیتے دکھائے جاتے ہیں جو اس کی بہادری اور طاقت کا استعارہ ہیں۔ املتاس حنا کو ایک شیر دیتا ہے جسے وہ ہر دم اپنے سینے سے لگا کر رکھتی ہے یا شاید املتاس ہی اس کا شیر ہے۔ وہ اپنی گمشدہ ذات اور شناخت کے حصول کے لئے قدیم رواج، اقدار اور نظریات کا بہادری سے مقابلہ کرتی ہے۔ کریٹ کی دیوی کے اطراف درخت کی شاخیں اور پھول بنائے جاتے تھے جو اس کی فطری جبلت کا استعارہ ہیں کہ محبت و حسن کو زوال نہیں۔

بہار کے آ جانے کہ بعد فطرت اپنا پرانا لباس اتار کر نیا پہنتی ہے فطرت کا یہ رنگ حنا کی زندگی میں زرد چادر اوڑھ کر آتا ہے اور اسے ہر سو املتاس دکھائی دیتا ہے اس کی روح املتاس کی ڈالیوں میں لپٹی ہوئی محسوس ہوتی ہیں املتاس سے اس کا عشق الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ املتاس اپنے نام کی طرح مزاج میں منفرد اور سحر انگیز ہے۔ املتاس کے پیڑ کی خاصیت ہے کہ خزاں میں اس کے پتے گرتے نہیں اور بہار میں آتے نہیں، سنسکرت میں اسے ارگ بدھ ( بیماری کو ختم کرنے والا) کہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حنا بھی اپنے دکھ، درد اور تکلیفوں سے نجات کے لئے املتاس کے عشق میں مبتلا ہو جاتی ہے اور خود کو اس کے سپرد کر دیتی ہے۔

اس فلم کا ایک اور اہم استعارہ فاختہ ہے جو کریٹ کی دیوی کی فاختہ کی مانند ہے۔ کریٹ کی دیوی کے ہاتھوں پر فاختہ بیٹھی ہوئی دکھائی گئی ہے جو معصومیت، محبت اور عفت کی علامت ہے فلم میں دکھائی گئی فاختہ حنا کی معصومیت اور املتاس سے محبت کا استعارہ ہے۔ اسی طرح فلم میں رنگوں کو بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہا جاتا ہے کہ ”رنگ وہ طاقت ہے جو براہ راست دل پر اثر کرتی ہے“ ۔ سرمد کھوسٹ نے رنگوں کا استعمال اس انداز میں کیا ہے کہ دیکھتے ہوئے خوشی، دکھ اور افسردگی کے ملے جلے جذبات کا احساس ہوتا ہے ابتدا میں سرخ رنگ جہاں تکلیف، قربانی اور خطرے کو ظاہر کرتا ہے تو وہیں جرات، محبت اور طاقت کا استعارہ ہے۔

فلم میں سبز، زرد، سفید، نیلے اور اختتام میں سیاہ رنگ کو نہایت عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔ سیاہ رنگ کا لباس زیب تن کیے ہوئے حنا کے کردار میں جو پراسراریت، شجاعت اور ہولناکی دکھائی گئی ہے قابل داد ہے اور صبا کی اداکاری اس استعارے کو چار چاند لگا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ سکینہ کا نابینا پن ہمارے معاشرے کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان دکھائی دیتے ہیں۔

مجموعی طور یہ ایک لاجواب فلم ہے جس انداز میں یہ اپنے موضوع کو اجاگر کرتی ہے وہ ذرا ہٹ کے اور خاص ہے کہانی کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ناظر خود اس کی سمت کا تعین کرے اور معانی اخذ کرے اور یہی بات اس فلم کو خاص الخاص بناتی ہے۔ اگر آپ بھی انہی تجربات سے آشنا ہونا چاہتے ہیں تو یہ فلم سینما میں آپ کی منتظر ہے آپ کو ایسی دنیا سے متعارف کروانے کے لئے جس کے حصار سے جلد نکل پانا مشکل ہے۔

حوالہ جات
تاریخ اور عورت از ڈاکٹر مبارک
خدا اور تصور خدا از علامہ نیاز فتح پوری
روزنامہ جنگ

Facebook Comments HS