کیا دعا زہرا کیس میں انصاف ہوا؟


پاکستان میں غیر مسلم (ہندو، مسیحی) بچیوں کی کم عمری کی شادی کے قانونی اور مذہبی تحفظ کے لئے قانونی طریقہ یا قانونی چھت بالکل وہی استعمال کی جاتی ہے جو کچھ دن پہلے دعا زہرا کے کیس میں استعمال کیا گیا۔ اور جس طرح دعا زہرا کے والدین کے روتے ہوئے ملک کے باسیوں نے دیکھا ویسے ہی مسیحی اور ہندو بچیوں کے والدین روز ان عدالتوں میں روتے ہیں فرق اتنا سا ہے کہ کوئی مین سٹریم میڈیا دکھانے کی جسارت نہیں کرتا۔ اور افسوس ہوتا ہے ان قانون سازوں اور قانون پر عملدرآمد کروانے والوں کے رویوں پر جو معاشرے میں انصاف قائم کرنے کی بجائے قانون بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ قانون انسانوں کے لیے ہوتے ہیں نا کہ انسان قانون کے لئے۔

دعا زہرا ایک کم سن بچی تھی جس کا تعلق کراچی سے ہے۔ جس کے لاپتہ ہونے کے بارے میں گزشتہ ماہ اس کے والدین نے ایک ایف آئی آر کٹوائی اور الزام عائد کیا کہ ہماری بچی کو کسی نے اغوا کر لیا ہے لہٰذا ملزمان کو پکڑ کر ہماری بیٹی کو بازیاب کروایا جائے۔ دو صوبوں کی پولیس نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، میڈیا نے ساتھ دیا اور عدالت نے ایک آئی جی کو کام کرنے سے روکا تب جا پاکستان میں سے مغویہ کو برآمد کیا گیا اور عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت نے دوبارہ گزشتہ سے پیوستہ کیسز کی طرح روایتی انداز سے کیس کی سماعت کی اور وہی عدالتی نظائر اور قانون بتائے گئے کہ مغویہ کے بیان کی روشنی میں اغوا ثابت نہ ہوتا ہے۔ والدین نے بذریعہ کونسل جب مدعا اٹھا یا کہ ہماری بیٹی کم سن ہے نا بالغ ہے اور گورنمنٹ کا جاری کردہ ب فارم اور پیدائشی سرٹیفکیٹ اور والدین نے اپنا نکاح نامہ پیش کیا مگر ان ثبوتوں کو عدالت نے ایک طرف رکھتے ہوئے عمر کے تعین کو میڈیکل ٹیسٹ کے ساتھ مشروط کر دیا۔ دعا زہرا کے والد دہائی دیتے رہ گئے کہ میری شادی کو اتنے سال نہیں ہوئے جتنی میڈیکل رپورٹ میں میری بیٹی کی عمر بتائی جا رہی ہے۔ حالانکہ میڈیکل رپورٹ بھی سرکاری دستاویز ہے اور نکاح نامہ اور برتھ سرٹیفکیٹ بھی، مگر عدالت نے کس کو قبول کرنا ہے یہ عدالت کی مرضی ہے۔

اسی کیس میں سپریم کورٹ فیصلہ جاری کرتی ہے کہ اگر چہ بچی کی عمر کم بھی ہوئی تو بھی نکاح غیر قانونی نہیں مانا جائے گا۔ تو سوال تو بنتا ہے کہ بھئی یہ چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ کیا ہے اور کیوں ہے؟ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 375 کے سب سیکشن 5 میں زنا کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے ”کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے انٹر کورس کرتا ہے چاہے اس میں عورت کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو۔ تو اگر عورت کی عمر سولہ سال یا اس سے کم ہے تو وہ زنا کے زمرے میں آئے گا۔“

مگر کورٹس کی مرضی ہے انہوں نے کس قانون کو دیکھنا ہے اور کس قانون کو بچا نا ہے۔ ایک پل کے لئے اگر دیکھیں کہ عدالت نے دعا زہرا کی مرضی کو مقدم جانا تو سوال بنتا ہے کہ کیا سولہ سترہ سال کی بچی شادی کے عمل اور شادی شدہ زندگی کے لئے تیار ہوتی ہے؟ کیا یہی انصاف ہے کہ معاشرے میں بچوں کو کنویں اس لئے دھکیل دیا جائے کیونکہ اس میں ان کی مرضی ہے؟

ایسا ہی ایک کیس فیصل آباد میں انتظامی غفلت اور عدالتی نظائر کی نظر ہو رہا ہے اور مغویہ چشمان دختر گلزار مسیح آٹھ ماہ سے چائلڈ میرج ایکٹ کے ایف آئی آر ہونے کے باوجود ابھی تک بازیاب نہیں ہو سکی۔ چشمان ولد گلزار مسیح کا والد ایک رکشہ ڈرائیور ہے اور اپنے خاندان کا واحد سہارا ہے ان حالات میں بھی وہ عدالتوں میں اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ ایک بڑا مشہور قانون محاورہ ہے کہ ”انصاف میں تاخیر بھی نا انصافی کے مترادف ہے“ اور صاف عیاں ہے کہ ایک دن وہ تھک جائے گا یا مالی حالات سے ہار جائے گا اور کیس کا پیچھا کرنا چھوڑ دے گا تو اس کا کیس خود ہی ختم ہو جائے گا۔ مگر سوال پھر وہی کہ قانون تو بچ گئے مگر کیا گلزار مسیح کو انصاف ملا؟

بنیادی طور پر معاشرے میں انصاف قائم کرنے کے لئے اور معاشرے کے افراد کو انصاف پہنچانے کے لئے قوانین کا قیام اور نفاذ کیا جاتا ہے۔ مگر کم عمری کی شادی کے کیسز میں گزشتہ کئی سالوں سے ایک ہی طریقہ کار کے ذریعے والدین کو اپنی بیٹیوں سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ ناصرف اقلیتی خاندان بلکہ بہت سارے مسلم خاندان ایسے دکھ جھیل رہے ہیں جن میں کم سن بچیاں اپنے والدین سے دور مردوں کی جنسی تسکین کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔ ان حالات میں والدین کے پاس عدالت کے علاوہ کوئی فورم نہیں بچتا مگر عدالتوں انصاف کی بجائے قوانین کی رکھوالی بنی ہوئی ہیں۔

ایسے میں عدالتوں کو دوبارہ سے دیکھنا چاہیے کہ کم از کم کم عمری کی شادیوں کو آپ صرف دفعہ 64 کے بیانوں کی نظر میں تحفظ فراہم نہ کریں کیونکہ اگر اس کے ساتھ دیگر قوانین کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ عدالت شادی کو نہیں بلکہ زنا کاری کو تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح قانون ساز چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ کو دوبارہ دیکھیں آ یا یہ قانون کم سن بچیوں کو تحفظ فراہم بھی کر رہا ہے؟ اس کے بعد پولیس کو کم سن بچیوں کے اغوا اور شادی کے کیسز روایتی انداز میں نہ دیکھے بلکہ ان کیسز میں دیگر ملکی قوانین عدالتی نظائر جیسے چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ، ویمن ہراسمنٹ ایکٹ، جسٹس رمدے صاحب کے کم عمری کی شادی کے متعلق فیصلے کو دیکھیں تا کہ معاشرے کو بچایا جا سکے نا کہ قوانین کو بچانے کے لیے کم سن بچیوں کو یکے بعد دیگرے قربان کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا دعا زہرا کیس میں انصاف ہوا؟

  • 27/06/2022 at 1:23 شام
    Permalink

    خوبصورت تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.