گالی بھی اور مدد بھی


ہمارے قومی بجٹ کے خد و خال 31 جولائی تک مکمل طور پر پر ظاہر ہو چکے ہوں گے۔ یکم جولائی سے نیا مالی سال شروع ہو گا مگر ٹیکس کے اثرات جو اب بھی واضح ہو رہے ہیں جولائی کے آخری ہفتہ میں ہر کوئی ٹیکس کی شرح میں اضافے پر سیخ پا ہو گا۔ حکومت کے پاس بھی کوئی حل نہیں ہو گا اور نہ ہی عوام کو کسی صورت کوئی دلاسا دینے والا بچے گا۔ بات آ جائے کہ ریاست ہو گی تو ہم بھی ہوں گے اگر ریاست دیوالیہ ہو گئی تو نوٹ کس کام کے؟ تجارت تو ڈالروں میں ہونی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق اگلے مالی سال میں چالیس ارب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ گویا نہ نو من تیل ہو گیا نہ رادھا ناچے گی۔

گیس، تیل، خوراک ادویات کا خام مال، مشینری غرض ہر شے ڈالروں سے ہی آئے گی اور ان کے آنے کی کوئی امید نہیں اور جو کچھ ہے وہ قرض اور بیرون ملک پاکستانیوں کے خاندانوں کے نام پر ہی آ سکیں گے۔ یہ ڈالر تو قرض کی قسط بھی ادا نہیں کر سکتے تو پھر علاج کیا ہے؟ بس ایک ہی علاج ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کروفر سے آزاد کریں۔ سادگی اپنائیں، بچت کریں اور ذرائع آمدن گویا ٹیکس میں جہاں کہیں کمی ہے اس کو پورا کریں۔ ہمارے خراب ترین حالات میں قرض، اس کی ادائیگی، تیل، بجلی گیس، خوراک ہی تو ہے اور خرابی کہاں رہ گئی باقی۔ جو رہ گئی وہ ہمارے سیاسی نظام کے نذر ہو رہی ہے۔ چور بھی کہے چور، ڈاکو بھی کہے ڈاکو، پولیس والا چور، کچہری والا چور، سپاہی چور، افسر چور کو بنارسی ٹھگوں ہی کی کمی باقی رہتی ہے ان کی اکثریت رہائشی سکیموں کے نام پر کام کر رہی ہے۔

جب معاشی خود مختاری نہ ہو گی تو پھر استحکام کہاں سے آئے گا؟ جوان حالات میں خوبصورت تصویر بنا کر دے رہا ہے وہ اندھا ہے اور ہمیں بھی اندھا کرنا چاہتا ہے، معاشی استحکام کے لئے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور ہمارے ہاں بس کچھ ہو گا بس سیاسی استحکام نہ ہو سکے گا۔ ہمارے سیاسی معاملات میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، لیبیا، ایران، برطانیہ، امریکہ کی دخل اندازی کے قصے تو 70 کی دہائی سے سنے جا رہے ہیں۔ جب فرصت ملی اس کو بھی گھسیٹ لیا۔ چین تو ہمارا ایسا دوست ہے جس کے ذمہ دار اب سر عام شکوہ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

کوئی عام آدمی یا سیاسی کارکن شور مچائے تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر جب سابق وزرائے اعظم، وزرا ، سیاسی رہبر، قومی سیاسی قیادت کھلے عام غیر سیاسی، غیر سفارتی، بازاری زبان استعمال کرے تو اس کے دو ہی مطلب سمجھ آتے ہیں، اولاً مجھے کیوں نکالا؟ دوئم مجھے واپس لاؤ، گویا جس حکیم کی دوائی سے آرام نہیں آیا اسی کے مطب کے دروازے دوبارہ کھولو۔

اقتدار اور طاقت دونوں میں بے شمار طاقت اور شہ زور پن ہوا کرتا ہے۔ دونوں کے لئے ہر سیاسی جماعت عوام کو گمراہ کر سکتی ہے اور روز اول سے یہی طریقہ رائج ہے کہ جمہوریت کی بالادستی کے لئے عوام کے نام پر انہی کو دھوکہ دو ۔ دنیا بھر میں بزدل عوام کا ایک ہی خاص گروہ کسی ایک رنگ باز، شعبدہ باز، سیاسی گرو کے گرد اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے اور اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کے حصول کے لئے منظم ہو جاتا ہے اور بعد ازاں اس کی تنظیم سازی کرتا ہے۔ پھر عوامی جلسے اور جلوس شروع ہو جاتے ہیں جن کا مقصد ہمدردی اور صرف ہمدردی ہوا کرتا ہے۔ یہ گرمجوشی اور تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتے ہیں اور ایک مرحلہ پر یہ سب کچھ کرنا اور کروانا خوشی میں تبدیل ہو جاتا ہے، جذبات غالب آ جاتے ہیں اور پھر مفاد پرستی اور انا اپنی انتہا کو پہنچ کر کچھ بھی کروا اور کر سکتی ہے۔ بس طاقت کا نشہ قریب آ جاتا ہے اور فہم و فراست، عقل و دانش، انسانیت حتیٰ کہ ذات کا تصور بھی دم توڑ دیتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ سیاستدانوں فتنہ و فساد برپا نہ ہونے دو ۔ کہ تم تو پہلے ہی۔ بے سروسامانی کی حالت میں ہو۔ جب تک تم خود کمزور، نحیف ہو۔ پہلے اپنی فکر کرو۔ پہلے خود کو سنبھالو۔

اب ذرا غور فرمائیں ہمارے ملک میں نہ معاشی استحکام، نہ سیاسی استحکام ہے، نہ سماجی رشتوں کا احترام ہے، زبان ایسی کانٹے دار کہ گالی دینے کی ضرورت ہی نہیں بس کیا ہوا گالی سے کم تھوڑا ہے۔

قوموں کی زندگی میں کٹھن وقت آیا ہی کرتے ہیں جو عدل و انصاف کے ساتھ اپنا برا وقت کاٹ لیتی ہیں وہ جرمنی، جاپان کی صورت میں اپنی مثال آپ بن جاتی ہیں۔ جہاں انصاف نا پید ہو یا تاخیر کا شکار ہو یا سفارش کے تابع آ جائے ان نسلوں اور قوموں کا نصیب انحطاط اور بد انتظامی ہی رہ جاتا ہے۔ ہم اگر اپنے گریبان میں جھانک کر شرمندگی اور بے حیائی، جھوٹ مکر، مکاری، فراڈ، دھوکہ، فریب اور بے بسی کے علاوہ کچھ نہیں۔ پھر بھی ہم ڈھٹائی کے ساتھ اپنا جھوٹا مقدمہ لڑنے کے لئے بضد ہیں۔ جناب عمران خان بغیر سہولت کاروں کے صرف ایک ادھار لی ہوئی نشست کے مقامی لیڈر تھے۔ ایک منظم تشہیری مہم کے جدید تقاضوں سے واقف دوستوں یا ضرورت مندوں نے ان کی آنکھیں بند کر کے دن رات مدد کی۔ تمام وسائل ان کے قدموں میں ڈال دیے۔

بہت عرصہ سے پاکستان میں قومی حکومت کا نعرہ بلند ہو رہا تھا، آگ اور پانی ملاپ کر کے درجن بھر چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک مشترکہ معاشی و اقتصادی پروگرام پر اتفاق رائے قائم کر کے سیاسی معاملات کو بھی حل کرنا شروع کر رکھا ہے، ایسے میں یا تو اتفاق رائے قائم کریں بصورت دیگر قومی اسمبلی میں اٹھاتے ہوئے اپنی حلف جس میں لکھا ہے کہ ”میں صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی و وفادار رہوں گا کہ بحیثیت رکن قومی اسمبلی میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور، قانون اور اسمبلی کے قواعد کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری، سالمیت، استحکام، یکجہتی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا“ ۔

پی ٹی آئی جن کو غدار کہہ رہی ہے، جس وردی کو گالی نکال رہی ہے ان سے غیر آئینی مدد کی بھی طالب ہے ہر کوئی جانتا ہے کہ جان نثار کرنے والے جوان غدار نہیں ہوتے بلکہ شہید یا غازی ہوا کرتے ہیں اور شہید زندہ ہوا کرتے ہیں۔ سیاست اور طاقت و اقتدار کی خاطر ملک میں آگ کا کھیل کھیل کر کس کی خواہش پوری کی جا رہی ہے؟ شخصیات سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر مادر وطن کے لئے صرف قربانی دی جا سکتی ہے۔ اپنا فرض ادا کریں، اسمبلی میں واپس جائیں اور کوئی راستہ زیب نہیں دیتا۔ سروں کے درخت پر پھل نہیں آتا اور نہ ہی اس کی جھاڑی گھنی ہوتی ہے ہر کسی کو اپنے اصل کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ضد رسوا کر وا دیتی ہے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ابھی کم از کم دس سال پاکستان کے لئے بہت ہی مشکل ہیں۔ ان میں سیاست تبھی ہو گی جب ملک ہو گا اور یہ انشا اللہ رہے گا اور مضبوط ہو گا۔


عظیم چوہدری

عظیم چوہدری پچھلے بیالیس سالوں سے صحافت اور سیاست میں بیک وقت مصروف عمل ہیں ان سے رابطہ ma.chaudhary@hotmail.com پر کیا جاسکتا ہے

azeem-chaudhary has 39 posts and counting.See all posts by azeem-chaudhary