کیا بچپن کے منفی تجربات ہماری صحت اور شخصیت کے لیے نقصان دہ ہیں


اسلم کی عمر پینتالیس برس کے لگ بھگ ہے۔ اس کی زندگی کے پہلے سات سال تو بہت خوب تھے۔ پڑھائی، کھیل کود اور دوستیاں سبھی کچھ تھا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں کیا ہوا کہ اسلم اچانک خاموش اور الگ تھلگ رہنے لگا۔ اس نے اپنی عمر کے پچھلے اڑتیس برس بہت بے لطف گزارے ہیں۔ اس کا کوئی دوست نہیں۔ پڑھائی پر کافی زور لگایا لیکن یونیورسٹی ڈگری مکمل نہ کر سکا۔ گھر والوں کے شدید اسرار کے باوجود شادی نہیں کی۔ کیا ہوا کہ اسلم کی ساری زندگی تباہ ہو کر رہ گئی۔ ایک سوشل ورکر کی مدد سے اسلم نے اب ایک نفسیاتی معالج سے ملنا شروع کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ آٹھ سال کی عمر میں ایک پڑوسی نے اسلم کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

آج سے بیس برس قبل امریکہ میں سی ڈی سی نے ہسپتالوں کے ایک بڑے نظام کائزر پر ماننٹے کے ساتھ مل کر بچپن کے منفی تجربات کے حوالے سے ایک تحقیق کی تھی۔ اس تحقیق کے لیے سترہ ہزار پانچ سو بالغ لوگوں کو انٹرویو کیا گیا اور ان کے ساتھ بچپن میں پیش آنے والے منفی واقعات یا تجربات کے متعلق پوچھا گیا۔ اس سٹڈی کا سوال نامہ بہت آسان تھا۔ اس میں دس سوالات شامل تھے جن کے جوابات صرف ”ہاں“ یا ”نہ“ میں دینا تھے۔ یہ دس سوالات، امکانی طور پر، بچپن میں پیش آنے والے جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد اور عدم توجہی کا احاطہ کرتے ہیں۔ یہ بتاتا چلوں کہ گھر میں ماں شدید پریشان ہو یا اس کے خلاف تشدد ہوتا ہو، گھر کا کوئی شخص جیل کاٹ رہا ہو یا نشے کا عادی ہو تو یہ بھی بچوں کے لیے ایک شدید منفی تجربہ ہوتا ہے۔

جسمانی، جنسی اور ذہنی تشدد اور عدم توجہی کی دس اقسام کے متعلق دس سوالات پوچھے گئے۔ سترہ ہزار پانچ سو لوگوں سے اکٹھے کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تو ہوشربا حقائق سامنے آئے۔ ہر تین میں سے دو لوگوں نے کم از کم ایک سوال کا جواب ہاں میں دیا۔ صرف یہی نہیں ہر آٹھ میں سے ایک شخص کو بچپن میں چار یا اس سے زیادہ اقسام کا تشدد اور عدم توجہی برداشت کرنا پڑی۔

مزید تحقیق اور تجزیے سے یہ معلوم ہوا کہ بچپن میں منفی تجربات سے گزرنے والے افراد کو اپنی باقی زندگی میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی شخص کو بچپن میں چار یا اس سے زیادہ قسم کے تشدد اور عدم توجہی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو باقی زندگی یعنی جوانی اور بڑھاپے میں بیماریوں کے امکانات اور شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مثال کے طور پر شوگر کی بیماری کے امکانات ڈیڑھ گنا، دل کی بیماری دو گنا، سٹروک اڑھائی گنا، پھیپھڑوں کی بیماری چار گنا اور الزائمر کے امکانات ساڑھے چار گنا بڑھ جاتے ہیں۔ مضر اثرات کی لسٹ کافی لمبی ہے۔ اس تحقیق کے مطابق وہ لوگ جن کا بچپن کے منفی تجربات کا سکور چھ یا اس سے زیادہ ہے ان کی متوقع اوسط عمر ان اشخاص کے مقابلے میں بیس سال کم ہوتی ہے جنہوں نے بچپن میں ایک بھی منفی تجربے کا سامنا نہیں کیا۔

ڈاکٹر ناڈین برک ہیرس اپنے ایک لیکچر میں، جو کہ یوٹیوب پر موجود ہے، اس تمام کہانی کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ بچپن کے منفی تجربات اور ان کے دور رس اثرات کو ایک کہانی کے ذریعے آسان بنا کر سمجھاتی ہیں۔

فرض کریں کہ آپ جنگل میں جا رہے ہیں اور اچانک آپ کا سامنا ایک خونخوار درندے سے ہو جائے۔ اس خطرے کو دیکھ کر آپ کا جسم اور دماغ اس پر فوراً شدید ردعمل دکھاتا ہے کہ آپ نے اس درندے سے اپنی جان کیسے بچانی ہے۔ لڑ کر یا بھاگ کر۔ آپ کے جسم میں کیمیکلز اور ہارمونز کا ایک طوفان آتا ہے۔ کسی بھی خطرے اور خوف کے سامنے یہ رد عمل قدرتی اور خودکار ہے۔ تمام حیوانات کا یہی ردعمل ہوتا ہے۔ یہ زندہ رہنے کی کروڑوں سال کی جدوجہد نے ہمارے ڈی این اے میں ڈال دیا ہے۔

یاد رہے کہ جنگل میں درندے کے ساتھ سامنا ہونے کا واقعہ زندگی میں ایک آدھ مرتبہ ہی ہوتا ہے۔ لیکن اگر ایک بچے کے ساتھ گھر میں کوئی تشدد یا ابیوز ہوتا ہے تو یوں سمجھیں کہ درندہ ہر شام کو گھر آتا ہے اور بچے کے اندر یہ کیمیکلز اور ہارمونز کا طوفان ہر روز آتا ہے۔ اس وجہ سے بچے کی جسمانی اور ذہنی صحت پر بہت برے اور دور رس اثرات ہوتے ہیں۔ کیونکہ بچہ بہت چھوٹا اور کمزور ہوتا ہے اور اس کے خوف بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

مختصراً یہ بات اب سائنسی طور پر ثابت ہے کہ اگر کسی بچے کو اپنے بچپن میں تفریق، تشدد اور استحصال کا سامنا ہو تو اس سے اس کی شخصیت بہت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ بچے کا ذہن پوری طرح پروان نہیں چڑھتا اور اس کی ساری زندگی تباہ ہو سکتی ہے جیسے کہ اوپر بیان کیے گئے واقعے میں اسلم کے ساتھ ہوا۔ ایک امید افزاء بات یہ ہے کہ ان منفی اثرات کو نفسیاتی علاج کے ذریعے بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ امیر دنیا نے اس مسئلے کو پکڑ لیا ہے اور ایسے نظام بنانے میں لگے رہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو بچپن کے منفی تجربات سے بچایا جا سکے۔ اور جن بچوں کو اس مشکل کا سامنا ہو ان تک جلد از جلد پہنچا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔ ان حالات سے نکالا جائے۔

پاکستان میں بھی اس سلسلے میں کچھ کام شروع ہوا ہے۔ ہم اب اس سٹیج پر ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے قوانین بن گئے ہیں اور تحفظ کا نظام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کئی صوبوں میں تو ہیلپ لائن نے کام شروع کر دیا ہے۔

نوٹ: یہ ادھورا سا آرٹیکل جس لیکچر کی بنیاد پر لکھا گیا ہے اس کا لنک درج ذیل ہے۔ ایک گھنٹے کا یہ لیکچر سننے سے تعلق رکھتا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 325 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments