جنگی معیشت سے خود انحصاری کا سفر مشکل ہو گا


کئی دہائیوں بعد پاکستانی ریاست کو اندازہ ہو رہا ہے کہ کسی بڑی طاقت کو اس کی عسکری صلاحیتوں کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی اسٹریٹیجک اہمیت کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔ اب ملکی معیشت کا بوجھ بھی خود ہی اٹھانا ہے اور سروسز فراہم کرنے کے لئے جو بھاری بھر کم انتظامی ڈھانچہ اور مزاج استوار کیا گیا ہے، اسے حالات حاضرہ کے مطابق تبدیل کرنے کا کام بھی خود ہی کرنا ہو گا۔

اگرچہ یہ صورت حال اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ افغانستان میں امریکہ کی دلچسپی ختم ہونے کے بعد سے اس کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے تھے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں حکمرانی کے نظام پر دسترس رکھنے والے عناصر اس تبدیلی کا بروقت اور درست اندازہ قائم نہیں کرسکے۔ اور جب حالات کی دستبرد سے پیدا ہونے والے موقع میں طالبان نے اچانک کابل پر قبضہ کر لیا تو پاکستانی اشرافیہ یہ اندازے قائم کر کے ہی خوش ہوتی رہی کہ امریکی فوجیوں کو افغانستان سے نکلنے میں مدد فراہم کر کے، ایسی گراں مایہ خدمت سرانجام دی گئی ہے کہ اب مزید چند برس تک امریکہ کی نظر عنایت جاری رہے گی اور معاملات پہلے جیسی خوش اسلوبی سے چلتے رہیں گے۔ یہ اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ایک طرف امریکہ کی عالمی ترجیحات میں تبدیلیاں نمایاں ہونے لگیں اور دوسری طرف یوکرائن پر روسی حملہ سے پیدا ہونے والے حالات نے عالمی منظر نامہ پر معاشی، سفارتی اور سیاسی اثرات مرتب کیے۔ پاکستان اس صورت حال کا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

پاکستانی سیاست کے دونوں دھڑے اس وقت ملکی معاشی ابتری کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہوئے اپنے آپ کو پاکستانی عوام کے سامنے مسیحا کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں لیکن حقیقت بہر حال یہی ہے کہ ملک کو اس وقت جن حالات اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے، ان کا تعلق گزشتہ ساٹھ ستر برس کے دوران اختیار کی گئی پالیسیوں سے ہے، جو اب ملکی ضرورتیں پورا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایک دوسرے کو مطعون کرنے کی موجودہ سیاسی فضا میں یہ جاننے کی کوئی ٹھوس کوشش بھی نہیں کی جا سکی کہ گزشتہ چھے سات دہائیوں کے دوران ملکی معیشت کو کن بیساکھیوں کے سہارے چلانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ بادی النظر میں پاکستان کو جن مسائل اور صورت حال کا سامنا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ ملک کو جنگی معیشت کا عادی بنا دیا گیا ہے۔ اب چونکہ علاقے میں کوئی ایسی جنگ برپا نہیں ہے جس میں پاکستان کی ضرورت محسوس ہو۔ اس علاقے کے عالمی اسٹریٹیجک منصوبوں میں چونکہ پاکستان کا کوئی متعین کردار نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ وسائل محدود ہوچکے ہیں جن کی بنیاد پر ملکی ’جنگی معیشت‘ کامیابی سے متحرک رہی تھی اور دیگر شعبوں کے معاملات میں بھی کسی نہ کسی طور پاکستان کے عسکری کردار کی بدولت سہولت بہم پہنچتی رہی۔ ان میں آئی ایم ایف کے ذریعے وسائل کی فراہمی اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں تک رسائی کے معاملات سر فہرست ہیں۔

ملکی معیشت کا مرض سمجھنے کے لئے ماضی قریب کے تناظر میں یہ جائزہ لینا ضروری ہو گا کہ کس طرح پاکستان نے آزادی کے بعد کے پہلے ہی عشرہ میں دنیا کی اسٹریٹیجک تقسیم کے ماحول میں امریکہ کا حلیف بننے اور عالمی سطح پر غیر جانبداری کی بجائے جانبداری کا اعلان کرنا ضروری سمجھا۔ ایک سپر پاور کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کا یہ فائدہ تو ضرور ہوا کہ پاکستانی افواج کو امریکی امداد ملنے لگی اور پاکستان کو کمیونسٹ بلاک یا سویت یونین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے امریکہ اور اس کے دیگر حلیف ممالک کی طرف سے معاشی سہارا بھی دیا جاتا رہا۔ اب کئی دہائیاں بیتنے کے بعد اس صورت حال کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ آزادی کے بعد پاکستانی قیادت نے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی معیشت کو خود کفالت کی بنیادوں پر استوار کیا۔ پہلے سیٹو سینٹو کے رکن ملک کے طور پر پاکستان امریکہ کا چہیتا بنا رہا۔ یہ دور گزرنے کے فوری بعد سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ہو گیا۔

بنگلہ دیش کے قیام اور مغربی پاکستان کو پاکستان قرار دینے کے بعد نئے سفر کے اس دورانیے میں اگر پاکستان اور بنگلہ دیش کی معاشی سرگرمی کا جائزہ لیا جائے تو بھی یہی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ بنگلہ دیش نے کسی عالمی یا علاقائی جنگ میں فریق بننے کی بجائے ملکی معیشت کو بہتر بنانے، برآمدات پر توجہ دینے اور بہت بڑی اور اور بے ہنگم فوج استوار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ 1971 کی جنگ میں شکست کے بعد جنگی قیدیوں اور ملکی تقسیم سے پیدا ہونے والے نئے چیلنجز میں اگرچہ پاکستان کے لئے نئے اہداف متعین کرنے اور ملک کو خود انحصاری کی راہ پر چلانے کا ایک زریں موقع موجود تھا لیکن پاکستان اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو چند برسوں میں ہی ایک فوجی بغاوت کے ذریعے برطرف کر کے ملک پر طویل آمریت کا دور مسلط کر دیا گیا۔ گویا فوجی قیادت نے 1971 کے واقعات سے سبق سیکھنے اور ملکی افواج کو غیر سیاسی بنیادوں پر آگے بڑھانے کی بجائے بدستور خود کو ملکی مفادات کا ’محافظ‘ سمجھتے ہوئے ایک منتخب سول حکومت اور متفقہ طور سے منظور کیے گئے آئین کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جنرل ضیا کی بغاوت کا سب سے تاریک پہلو یہی ہے کہ اس دور میں فوج کو ملکی سیاست کا باقاعدہ حصہ دار بنا دیا گیا۔ جنرل ضیا الحق نے اگرچہ 90 روز میں انتخابات کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن نوے روز کی یہ مدت اگست 1988 میں ان کی موت پر ہی ختم ہو سکی۔ اس کے بعد بحال ہونے والی ٹوٹی پھوٹی جمہوریت کو کمزور کرنے کے لئے مسلسل عسکری ادارے متحرک رہے۔

ضیا الحق نے اپنے اقتدار کو تسلسل دینے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا اور ہر پینترا بدلا۔ ان میں ملک میں اسلامی نظام لانے کا دعویٰ سب سے بڑا دھوکہ تھا جس کے لگائے ہوئے زخموں سے ملکی معیشت ہی نہیں ملکی سماج اور سوچ تک مجروح ہوئی۔ اسی دور میں افغانستان پر سوویت حملہ کے بعد پاکستان نے جس طرح امریکہ کا فرنٹ مین بن کر جہادی تحریک شروع کی اور بزعم خویش کمیونزم اور سوویت یونین کو ’شکست‘ سے دوچار کیا، اسی کے بطن سے نائن الیون برآمد ہوا جس نے اس علاقے اور مشرق وسطی کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا۔ ضیا کے دور کے بعد پرویز مشرف نے افغانستان کے جنگ و جدل میں امریکہ کا حصہ دار بن کر مالی فوائد حاصل کیے اور ملکی معیشت بدستور پاکستان کے عسکری کردار کی وجہ سے جنگی معیشت میں تبدیل ہوتی رہی۔

افغانستان میں جنرل ضیا الحق کی جہادی کاوشوں ہی کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں نے پاکستان میں آنا شروع کیا۔ اس طرح پاکستانی معیشت کو ایک طرف پناہ گزین پالیسی سے ’مضبوط‘ کرنے کی کوشش کی گئی تو دوسری طرف منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کی وجہ سے ہتھیار بند گروہ مضبوط ہونے لگے اور ملک میں غیر رجسٹرڈ معیشت کے حجم میں بھی اضافہ ہوا۔ دیکھا جائے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ اس وقت پاکستان کو منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے سلسلہ میں جس تنازعہ کا سامنا ہے، اس کی بنیاد دراصل ضیا دور میں ہی رکھی گئی تھی۔ دوسری افغان جنگ کے دوران پاکستانی فوج و حکومت کی دو عملی کی وجہ سے اصلاح احوال کی بجائے معاملات میں مسلسل بگاڑ پیدا ہوا۔ اسی کا نتیجہ ہے امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو حلیف بنانے کے باوجود اس پر اعتبار کرنا بند کر دیا۔

پاکستان افغان طالبان کے ساتھ امریکی مفاہمت کا کریڈٹ لینے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن واشنگٹن اس قضیہ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں شبہات رکھتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر دوحہ مذاکرات کے دوران جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کا دورہ کیا تو پاکستانی حکومت کا فوکس طالبان کے ساتھ امریکی معاہدہ میں اپنے کردار تک محدود تھا۔ اس دور میں وزیر خارجہ یا وزیر اعظم کے بیانات کا مطالعہ کیا جائے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اس کردار کی بدولت مسلسل امریکی سرپرستی کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ پاکستان کی یہ امید پوری نہیں ہوئی اور پاکستان دشمن بیان بازی میں مشہور ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو دوست قرار دینے والے عمران خان نے اپنے خلاف عدم اعتماد سے پہلے ’امریکی سازش‘ کا نعرہ بلند کرنے لگے۔ اسے اب تک پورے شد و مد سے فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس تنازعہ میں یہ سادہ سی سچائی سمجھنے سے گریز کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کو اب اسٹریٹیجک حوالے سے وہ اہمیت حاصل نہیں ہے کہ امریکہ ایک بار پھر پاکستان کی ’جنگی معیشت‘ کو سہارا دینے کی کوشش کرے گا۔ جنگی خدمات فراہم کرنے کی صنعت کمزور ہونے کے دوران پاک چین اقتصادی معاہدہ کی صورت میں پاکستان کے پاس ملکی معیشت کو جنگی سے خود انحصاری کی طرف موڑنے کا اہم موقع ضرور موجود تھا لیکن ملکی عسکری اداروں نے جمہوری نظام پر دسترس قائم رکھنے کے لئے اس منصوبہ کے فوائد کو محدود کر دیا۔ گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں میں غیر ضروری اضافہ اور سی پیک کے حوالے سے پیدا ہونے والی الجھنوں نے ملک کے لئے نئے مسائل کو جنم دیا ہے۔

ملکی نظام میں سیاسی و عسکری حلقوں کی کھینچا تانی کی وجہ سے ملکی قیادت سی پیک کی فنانسنگ میں نجی چینی بنکوں کے کردار اور ان کے ذریعے حاصل ہونے والے مالی وسائل سے پیدا ہونے والے مسائل کا اندازہ کرنے اور انہیں حل کرنے کا کوئی منصوبہ بنانے میں بھی ناکام رہی۔ ایک ایسے وقت میں جب قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ اور بڑھتے ہوئے معاشی چیلنجز کے سبب ملک میں ہم آہنگی، اشتراک عمل اور تعاون کی فضا پیدا کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، غیر آئینی حرکتوں اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے بحران، انتشار اور داخلی تنازعہ کی افسوسناک صورت دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ان حالات میں ایک دوسرے پر الزام عائد کرنے کی بجائے، یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ یا دوسری غیر ملکی طاقتیں اب پاکستان کا مالی بوجھ اٹھانے پر آمادہ نہیں ہیں اور نہ ہی اب ایسی جنگی معیشت پر انحصار کیا جانا چاہیے جس میں ’حق خدمت‘ کے طور پر کثیر معاوضہ ملتا رہے گا۔ اب ملکی معیشت کو خود انحصاری کے اصول پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ یہ مقصد اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب تمام اسٹیک ہولڈرز غلطیوں کا ادراک کریں اور نئے میثاق معیشت کے بعض بنیادی اصولوں پر اتفاق کرتے ہوئے ایک مشکل، تکلیف دہ اور طویل سفر کی تیار کریں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2239 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments